آسٹریا کی وزیر خارجہ کی شادی میں پیوٹن کا رقص

19 اگست 2018

ای میل

روسی صدر پیوٹن آسٹریا کی وزیر خارجہ کے ساتھ رقص کررہے 
فوٹو: اے پی —
روسی صدر پیوٹن آسٹریا کی وزیر خارجہ کے ساتھ رقص کررہے فوٹو: اے پی —

ویانا: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آسٹریا کی وزیر خارجہ کیرن کینسل کی شادی میں شرکت کی اور اُن کے ساتھ رقص کرکے محفل لوٹ لی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر گلدستہ لے کر روسی میوزیکل بینڈ کے ہمراہ آسٹریا میں منعقدہ شادی کی تقریب میں پہنچے تھے۔

اس دورے کے بعد وہ جرمنی کے دورے پر روانہ ہوں گے جہاں وہ جرمن چانسلر اینجیلا مرکل سے اہم ملاقات کریں گے۔

شادی کی تقریب کی تصاویر میں 53 سالہ کینسل سفید رنگ کے لباس میں صدر پیوٹن کے ہمراہ رقص کرتے ہوئے بھی نظر آئیں، اس دوران دونوں شخصیات کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

آسٹرین وزیر خارجہ کی شادی کی تقریب جنوبے صوبے میں منعقد ہوئی، وہ معروف کاروباری شخصیت وولفینگ میلنگر سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں ۔

آسٹرین وزیر خارجہ کی شادی میں پیوٹن کی شرکت نے آسٹریا اور روس کے بعض حلقوں کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ یورپی یونین اور روس کے درمیان یوکرائن کے کریمیا کے خطے سے الحاق سمیت دیگر معاملات پراختلافات جاری ہیں۔

دوسری جانب آسٹریا میں فریڈم پارٹی کے سربراہ ہائنز کرسچین نے روس کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اُس پر عائد پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اب تک ایسی کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئیں کہ کیرن کینسل روسی صدر کی قریبی دوست ہیں لیکن انہیں اس عہدے پر فریڈم پارٹی کی جانب سے تعینات کیا گیا جن کے پیوٹن کی جماعت سے تعلقات ہیں۔

فریڈم پارٹی کے سربراہ اور آسٹریا کے وائس چانسلر ہائنز کرسچن اسٹریک نے بھی وزیر خارجہ کی شادی میں شرکت کرکے انہیں مبارکباد دی اور سراہا کہ وہ روس اور آسٹریا کے درمیان ’پل کی تعمیر ‘ میں کامیاب ہوئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیوٹن کے دورے کی بے مثال بین الاقوامی کوریج کی گئی، یہ آسٹریا کے لیے بہترین ایڈورٹائزمنٹ ہے۔

سوشل ڈیموکریٹس پارٹی کے جارج لائک فریڈ نے ٹوئیٹ کیا کہ مغربی ممالک اور پیوٹن کے درمیان جاری اختلافات کے باعث یورپی یونین میں آسٹریا ایک نازک وقت سے گزررہا ہے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 19 اگست 2018 کو شائع ہوئی