‘عورتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ مردوں کو لبھانے والا لباس پہنیں’

اپ ڈیٹ 25 اگست 2018

ای میل

خوبصورتی کو پرکھنے کا کوئی ایک اسٹینڈرڈ طریقہ نہیں، اداکارہ—فوٹو: ہما قریشی انسٹاگرام
خوبصورتی کو پرکھنے کا کوئی ایک اسٹینڈرڈ طریقہ نہیں، اداکارہ—فوٹو: ہما قریشی انسٹاگرام

بولی وڈ اداکارہ ہما قریشی نے صرف گورے اور چکنے رنگ کی خواتین کو ہی خوبصورت سمجھنے پر فیشن میگزین، فیشن برانڈز اور میک اپ برانڈز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں اب بھی خواتین کے حوالے سے صنفی تفریق پائی جاتی ہے۔

ہما قریشی کا کہنا تھا کہ اگرچہ خواتین کی خود مختاری اور صنفی مساوات جیسے مسائل اب اہمیت اختیار کر چکے ہیں، تاہم اب بھی خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مردوں کو لبھانے جیسا لباس پہنیں۔

دکن کیرونیکل کے مطابق بھارتی نشریاتی ادارے ‘پی ٹی آئی’ کو دیے گئے انٹرویو میں 32 سالہ اداکارہ کا کہنا تھا کہ اب بھی خواتین پر تنقید کی جاتی ہے اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ معاشرے کی جانب سے بنائے گئے خوبصورتی کے معیارات کو اپنائیں گی۔

ہما قریشی نے لیکمے فیشن ویک میں ریمپ پر واک کی—فوٹو: ہما قریشی انسٹاگرام
ہما قریشی نے لیکمے فیشن ویک میں ریمپ پر واک کی—فوٹو: ہما قریشی انسٹاگرام

اداکارہ کے مطابق خواتین کو اب بھی ایک کاروباری چیز کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اب بھی ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خاص اور محدود طریقہ کار کے تحت چلیں گی اور اس ذہنیت کے پیچھے یہ خیال کار فرما ہے کہ ہم لباس اپنے لیے نہیں بلکہ مرد حضرات کو لبھانے کے لیے پہنتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’فیشن عمر کی قید سے بالاتر‘

اداکارہ کے مطابق انہیں دیدہ زیب لباس پہننا اور حسین نظر آنا اچھا لگتا ہے، لیکن اپنی ذات اور مرضی سے دیدہ زیب کپڑے پہننا الگ اور کسی کے لیے پرکشش نظر آنے کے لیے ایسے لباس کا انتخاب کرنا 2 الگ باتیں ہیں۔

ہما قریشی نے مخصوص انداز اور پیمانے پر خواتین کی خوبصورتی کو پرکھنے پر معاشرے اور لوگوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال سے لوگ منظم منصوبہ بندی کے تحت گوری جلد کو بطور خوبصورتی پیش کرتے آ رہے ہیں۔

انہوں نے فیشن برانڈز، فیشن میگزینز، فیشن شوز کے عہدیداروں اور میک اپ برانڈز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ صرف گوری رنگت والی خواتین کو ہی خوبصورت سمجھا جاتا ہے۔

اداکارہ نے فیشن برانڈز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا—فوٹو: ہما قریشی انسٹاگرام
اداکارہ نے فیشن برانڈز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا—فوٹو: ہما قریشی انسٹاگرام

ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ سانولی اور سیاہ رنگت خاتون کو خوبصورت کیوں نہیں سمجھا جاتا؟۔

مزید پڑھیں: ’مجھے نہیں پتہ ایک ماں کا لباس کیسا ہونا چاہئیے‘

اداکارہ نے بولی وڈ کی سانولی اداکارہ پریانکا چوپڑا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ سانولی ہیں، مگر پھر بھی وہ دنیا کی خوبصورت لڑکی یعنی مس ورلڈ منتخب ہوئیں اور انہوں نے مغرب میں جاکر ثابت کیا کہ سانولی رنگت بھی خوبصورتی کا معیار ہوتی ہے۔

ساتھ ہی اداکارہ نے واضح کیا کہ خوبصورتی کا کوئی ایک اسٹینڈرڈ نہیں، وہ کہیں بھی، کسی بھی صورت میں ہوسکتی ہے، وہ ایسی نہیں ہے جیسا اسے میگزینز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اداکارہ نے یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں دیا ہے، جب بھارت میں معروف ‘لیکمے فیشن شو‘ کا آغاز ہوا ہے، جس میں وہ اپنے بھائی اداکارہ ثاقب سلیم کے ساتھ ریمپ پر جلوہ گر ہوئیں۔

اداکار نے خصوصی انٹرویو میں خواتین کے فیشن، لباس اور اس پر عام لوگوں کے خیالات پر بھی کھل کر بات کی۔

اداکارہ نے اعتراف کیا کہ انہیں دیدہ زیب لباس پہننا اچھا لگتا ہے—فوٹو: ہما قریشی انسٹاگرام
اداکارہ نے اعتراف کیا کہ انہیں دیدہ زیب لباس پہننا اچھا لگتا ہے—فوٹو: ہما قریشی انسٹاگرام