پاکستان کو اپنا ہاکنگ کب ملے گا؟

ای میل

جب لیجنڈری ماہرِ فزکس اسٹیفن ہاکنگ کی رواں سال وفات ہوئی تو یہ خبر دنیا بھر میں شہہ سرخیوں کی زینت بنی۔ اس کے فوراً ہی بعد لاہور اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں نے مجھے غیر سائنسی پس منظر رکھنے والے شرکاء کے سامنے اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی اور ان کی سائنسی خدمات پر بات کرنے کے لیے مدعو کیا۔ سیشنز کے بعد جو سوال و جواب ہوئے، وہ ہمارے نوجوان پاکستانیوں کی موجودہ ذہنیت کے دلچسپ عکاس ہیں۔ سائنس اور مذہب کے درمیان تعلق سے متعلق ان کے خوف و خدشات بھی واضح طور پر نظر آئے۔

اسٹیفن ہاکنگ نے جن سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، ان کی گہرائی سے متاثر ہو کر ایک طالبِ علم نے جوشیلے انداز میں سوال کیا: سر، آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاکستانی اسٹیفن ہاکنگ کب ہوگا؟ کیا ہمارے پاس اس کے لیے وسائل نہیں ہیں؟

یہ ایک منصفانہ سوال ہے۔ پاکستان نے اچھے کرکٹرز، اسکواش کھلاڑی، فائٹر پائلٹ، سپاہی، موسیقار، آرٹسٹ، شاعر، لکھاری اور ڈاکٹر پیدا کیے ہیں۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے انٹرپرینیورز نے امریکا کی سلیکون ویلی میں زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں اور امریکا میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حیران کن حد تک امیر ہیں۔ امریکی اور یورپی یونیورسٹیوں کی فیکلٹی کی فہرست کا جائزہ لیں تو آپ کو کچھ پاکستان سے تعلق رکھنے والی فیکلٹی بھی مل جائے گی جن میں زیادہ تر تاریخ دان، سیاسی سائنسدان، ماہرینِ معاشیات اور یہاں تک کہ کچھ ماہرینِ حیاتیات اور میڈیکل ریسرچرز بھی مل جائیں گے۔

مگر جو نہیں ملتے، وہ پاکستانی ریاضی دان ہیں۔ جب میں نے انٹرنیٹ پر دنیا کے ٹاپ 20 شعبہ ریاضی کی فیکلٹی کھنگالی تو اس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد صفر تھی۔ جنوبی ایشیائی نام صرف ہندوستانی تھے (اور بہت سارے تھے)۔ میں نے کچھ ایرانی نام بھی دیکھے۔ اور ہاں، چینی تو ہمیشہ موجود ہی ہوتے ہیں۔

اس کے بعد میں نے دوسرے درجے کی غیر ملکی یونیورسٹیوں کی فیکلٹی کا جائزہ لیا۔ اس میں بھی نتیجہ وہی۔ شعبہ ریاضی کی فیکلٹی میں پاکستانی نام نظر ہی نہیں آتے، جبکہ ماہرینِ فزکس تھوڑے بہت نظر آجاتے ہیں۔ یہ مضمون تحریر کرنے سے قبل کی گئی انٹرنیٹ سرچ اور بیرونِ ملک 6 ساتھیوں سے حاصل شدہ اندازوں کو ملا کر دیکھیں تو پوری مغربی دنیا میں صرف 15 سے 20 پاکستانی ماہرینِ فزکس (تمام شعبوں میں، صرف تھیوریٹیکل فزکس نہیں) فیکلٹی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

اس دانشورانہ غربت کی کیا توجیہہ پیش کی جاسکتی ہے؟ پیسوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ تھیوریٹیکل سائنسز میں کسی قسم کے مہنگے آلات یا عظیم الشان لیبارٹریوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ضرورت ہوتی ہے تو صرف اسکول کی اچھی تعلیم کی جو مسئلے کا حل تلاش کرنے میں ماہر ذہن تیار کریں، جس کے بعد ایسے پروفیسروں کی زیرِ نگرانی اعلیٰ تعلیم کی، جنہیں واقعی ریاضی اور فزکس کی سمجھ ہو۔

مگر یہ شرط پوری نہیں ہو پاتی۔ پاکستانی یونیورسٹیوں کے 90 فیصد شعبہ ریاضی کچرا ہیں، جن میں زیادہ تر اسٹاف تیسرے درجے کا ہوتا ہے جسے نہ اپنے مضمون کی معلومات ہوتی ہیں اور نہ اس بات کی پرواہ۔ وہ نام نہاد ریسرچ پیپرز کا سیلاب چھوڑتے ہیں مگر کوئی انہیں نہیں پڑھتا کیوں کہ یہ پڑھنے کے لائق ہی نہیں ہوتے۔ اگر ان پروفیسروں کے سامنے ریاضی کا کوئی ایسا سوال رکھ دیا جائے جسے امریکا کی کسی اچھی یونیورسٹی میں سیکنڈ ایئر کے طالبِ علم کو امتحان میں پاس ہونے کے لیے حل کرنا ہوتا ہے، تو ان میں سے 90 فیصد کے پسینے چھوٹ جائیں گے۔

ادارہ جاتی غیر فعالیت کی وجہ سے پاکستان میں ٹیلنٹ کو پروان چڑھانا انتہائی مشکل کام ہے۔ پھر بھی امید تھی کہ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں ایسے ذہین دماغ موجود ہوں گے جو بھلے ہی ہاکنگ یا کیمبرج کے آس پاس کے نہ ہوں، مگر پھر بھی ریاضی اور فزکس کو بالآخر پروان چڑھا سکیں گے۔ مگر جب وہاں حاسد ساتھی احساس کمتری کی وجہ سے وہاں سے پاکستان کے بہترین ریاضی دان کو نکلوانے میں کامیاب ہوگئے، تو امید بجھ سی گئی۔

مزید پڑھیے: اسٹیفن ہاکنگ نے ایک پاکستانی لڑکی کی زندگی کیسے بدلی؟

ہاکنگ کی موت کے بعد ہونے والے ان ایونٹس میں ہر کوئی اس غیر معمولی معذور شخص کی کامیابیوں سے متاثر نہیں تھا۔ ایک طالبِ علم نے انٹرنیٹ پر پڑھ رکھا تھا کہ ہاکنگ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے پوچھا: ہاکنگ نے تو کوئی نئی مشین یا ڈیوائس ایجاد نہیں کی، ان کے بلیک ہولز بیکار شے ہیں کیوں کہ نظر تو وہ آتے ہی نہیں۔ تو اتنا شور و غلغلہ کیوں؟

ان کے اس سوال میں خالص سائنسز کے لیے منفی خیالات پنہاں تھے، یہ ایک عام رویہ ہے۔ ریاضیاتی ذہن رکھنے والے اس عظیم سائنسدان کا کام کائنات کی ابتداء اور اسپیس ٹائم یعنی زمان و مکان کی پیچیدہ خصوصیات کے گرد گھومتا ہے۔ ان پیچیدگیوں کو سمجھنے میں سالوں کی سخت محنت لگتی ہے۔ مگر پھر کیا ہوتا ہے؟ کوئی دولت کے انبار نہیں، کوئی جان بچانے والی ایجاد نہیں، کوئی بڑا بم نہیں، ان دریافتوں سے ایسا کچھ بھی نہیں ملتا۔

خالص ریاضی اور سائنسز خوشی خوشی اپنی اس بیکاری کا اعتراف کرتی ہیں۔ ان کی بنیاد صرف انسانی تجسس اور اپنی کائنات کے بارے میں جاننے کی نہ بجھنے والی پیاس پر قائم ہوتی ہے۔ مشہور انگریز ریاضی دان جی ایچ ہارڈی (1877ء-1947ء) کو اپنے تھیوریمز کے حقیقی دنیا میں کارآمد نہ ہونے پر فخر تھا۔ اگر انہیں ان تھیوریمز کے آج وسیع پیمانے پر استعمال کا معلوم ہوجائے تو انہیں یقیناً بے انتہا حیرت ہوگی۔

لیکن پھر بھی خالص ریاضی و فزکس اور دیگر سائسنز میں ہونے والے بنیادی کام انسانی ترقی کی وجہ بنے۔ ان کے بغیر آپ اور میں ابھی بھی بکریاں چرا رہے ہوتے یا پھر گندم و مکئی اگا رہے ہوتے، اونٹوں اور گھوڑوں پر سفر کر رہے ہوتے اور 40 کی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی ہلاک ہوچکے ہوتے یا ہو رہے ہوتے۔ سائنس، بالخصوص ریاضی و فزکس نے ہمیں آج کی دنیا دی ہے مگر ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔

کسانوں، دکانداروں، پراپرٹی ڈیلروں، کاروباریوں اور سپاہیوں کی قوم یہ نہیں سمجھ سکتی اور نہ ہی اسے پرواہ ہے۔ امریکی معاشرے کے بے وقوف، بالخصوص بائبل بیلٹ اور ٹرمپ کے حامی وسط مغربی ریاستوں کے رہائشیوں میں اس بکواس کے لیے صبر نہیں ہے۔ ارتقائی حیاتیات یا پھر ماحولیاتی سائنس کے بارے میں تو وہ بالکل بھی سننا نہیں چاہتے۔

مگر پھر بھی امریکا اور یورپ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ روشن خیال ہے۔ وہاں البرٹ آئن اسٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ نے وہ شہرت حاصل کی ہے جو اسپورٹس اور راک اسٹارز کی مختصر شہرت سے کہیں زیادہ عرصے تک قائم رہے گی۔ تعلیم یافتہ افراد جانتے ہیں کہ ریاضی اور فزکس انسانی دانشورانہ ارتقاء کا بلند ترین نقطہ ہوتے ہیں اور یہ کہ ہم اپنے سے نیچے موجود انواع سے ایک اہم انداز میں مختلف ہیں: یعنی صرف انسان ہی ریاضیاتی انداز میں سوچ سکتا ہے اور دلائل پر مبنی بیانات کی ایک طویل لڑی کو سمجھ سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: اسٹیفن ہاکنگ کے لیے زندگی کی سب سے بڑی مسٹری

اگر ہم اس کلیے کو سمجھ جائیں تو بہترین اور ذہین نوجوان ذہن 'بیکار' ریاضی و فزکس کی جانب راغب ہوں گے۔ ہاکنگ ایسے معاشرے میں پیدا ہوئے جسے سائنس کی سمجھ ہے اور وہ اس کی معترف بھی ہے۔

پاکستان میں بے تحاشہ ذہین بچے ہیں۔ کراچی میں ایک غیر معمولی طور پر ذہین 10 سالہ بچے سے ملاقات کرکے میں ہکا بکا رہ گیا۔ سچ کہیں تو تھوڑا سا حسد بھی ہوا۔ وہ ملٹی ویری ایبل کیلکولس میں 10 سال کی عمر میں ہی مہارت حاصل کرچکا تھا، جبکہ میں نے یہ 18 سال کی عمر میں سیکھے تھے اور پھر بھی وہ لاتعداد دیگر بچوں کی طرح بینکنگ یا انشورنس جیسے کسی عام سے شعبے میں جا پہنچے گا۔ حتمی طور پر سماجی اقدار ہی اس سب کا فیصلہ کرتی ہیں۔

پاکستان کو اپنا ہاکنگ اس وقت ملے گا جب اس کے ذہین بچے ڈاکٹر، وکیل، مبلغ یا فوجی افسر بننے کے بجائے سائنسدان بننے کی طرف راغب ہوں گے۔

مگر باقی دنیا کی طرح پاکستان کو بھی پہلے سائنس کو مذہب سے جدا کرنا ہوگا، اسکولوں میں تجسس کی حوصل افزائی کرنی ہوگی، اپنی یونیورسٹیوں میں میرٹ پر سختی سے عملدرآمد کروانا ہوگا اور دماغ کو روٹی پر فوقیت دینی ہوگی۔

اور ایسا مستقبل قریب میں تو نہیں ہونے والا، لہٰذا ابھی سے انتظار نہ کریں۔


انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 25 اگست 2018 کو شائع ہوا۔