’کراچی میں بس منصوبے کیلئے چینی بینک 10 کروڑ ڈالر دے گا‘

26 اگست 2018

ای میل

اسلام آباد : چین کے ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے رواں سال کے اختتام تک کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ پروجیکٹ (کے بی آر ٹی ) کے لیے 10 کروڑ ڈالر قرضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مذکورہ بینک کی جانب سے سندھ کے منصوبوں کے لیے منظور کیا جانے والا یہ دوسرا منصوبہ ہوگا۔

اے آئی آئی بی کراچی واٹر اور سیوریج پروجیکٹ کے لیے 16 کروڑ ڈالر کی ایک درخواست پر بھی غور کررہا ہے۔

بینک کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ رواں سال کے اختتام تک رقم کی منظوری دے گا۔

علاوہ ازیں اس پروجیکٹ کے لیے ایشین ڈیولمپنٹ بینک بھی 39 کروڑ ڈالر دینے پر راضی ہے جس کے بعد مختلف ترقیاتی بینکوں سے فنانسنگ کے بعد مجموعی طور پر پروجیکٹ پر 58 کروڑ 20 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی جبکہ سندھ حکومت اس پروجیکٹ میں 9 کروڑ 25 لاکھ ڈالر لگائے گی۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے ساتھ ملکی پارٹنر شپ کے تحت مذکورہ پروجیکٹ کا تخمینہ 22 کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا جس میں شہری ٹرانسپورٹ کو بہتر بناتے ہوئے غریبوں کے لیے سفر کو آسان بنانا اور ٹرانسپورٹ سسٹم سے آلودگی کو کم کرنا شامل ہیں۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے قرض کی صورت میں پروجیکٹ ڈیزائن کے لیے پیشگی 97 لاکھ ڈالر کی منظوری دی ہے، یہ رقم منصوبے کی منیجمنٹ اور تمام انتظامات میں خرچ ہوگی، جس میں پروجیکٹ کے تفصیلاتی انجینئرنگ ڈیزائن،آپریشنل ڈیزائن اور بزنس ماڈل سمیت بس ریپڈ ٹرانزٹ کے ڈیزائن کی تیاری شامل ہے۔

مزید پڑھیں : حکومت سندھ نے کراچی ریپڈ ٹرانزٹ میں بحالی منصوبے کی منظوری دے دی

سندھ حکومت نے 50 لاکھ ڈالر پروجیکٹ میں گرین کلائمیٹ فنڈ کی مد میں خرچ کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، بینک دستاویزات کے مطابق اگر اس رقم کو استعمال میں لایا جاتا ہے تو ایشین ڈیولپمنٹ کی فنانسنگ رقم خود اس حساب سے کم ہوجائے گی۔

2017 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 1 کروڑ 49 لاکھ سے 2 کروڑ 30 لاکھ کے درمیان ہے، گزشتہ دو دہائیوں میں کراچی کی آبادی میں فی ایکڑ 2 سو 82 افراد کا اضافہ ہوا ہے جس سے کراچی کی آبادی سالانہ 2.2 فیصد بڑھی ہے۔

آبادی کے اس اضافے کے باعث تمام علاقے انفرااسٹرکچر کی کمی اور بدحالی کا شکار ہیں ، یہی وجہ ہے کہ کراچی دنیا کے رہائش کے لیے بدترین شہروں کی فہرست میں شامل ہے، اس درجہ بندی میں ٹریفک جام اور اس سے پیدا ہونے والے شور نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ریپڈ ٹرانزٹ کے ایک کلومیٹر ریڈئیس میں موجود 15 لاکھ افراد اس پروجیکٹ سے مستفید ہوسکیں گے، جن میں اکثریت ان مسافروں کی ہوگی جو بسوں میں سفر کرتے ہیں جبکہ نجی گاڑیوں اور موٹرسائیکل سوار بھی اس پروجیکٹ سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : چینی کمپنی کا سندھ میں انٹرسٹی بس سروس کا اعلان

28 کلومیٹر طویل کوریڈور کی تعمیر میں 25 اسٹیشنز اور ان سے ملحقہ لائن بھی شامل ہوں گی، 2 کلومیٹر طویل ایک اور کوریڈور تعمیر کیا جائے گا جس میں 3 اسٹیشنز بھی شامل ہوں گے۔

پروجیکٹ کے راستے میں آنے والے کچھ چھوٹے کاروباری اداروں اور نجی ملکیت کی عمارتوں متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 26 اگست 2018 کو شائع ہوئی