عامر لیاقت اور ان کے یوٹرن

اپ ڈیٹ 30 اگست 2018

ای میل

کراچی کے حلقے این اے 245 سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے جہاں ایک طرف اپنی ہی جماعت کے خلاف عَلم بغاوت بلند کیا تو وہیں مختلف مواقع ایسے بھی آئے جب وہ اپنے مؤقف سے یوٹرن لیتے ہوئے پیچھے ہٹ گئے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو الوداع کہنے کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہونے والے عامر لیاقت کی شخصیت متنازع رہی ہے، کبھی ان پر نفرت انگیز تقاریر کا الزام لگتا رہا تو کبھی ان کے پروگرام پر پابندی بھی لگی، یہاں تک کہ انہیں توہین عدالت کے نوٹس کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

تحریک انصاف میں شامل ہونے سے قبل اور بعد میں عامر لیاقت کے مؤقف میں جو تبدیلیاں آئیں وہ حیران کن تھیں۔

عامر لیاقت حسین کی جانب سے اپنی پارٹی سے حالیہ اختلافات اس وقت سامنے آئے جب دو روز قبل اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں پہلے ہی پوزیشن کلیئرکردوں گورنر ہاؤس میں اس وقت کراچی کے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز کا کا اجلاس ہورہا ہے لیکن بوجوہ اس میں مجھے نہیں بلایا گیا۔۔۔ کوئی بات نہیں! اس طرح ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘۔

بعد ازاں عامر لیاقت حسین سماء ٹی وی کے پروگرام آواز میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کی قیادت پر برس پڑے اور کہا کہ کراچی والوں کی وجہ سے عمران خان وزیر اعظم بنے اگر یہ نہ ہوتے تو عمران خان وزیراعظم بھی نہ ہوتے۔

مزید پڑھیں: عامر لیاقت عمران خان سے خفا، پی ٹی آئی پر برس پڑے

انہوں نے چیئرمین تحریک انصاف سے شکوہ کیا کہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد 11 دن گزرچکے ہیں لیکن عمران خان نے مزار قائد پر اب تک حاضری نہیں دی ہے۔

پروگرام میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’میرا ایک ہی مقصد ہے کہ ایف سی ایریا، مارٹن کوارٹرز والوں کو لیز ملے‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’اگرایف سی ایریا کوارٹرز متاثرین کو گھر نہ دلواسکا تو استعفیٰ دے دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ گاڑیاں اور چائے کی پیالیاں ختم کرنے سے تبدیلی نہیں آسکتی، عمران خان کے اردگرد خوشامدیوں کے ٹولے ہیں ،عمران خان کل بھی درست تھے آج بھی درست ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’وزارت کی کبھی خواہش نہیں تھی، اگر وزارت دی بھی تو وہ اسے نہیں لیں گے اور کراچی سے صدر لانا لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے‘۔

عامر لیاقت نے تحریک انصاف، اس کی قیادت، اس کی پالیسیوں اور تنظیم سازی پر بھی تنقید کی تھی۔

اس کے بعد عامر لیاقت نے پارٹی سے خفا ہوکر پارٹی کا مرکزی واٹس ایپ گروپ بھی چھوڑ دیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے واٹس ایپ گروپ کا اسکرین شاٹ بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہا تھا جس میں 'عامر لیاقت لیفٹ' لکھا ہوا نظر آرہا تھا۔

تاہم اس پوری صورتحال پر تحریک انصاف کی جانب سے ردعمل بھی دیکھنے میں آیا، تحریک اںصاف کے رہنما فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ’ عامر لیاقت دل کے اچھے آدمی ہیں لیکن وہ جذباتی ہیں، تاہم وہ ہماری جماعت کے رکن ہیں اور ہم انہیں منا لیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’آپ تحریک انصاف میں رہتے ہوئے اسی پر الزام تراشی کرکے عمران خان کے قریب پہنچ سکتے ہیں تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے، انہوں نے اپنے ہی وزیر اعظم کے خلاف بول کر نابالغ پن کا ثبوت دیا‘۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ’ دنیا میں کوئی شخص اپنے شیطانی دماغ یا غلیظ زبان سے کسی کے بارے میں پروپیگنڈا کرے گا تو لوگ اس سے ڈر جائیں گے تو میں ایسے شخص کی زبان کے ساتھ جوتے کا سول بنانا جانتا ہوں‘۔

دلچسپ صورتحال اس وقت دیکھنے میں آئی جب گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ’عامر لیاقت کی بات پر تبصرہ کرنا، خدا ہم سب کو ہدایت دے‘۔

صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت کی بات پر وہ کچھ نہیں کہہ سکتے، اس معاملے پر عمران خان ہی بتائیں گے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ عامر لیاقت کے اپنی نئی جماعت تحریک انصاف سے اختلافات سامنے آئے ہوں، اس سے قبل انتخابات میں ٹکٹ دینے کے معاملے پر بھی وہ کراچی کی مقامی قیادت سے سخت ناراض نظر آئے تھے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی پر تنقید کی تھی اور انہیں بچکانہ سوچ والا شخص کہا تھا۔

اس تمام معاملے پر فردوس شمیم نقوی نے نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ عامر لیاقت نے مسئلہ واضح طریقے سے بیان کردیا ہے، جہاں تک عمران خان کی دلچسپی کا معاملہ ہے تو اس کے لیے پہلے ہی کراچی پیکیج کا اعلان کیا گیا، اس کے علاوہ کراچی کو قومی دھارے میں لانے کے لیے صدر پاکستان کے امیدوار عارف علوی ، گورنر سندھ، رزاق داؤد، اسد عمر، عشرت حسین، فروغ نسیم، خالد مقبول صدیقی اور دیگر لوگوں کو کراچی سے شامل کیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ عامر لیاقت سے بات چیت کے دوران احساس محرومی کے موضوعات سامنے رکھیں گے اور یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے اور تمام معاملات پر بات پارٹی کے اندر ہی کریں گے‘۔

فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ ’عامر لیاقت کے بیانات سے تکلیف ہوئی اور جہاں تک فارورڈ بلاک کا سوال ہے تو نہ ہی ایسا ممکن ہے اور نہ ہمارے دماغ میں کبھی ایسا خیال آیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پارٹی کا ضابطہ اخلاق کہتا ہے کہ پارٹی سے متعلق کوئی معاملہ میڈیا میں نہیں لے جایا جائے گا ، لہٰذا اس معاملے کو دیکھنے کے بعد پارٹی کا لائحہ بتایا جائے گا‘۔

عامر لیاقت کی پی ٹی آئی میں شمولیت

19 مارچ 2018 کو تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے خان صاحب کو جوائن نہیں کیا بلکہ پاکستان کو جوائن کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے تحریک اںصاف میں آتے آتے دیر کردی لیکن میرا آخری مقام تحریک انصاف ہی ہے اور یہ میری آخری پارٹی ہے اور یہاں سے نکلنے کا سوال ہی نہیں ہوتا‘۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ ’تحریک انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ دیر سے کیا ہے تو اس میں دیر تک ہی رہیں گے‘۔

عامر لیاقت نے کہا تھا کہ ’تحریک انصاف تو وہ دلہن ہے،جسے ماں باپ کہہ کر بھیجتے ہیں کہ بیٹا یہاں سے جانا تو پھر جنازے کے ساتھ جانا‘۔

25 مئی کو کراچی میں جلسے سے خطاب میں عمران خان کی تعریف میں عامر لیاقت نے کہا تھا کہ ’ عمران خان اب آدھے مہاجر نہیں بلکہ ڈیڑھ مہاجر ہوگئے ہیں، آدھے وہ خود ہیں اور ایک ان کے ساتھ (عامر لیاقت) شامل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ عمران خان ہم جب آتے ہیں تو دل سے آتے ہیں اور اب آپ کو چھوڑ کر جانے کا دل نہیں چاہتا‘۔

تحریک انصاف میں شامل ہونے کے بعد عامر لیاقت حسین اپنی جماعت کا دفاع کرتے ہوئے بھی نظر آئے مگر پی ٹی آئی میں شمولیت سے پہلے ان کا موقف کچھ اور ہی تھا۔

تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل

عامر لیاقت کی جانب سے تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل اور بعد کے مؤقف میں واضح فرق نظر آیا۔

تحریک انصاف میں شامل ہونے سے قبل عامرلیاقت کا کہنا تھا کہ ’تحریک اںصاف والے ٹوئٹر پر جو لکھتے ہیں، ان کی ماؤں نے انہیں یہ تربیت دی ہے‘، میں سلیم صافی، ارشد شریف یا عاصمہ شیرازی نہیں جو آپ کی گالیوں پر چپ ہوجاؤں، میں آپ کا تعاقب کروں گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم بتائیں گے کہ تحریک انصاف کا کتنا گندا، گھٹیا، گھناؤنا، مکروہ اور غلیظ چہرہ ہے، جو اپنی ماؤں کو گالیاں دیتے ہیں‘۔

عامر لیاقت نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ ہم آپ (عمران خان) کی طرح نئے پاکستان والے نہیں ہیں بلکہ ہم پرانے پاکستان والے ہیں،جہاں ہماری ماؤں نے ہماری تربیت کی تھی‘۔

پی ٹی آئی میں شمولیت سے قبل عامر لیاقت نے عمران خان کے بارے میں ذاتی نوعیت کی بھی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ’عمران نام سے تو میری کبھی بنی نہیں ہے‘۔

عامر لیاقت حسین نے نہ صرف یہ بلکہ عمران خان کی شادی کے معاملات پر بھی انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور یہاں تک کہا تھا کہ ’عمران خان دھرنے کا مقصد ہی شادی سمجھتے ہیں اور دھرنے کے بعد ہی شادی ہوجاتی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: عامر لیاقت کے پروگرام پر پابندی عائد

انہوں نے کہا تھا کہ ’عمران خان کے ہاتھ میں اقتدار حوالے نہیں کرنا چاہیے، وہ صبح کچھ ہوتے ہیں اور شام میں کچھ ، ان کی رائے اچانک بدل جاتی ہے‘۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے سے قبل اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو خیرباد کہنے کے بعد انہوں نے سیاست تک چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، تاہم وہ اپنے اس اعلان پر بھی پورا نہیں اترسکے۔

23 اگست 2016 کو انہوں نے کہا تھا کہ ’آج میں نے سیاست چھوڑ دی اور میں اپنا فیصلہ واپس نہیں لوں گا، میں سیاست سے دور ہوگیا، یہ میری خوشی تھی لیکن میں نے اسے چھوڑ دیا‘۔

انہوں نے کئی مرتبہ کہا کہ میں واپس کبھی سیاست میں نہیں آؤں گا، میں نے تمام سیاسی سرگرمیاں چھوڑ دیں‘۔