مصر میں پہلی بار عیسائی خاتون گورنر کے عہدے پر فائز

31 اگست 2018

ای میل

قاہرہ: مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ملکی تاریخ میں پہلی بار قبطی عیسائی خاتون کو صوبے کا گورنر مقرر کر دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق منال عواد میخائل کو دمیاط صوبے کی گورنر مقرر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل وہ جیزہ میں ڈپٹی گورنر کے عہدے پر فائز تھیں۔

مصر میں حالیہ ہونے والی تقرریوں اور تبادلوں میں قاہرہ، جیزہ، الاقصر،اسوان ،شمالی سینائی صوبوں میں نئے گورنرز کی تقرریاں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال مصر میں پہلی بار کسی خاتون کو بحیرا صوبے کا گورنر مقرر کیا تھا۔ جمعرات کو ہونے والے تبادلوں میں بحیرا کی گورنر کو بھی تبدیل کردیا گیا۔

قبطی عیسائی مصر کی اقلیت ہیں جو 10 کروڑ مسلم اکثریتی آبادی کا 10 فیصد حصہ ہیں۔

قبطی عیسائی ایک عرصے سے امتیازی سلوک کی شکایت کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں اعلیٰ حکومتی سطح پر نمائندگی نہیں دی جاتی۔

مزید پڑھیں: مصر: عبدالفتح السیسی نے دوسری بار صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

خیال رہے کہ مصر کی عیسائی برادری صدر عبدالفتاح السیسی کی بھرپور حامی ہے۔

مصر کی موجودہ کابینہ میں آٹھ خواتین وزراء کی نمائندگی ہے جو مصر کی جدید تاریخ کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

افریقہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق فروری 2017 میں مصری حکومت میں خواتین کی نمائندگی کا آغاز اس وقت ہوا، جب صدر عبدالفتاح السیسی نے نادیہ احمد عبدالصالح کو بحیرا صوبے کی گورنر کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔

قبطی عیسائی مصری اقلیت کا حصہ ہیں جن کی عبادت گاہیں ماضی میں دہشت گرد حملوں کا شکار بھی رہی ہیں۔

یاد رہے کہ عبدالفتاح السیسی نے رواں برس جون میں دوسری چار سالہ مدت صدارت کا حلف اٹھایا تھا۔

عبدالفتح السیسی، جنہوں نے بطور آرمی چیف آزاد طریقے سے منتخب ہونے والے ملک کے پہلے صدر محمد مرسی کی حکومت کا 2013 میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد تختہ الٹ دیا تھا، 2014 میں پہلی بار بھاری اکثریت سے ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔