کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں مفرور قرار دیئے گئے ملک ریاض کے داماد زین ملک نے بھی مقامی عدالت میں پیش ہو کر 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی۔

زین ملک کو مبینہ طور پر سمٹ بینک کے جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے مشتبہ 4 ارب 14 کروڑ روپے کی منتقلی سے فائدہ اٹھانے کے الزام میں دیگر 19 افراد کے ساتھ مفرور قرار دیا گیا تھا۔

اس سے قبل وہ ہفتے کے روز ضمانت حاصل کرنے کے لیے عدالت میں حاضر ہوئے تھے جس پر انہیں 10 لاکھ روپے کے عوض ضمانت دے دی گئی تھی، لیکن مذکورہ رقم عدالت میں جمع نہیں ہوسکی تھی جس کی وجہ سے وہ ایک مرتبہ پھر پیر کے روز عدالت میں پیش ہوئے اور زرِ ضمانت جمع کروایا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق بینکر حسین لوائی سے ایف آئی اے کی تفتیش

عدالت میں ضمانت کے لیے دائر درخواست میں ان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مؤکل نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ساڑھے7 کروڑ روپے اومنی گروپ کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مدعی کا کردار صرف رقم جمع کروانے کا تھا جو انہوں نے جائیداد کی خریداری کے سلسلے میں کراس چیک کے ذریعے جمع کروائی تھی۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ زین ملک کسی قسم کی منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں اور وہ خود ٹرائل کورٹ میں پیش ہونا چاہتے تھے لیکن عدالت کی جانب سے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے تھے جس کی بنا پر ایف آئی اے انہیں گرفتار کرسکتی تھی۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: حسین لوائی جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کے وارنٹ گرفتاری واپس لیتے ہوئے ضمانت قبل از گرفتاری دے دی جائے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سابق چیئرمین حسین لوائی، بینکر طحٰہ رضا کو مبینہ طور پر 92 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت فراہم کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

ان اکاؤنٹس کے ذریعے مختلف کمپنیوں کو مشتبہ رقم منتقل کی گئی تھی اور ان میں زرداری گروپ بھی شامل تھا۔

اس حوالے سے درج ایف آئی آر میں الزام تھا کہ ’اے-ون انٹرنیشنل‘ کے عنوان سے طارق سلطان کے نام سے سمٹ بینک میں جعلی اکاؤنٹ کھولا گیا جس میں بعد ازاں منی لانڈرنگ کی غرض سے غیرقانونی فنڈز رکھے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: ایف آئی اے کی جے آئی ٹی بنانے کی درخواست

ایف آئی آر کے مطابق اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے 6 مارچ 2014 سے 12 جون 2015 تک 4 ارب 14 کروڑ روپے جمع اور منتقل کیے گئے۔

اس سلسلے میں مبینہ طور پر 13 مختلف کاروباری اداروں کو رقم منتقل کی گئی جس میں زرداری گروپ نے بھی ڈیڑھ کروڑ روپے وصول کیے، جو سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی ملکیت ہے۔

21 جولائی کو تحقیقاتی افسر نے عدالت میں جعلی اکاؤنٹس سے رقم کی منتقلی سے فائدہ اٹھانے پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور اور دیگر 20 ملزمان کے خلاف عبوری چالان پیش کیا تھا اور انہیں مفرور قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری اور فریال تالپور مفرور قرار

مفرور قرار دیے جانے والے افراد میں کاروباری شخصیت انور مجید ان کے 4 بیٹے، شہزاد علی اور زین ملک بھی شامل تھے۔

اس سے قبل سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ پہلے ہی ٹرائل کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کرچکے ہیں۔


یہ خبر 4 ستمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔