اسلام آباد: عوام پہلے ہی بجلی کے نرخ میں 2 روپے فی یونٹ اضافے کے نوٹیفکیشن کے اجرا کا انتظار کر رہی ہے ایسے میں حکومت جانب سے بجلی کی ترسیل کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین پر ایک کھرب 80 ارب روپے کا بوجھ ڈالے جانے کا امکان ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے عوامی سماعت کے دوران 6 کمپنیوں کی جانب سے بجلی کی خریداری کی قیمت (پی پی پی) کے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ برائے مالی سال 18-2017 کے حوالے سے درخواستوں کو نمٹا دیا۔

مذکورہ درخواستوں پر عوامی سماعت چیئرمین نیپرا طارق سدوزئی کی سربراہی میں پنجاب کے سیف اللہ چٹھہ اور بلوچستان کے رحمت اللہ بلوچ پر مشتمل کمیٹی نے کی۔

واضح رہے کہ وزیرِاعظم نے پہلے ہی صارفین کے بجلی کے نرخ میں 2 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس حوالے سے نوٹیفکیشن کے اجرا کا انتظار ہے۔

مزید پڑھیں: نیپرا کی کے الیکٹرک کو نرخ کم کرنے کی ہدایت

سماعت کے اختتام پر ایک نیپرا حکام نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ 18-2017 میں 4 سہ ماہی کے دوران بجلی کی خرید کے فرق کے حساب سے پیشگی مدت ایڈجسٹمنٹ کا اضافی بوجھ پہلے سے بڑھے ہوئے صوبوں کے ہائیڈل منافع سے زیادہ ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے 4 سہ ماہ کے لیے ہائیڈیل منافع کا مجموعی اثر تقریباً 250 ارب روپے تھا، تاہم پہلے ہی اس میں سے 70 ارب روپے کو صارفین کا حصہ بنایا جاچکا ہے تاہم اب یہ اثر 180 ارب روپے ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نیپرا کی جانب سے عوامی سماعت کی بنیاد پر ٹیکنیکل اور مالی قواعد و ضوابط کو جمعہ کی رات تک مکمل کرلیا جائے گا، جبکہ آئندہ ہفتے کے اختتام تک حتمی فیصلہ بھی جاری کردیا جائے گا۔

نیپرا کی جانب سے جن کمپنیوں کی درخواست پر سماعت کی گئی ان میں گجرانوالہ، ملتان، پشاور، حیدرآباد، سکھر اور کوئٹہ کی کمپنیاں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا کی پاور فرم کو بجلی کے نرخ میں 36 پیسے بڑھانے کی اجازت

ان کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے 16-2015 کے پی وائے ایز کے بارے میں 22 مارچ 2018 کو مطلع کیا گیا تھا، تاہم یہ فیصلے پی پی پی کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے طریقہ کار کو وضع کرتے ہیں۔

لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد اور قبائلی اضلاع کی کمپنیوں کے ٹیرف کو کثیر سالہ ٹیرف کے حصے کے طور پر طے کیا جاچکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ نیپرا نے مالی سال 18-2017 کے دوران گیپکو، میپکو، پیسکو، حیسکو، سیپکو اور کیسکو کے ٹیرف کو پہلے ہی طے کرلیا ہے جس کے حوالے سے حکومتی نوٹیفکیشن کا انتظار ہے۔