اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ تقریباً 2 روپے بڑھانے کی منظوری دے دی، جس کے تحت پاور ڈسٹربیوشن کمپنیاں (ڈسکوز) صارفین سے اضافی 200 ارب وصول کر سکیں گی۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق نیپرا کے فیصلے کے بعد بجلی کی فی یونٹ کی قیمت 11 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 15 روپے 45 پیسے فی یونٹ ہوگئی۔

اس ضمن میں نیپرا نے کوئٹہ، گجرانوالا، سکھر، حیدر آباد اور پشاور کی چھ ڈسکوز کا تعین کرلیا، جن سے 90 ارب روپے وصول ہو سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا کی پاور فرم کو بجلی کے نرخ میں 36 پیسے بڑھانے کی اجازت

اسی سلسلے میں اتھارٹی نے رواں ماہ کے آغاز پر ہی اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد کی 4 ڈسکوز کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) اور ٹرائبل الیکڑک سپلائی کمپنی کو سالانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے لیے مراسلہ لکھا تھا۔

حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال کے لیے ہائیڈیل منافع کا مجموعی اثر تقریباً 250 ارب روپے تھا، تاہم پہلے ہی اس میں سے 70 ارب روپے کو صارفین کے ٹیرف کا حصہ بنایا جاچکا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نیپرا کی جانب سے عوامی سماعت کی بنیاد پر ٹیکنیکل اور مالی قواعد و ضوابط کو جمعہ کی رات تک مکمل کرلیا جائے گا، جبکہ آئندہ ہفتے کے اختتام تک حتمی فیصلہ بھی جاری کر دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: نیپرا کی کے الیکٹرک کو نرخ کم کرنے کی ہدایت

دوسری جانب ڈسکوز نے تازہ شیڈول میں اضافی ٹیرف لا گو کر دیئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے 7 ستمبر کو مالی سال 18-2017 کے پاور پرچیزنگ پرائز کے سہ ماہی ایڈجسمنٹ سے متعلق نیپرا کو حتمی نتائج ملے تھے۔

واضح رہے کہ پاور ڈویژن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو ڈسکو کے ٹیرف برائے مالی سال 16-2015 سے متعلق بریفنگ دی گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے ٹیرف میں اضافے کی منظوری دی۔

اس حوالے سے حکام نے بتایا کہ پاور ڈویژن نے 4 برس کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نیپرا کے متعین کردہ مالی سال 15-2014 اور 16-2015 کے ٹیرف کے لیے نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لوڈ شیڈنگ کے باعث کراچی میں جنریٹر کی فروخت میں اضافہ

ان کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے 16-2015 کے 'پی وائے ایز' کے بارے میں 22 مارچ 2018 کو مطلع کیا گیا تھا، تاہم یہ فیصلے پاور پرچیز پرائزز کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے طریقہ کار کو وضع کرتے ہیں۔

لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد اور قبائلی اضلاع کی کمپنیوں کے ٹیرف کو کثیر سالہ ٹیرف کے حصے کے طور پر طے کیا جاچکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ نیپرا نے مالی سال 18-2017 کے دوران گیپکو، میپکو، پیسکو، حیسکو، سیپکو اور کیسکو کے ٹیرف کو پہلے ہی طے کرلیا ہے، جس کے حوالے سے حکومتی نوٹی فکیشن کا انتظار ہے۔