اقوام متحدہ کی ٹیم کو میانمار میں رخائن تک رسائی مل گئی

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2018

ای میل

اقوام متحدہ نے میانمار کی ریاست رخائن کے شمالی علاقے تک رسائی کی اجازت ملنے پر جائزے کے کام کا آغاز کردیا۔

واضح رہے کہ میانمار کی فوج نے گزشتہ سال ریاست رخائن میں مسلمانوں کی ہلاکت، تشدد اور ریپ میں فوجی اور بدھ مذہب کے پیروکاروں کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا اور فوجی ظلم و ستم کے مارے رخائن کے 7 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ حاصل کی تھی۔

اقوام متحدہ کی جانب سے رخائن میں ہونے والے ظلم کی تحقیقات کے لیے ریاست تک رسائی کی اجازت کا انتظار کیا جارہا تھا۔

مزید پڑھیں: روہنگیا نے اقوام متحدہ سے نسل کشی کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

رخائن میں اقوام متحدہ کا کام انتہائی حساس ہے جہاں ریاستی سرپرستی میں بدھ مذہب کے پیروکاروں نے اپنے مسلمان پڑوسیوں کو ختم کرنے کے لیے فوج کی مدد کی تھی۔

رخائن کے کئی افراد نے بین الاقوامی امدادی گروپس، جن میں اقوام متحدہ بھی شامل ہے، پر روہنگیا کی حمایت کرنے کا الزام لگایا۔

اقوام متحدہ کا یہ اقدام اس لیے بھی مشکل ہوگا کیونکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے میانمار میں روہنگیا کے خلاف ظلم کی مکمل تحقیقات میں تنقید بھی کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روہنگیا تنازع: ’آنگ سان سوچی کو مستعفی ہوجانا چاہیے تھا‘

واضح رہے کہ جمعے کے روز اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) اور اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کو شمالی رخائن میں مقامی سطح پر حالات کو جانچنے کے لیے اجازت دی گئی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق یو این ایچ سی آر کے ترجمان مک ڈونل کا کہنا تھا کہ ’ہماری ٹیم رخائن پہنچ چکی ہے اور جائزہ لینے کا آغاز ہوچکا ہے‘۔

تاہم یہ بات ابھی سامنے نہیں آئی کہ اقوام متحدہ کی ٹیم کن علاقوں کا دورہ کریں گی اور کن کمیونٹیز سے وہ مشاورت کریں گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’امید یہ ہے کہ ابتدائی طور پر قلیل مدت کے لیے اقدامات کیے جائیں گی جو معاہدے کے مطابق آہستہ آہستہ تمام علاقوں تک پھیلائے جائیں گے'۔

لاک ڈاؤن:

قانونی طور پر بغیر ریاستی شناخت کے روہنگیا افراد کو میانمار کے بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے غیر قانونی مہاجرین سمجھا جاتا ہے۔

گزشتہ سال اگست کے مہینے میں میانمار کی فوج نے لاکھوں روہنگیا افراد کو ملک سے دھکیلتے ہوئے سرحد پار کرنے پر مجبور کیا تھا۔

پناہ گزینوں کو رخائن کے شدت پسند گروہوں اور فوج کی جانب سے ریپ، قتل، جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کا سامنا تھا۔

مزید پڑھیں: روہنگیا نے اقوام متحدہ سے نسل کشی کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

رخائن کے شمالی علاقے کو اس وقت سے بند کردیا گیا تھا جبکہ صحافیوں اور مبصرین کو نگرانی میں مختصر دورے کرنے دیے جاتے تھے۔

اقوام متحدہ کی 2 تنظیموں کو اجازت دینے کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب عالمی برادری کی جانب سے روہنگیا افراد کے ساتھ ہونے والے مظالم کے احتساب کی بات کی جانے لگی۔

اقوام متحدہ کے میانمار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فیکٹ فائنڈنگ مشن نے 2 ہفتے قبل رپورٹ شائع کرتے ہوئے کہا تھا کہ میانمار کے آرمی چیف اور 5 دیگر سینیئر عہدیداران کے خلاف گزشتہ سال روہنگیا اقلیت کریک ڈاؤن کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد دی ہیگ کے عالمی کرمنل کورٹ نے بھی اسے سرحدی جرائم قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ انہیں روہنگیا افراد کو ملک بدر کرنے کے خلاف تحقیقات کا اختیار حاصل ہے۔

بعدازاں میانمار کی حکومت نے عالمی عدالت کے بیان کو مسترد کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی براردری روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کیلئے میانمار پر دباؤ ڈالے، شیخ حسینہ

آئندہ ماہ اکتوبر میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران میانمار کا معاملہ زیر بحث آئے گا جس میں میانمار کی سویلین لیڈر آنگ سان سوچی کے حوالے سے کہا بتایا گیا کہ وہ اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گی۔

کسی زمانے میں جمہوریت پسند اور انسانی حقوق کی علامت تصور کی جانے والی آنگ سان سوچی کو مسلمان اقلیت کے خلاف کھڑے نہ ہونے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

میانمار کی جانب سے رخائن میں ہونے والے ظلم کے تمام الزامات کو مسترد کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ان کا یہ اقدام روہنگیا میں شدت پسند افراد کو نکالنے کے لیے تھا۔