تنوشری دتہ کو نانا پاٹیکر اور فلم ہدایت کار کے نوٹسز مل گئے

04 اکتوبر 2018

ای میل

تنوشری دتہ گزشتہ ایک دہائی سے فلم انڈسٹری سے دور ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
تنوشری دتہ گزشتہ ایک دہائی سے فلم انڈسٹری سے دور ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

بولی وڈ ورسٹائل اداکار 67 سالہ نانا پاٹیکر اور فلم ہدایت کار وویک اگنی ہوتری پر فلم کی شوٹنگ کے دوران جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات لگانے والی اداکارہ 34 سالہ تنوشری دتہ کو قانونی نوٹسز مل گئے۔

تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر پر 26 ستمبر کو الزام عائد کیا تھا کہ اداکار نے انہیں 2008 میں فلم ‘ہارن اوکے پلیز’ کی شوٹنگ کے دوران ہراساں کیا۔

اداکارہ نے دعویٰ کیا تھا کہ نانا پاٹیکر ان کے ساتھ نازیبا منظر شوٹ کروانا چاہتے تھے، مگر اداکارہ نے انکار کردیا۔

تاہم نانا پاٹیکر نے اداکارہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کیا تھا۔

نانا پاٹیکر نے تنوشری دتہ کو رواں ماہ یکم اکتوبر کو قانونی نوٹس بھجوانے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم 2 اکتوبر کو تنوشری دتہ نے کہا تھا کہ انہیں نانا پاٹیکر کی جانب سے بھجوایا گیا نوٹس نہیں ملا، تاہم اب اطلاعات ہیں کہ اداکارہ کو ان کا بھجوایا گیا نوٹس مل چکا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق تنوشری دتہ نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ انہیں نہ صرف نانا پاٹیکر بلکہ ہدایت کار وویک اگنی ہوتری کا نوٹس بھی ملا ہے۔

تنوشری دتہ نے گزشتہ ماہ 28 ستمبر کو ہدایت کار اگنی ہوتری پر بھی 2005 میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔

تنوشری دتہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہدایت کار نے فلم ‘چاکلیٹ’ کی شوٹنگ کے دوران ان سے بارش میں کپڑے اتار کر رقص کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم اداکارہ نے انکار کیا۔

وویک اگنی ہوتری نے بھی تنوشری دتہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کیا تھا۔

اور اب تنوشری دتہ کو اداکار اور ہدایت کار پر الزامات لگانے پر قانونی نوٹسز مل گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ہدایت کار نے تنوشری دتہ کے ‘عریاں رقص’ کے الزامات مسترد کردیے

انڈین ایکسپریس کے مطابق تنوشری دتہ نے بیان میں دونوں نوٹسز ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف آواز اٹھانے کی سزا نوٹسز کی صورت میں ملی۔

تنوشری دتہ نے مزید کہا کہ نانا پاٹیکر اور وویک اگنی ہوتری کی ٹیمیں ان کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈٰیا پر غلط معلومات پھیلا رہی ہیں، ان دونوں کی ٹٰیموں نے ان کے خلاف ایک مہم چلا رکھی ہے۔

علاہ ازیں انہوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اگرچہ ان کے گھر حفاظت کے لیے پولیس اہلکار کو تعینات کیا گیا ہے، تاہم گزشتہ روز 2 نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں گھسنے کی کوشش کی۔

تنوشری دتہ نے بتایا کہ جب اہلکار دوپہر کا کھانا کھانے گیا تو 2 نامعلوم افراد نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی، تاہم انہیں عمارت کے دوسرے سیکیورٹٰی عملے نے روکا۔

اس سے قبل تنوشری دتہ نے بھی اعلان کیا تھا کہ انہوں نے بھی نانا پاٹیکر اور وویک اگنی ہوتری کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کی تیاری کرتے ہوئے وکلاء کی خدمات حاصل کرلی ہیں، تاہم تاحال اداکارہ نے کسی کو نوٹس نہیں بھیجا۔

مزید پڑھیں: ‘تنوشری دتہ شوٹنگ کے دوران نشے میں تھیں’

دوسری جانب انڈیا ٹوڈے نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ ریاست مہارا شٹر کے وزیر داخلہ دیپک وسنت کیساکر نے کہا ہے کہ اگر تنوشری دتہ کے الزامات صحیح ہیں اور وہ حق پر ہیں تو انہوں نے پولیس میں مقدمہ درج کیوں نہیں کروایا؟

ریاستی وزیر داخلہ کے مطابق اگرچہ نانا پاٹیکر نے اداکارہ کے الزامات کو مسترد کیا ہے، تاہم پولیس غیر جانبدارانہ تحقیق کرکے جھوٹ اور سچ کو سامنے لائے گی۔

تنوشری دتہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں ملنے اور انہیں سیکیورٹی دیے جانے کے معاملے پر دیپک وسنت کیساکر کا کہنا تھا کہ اداکارہ کو اتنی اہمیت دینے کی ضرورت نہیں، ساتھ ہی انہوں کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ اداکارہ کو کسی کی جانب سے دھمکیاں دی گئی ہیں۔