صوبائی وزیر محمودالرشید کے بیٹے پر پولیس اہلکاروں پر تشدد، اغوا کا الزام

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2018

ای میل

لاہور: بیٹے کی جانب سے مبینہ طور پر 3 پولیس اہلکاروں کا اسلحہ چھین کر انہیں تشدد کا نشانہ بنانے، اغوا کرنے اور دھمکیاں دینے پر صوبائی وزیر پنجاب تنازع کا شکار ہوگئے۔

پولیس نے بتایا کہ یکم اکتوبر کی رات کو لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) پارک کے نزدیک پولیس اہلکار مبینہ طور پر ایک کار میں موجود نوجوان اور لڑکی کو پکڑ کر تھانے لے کر آئے تھے جس پر لڑکے نے صوبائی وزیر برائے ہاؤسنگ میاں محمود الرشید کے بیٹے میاں حسن کو فون کر کے بلایا جو فوری طور پر 2 گاڑیوں میں اپنے 3 دیگر دوستوں کے ہمراہ پہنچ گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ مشتبہ افراد نے اہلکاروں سے اسلحہ چھینا اور انہیں اپنی گاڑیوں میں بٹھا کر فرار ہوگئے، بعد ازاں پولیس اہلکاروں کو مختلف مقامات پر چھوڑ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد: بااثر افراد کا 2 نوجوانوں پر تشدد، داڑھی اور سر کے بال کاٹ دیئے

پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کار سواروں کا پیچھا کیا اور کلوز سرکٹ کیمرہ (سی سی ٹی وی) کی مدد سے ایک کار کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوگئے، جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور صوبائی وزیر میاں محمود الرشید کے نام پر رجسٹر تھی۔

دوسری جانب میاں محمود الرشید نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا بیٹا اپنے دوست کی مدد کرنے گیا تھا، لیکن انہوں نے پولیس اہلکاروں کے اٖغوا اور تشدد کے الزامات سے انکار کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملزمان کے خلاف ایک کمزور مقدمہ درج کیا ہے جس میں پولیس اہلکاروں کے اغوا کے معاملے کی تفتیش کیے بغیر نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا یے۔

مزید پڑھیں: معذور بیٹی کا ریپ، بااثر افراد کے دباؤ پر باپ نے ملزم کو معاف کر دیا

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز نے اس بات کی تصدیق کی کہ مذکورہ معاملے میں صوبائی وزیر کا بیٹا شامل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان شہر کی مختلف سڑکوں پر 2 گھنٹے تک گاڑی دوڑاتے رہے اور پولیس اہلکاروں کو نہ صرف تھپڑ مارے بلکہ اس تشدد کی موبائل کیمرے سے ویڈیو بھی بنائی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ پولیس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں اور جیو ٹیگنگ اور دیگر تمام ذرائع کی مدد سے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بااثر بیوروکریٹس بہترین اپارٹمنٹس کے مالک بن گئے

دوسری جانب صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے جس جوڑے کو پکڑا تھا وہ کافی پینے کی غرض سے جارہا تھا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار بغیر نمبر پلیٹ کی موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جنہوں نے مذکورہ جوڑے کو بلیک میل کرتے ہوئے 50 ہزار روپے رشوت طلب کی۔

انہوں نے بتایا کہ نوجوان ان کے بیٹے کا دوست تھا جس پر انہوں نے اپنے بیٹے کو تھانے جاکر تحقیقات میں تعاون کرنے اور قانون کا احترام کرنے کی ہدایت کی۔

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے میاں محمودالرشید نے کہا کہ اگر بیٹے پر لگائے گئے الزامات ثابت ہوگئے تو وہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔