ہم پاکستان کو سمجھوتے پر نہیں چلاسکتے، فواد چوہدری

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2018

ای میل

اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا، وفاقی وزیر— فوٹو: ڈان نیوز
اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا، وفاقی وزیر— فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک کے اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا، جب تک ادارے اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوں گے ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو سمجھوتے پر نہیں چلاسکتے، معیشت کے حوالے سے سخت فیصلے کیے ہیں، دوست ممالک سے بھی بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام خصوصاً غریب طبقے پر اتنا بوجھ ڈال دیا ہے کہ اس میں سکت ہی نہیں رہی کہ وہ اسے اٹھا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف ایسا طبقہ ہے جسے کھانسی بھی آئے تو وہ لندن کے ہسپتال میں علاج کرواتا ہے جبکہ دوسری طرف یہاں غریب عوام کے لیے ہسپتالوں کی یہ صورتحال ہے کہ ایک بستر پر 2،2 مریض ہوتے ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک میں امیر، امیر ترین جبکہ غریب، غریب تر ہوتا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: ’اپوزیشن جتنا رونا ہے رولے، احتساب کا عمل نہیں رکے گا‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) ، پوسٹل سروس، پاکستان ریلوے یا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن(پی آئی اے) کے بارے میں ہم نے سوچنا پڑے گا کہ ہم نے آگے کیسے چلنا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہماری پوسٹل سروس جیسے چل رہی ہیں، بین الاقوامی سروسز ایسے نہیں چلتی وہ منافع کما کر دیتی ہیں جبکہ ہماری سروس اس معاملے میں بہت پیچھے ہے اور اس میں قصور حکومتی پالیسیوں کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں اور اداروں کا بیڑہ غرق کردیا گیا، اپنے لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر لگایا گیا اور تعمیری سوچ کو پیچھے کردیا گیا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومتیں اداروں کو مضبوط کرتی ہیں تاکہ عوام مضبوط ہوں کیونکہ اگر اداروں کے پیچھے پڑ جائیں گے تو ملک اور ریاست کمروز ہوگی۔

حکومت کی جانب سے احتساب کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ چاہے کتنا بھی رو لیں لیکن احتساب کا عمل جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اگر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہتی ہے تو ہمیں اعتراض نہیں لیکن اپوزیشن 90 اراکین کے دستخط کے ساتھ ریکوزیشن جمع کرائے تو اجلاس بلالیں گے، تاہم اس اجلاس میں بحث ہونی چاہیے کہ ملک کو کس طرح آگے چلانا ہے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ملک کو چلانے کے لیے 28 ارب ڈالر چاہئیں جبکہ 8 ارب ڈالر صرف قرض کی ادائیگی کے لیے چاہیئں اور ان سب کے لیے اداروں کو ٹھیک کرنا ہوگا، سرمایہ کاری لانی ہوگی، احتساب کرنا ہوگا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں کاروبار کا موقع فراہم کرنے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ صورتحال ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستان ملک میں قدم رکھتا ہے تو ہر ادارہ اس کے گلے پڑ جاتا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف بڑا واضح ہے، ہم پاکستان کو سمجھوتے پر نہیں چلا سکتے کیونکہ اس سے استحکام نہیں رہے گا اور اگر ہم استحکام چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ساڑھے 7 ارب روپے پی ٹی وی اور 4 ارب روپے ریڈیو پاکستان کو مل رہے ہوں اور وہ نقصان میں جارہے ہوں، جب تک ادارے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا نہیں سیکھیں گے ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘شہباز شریف کی گرفتاری پہلا قدم ہے، مزید بڑی گرفتاریاں ہوں گی’

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے ان اداروں کو پیسے دیے جارہے تو یہ بوجھ پاکستان کے عوام برداشت کر رہے اور ہم لوگوں کو اتنے بوجھ میں نہیں ڈالنا چاہتے، قوم کو آج جو مہنگائی کا سامنا ہے تو یہ ہمارا قصور نہیں ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم غریبوں کا درد رکھنے والے انسان ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے کابینہ کے کسی فرد یا بیوروکریسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ پیسے بنانے کا سوچے اور ملک کے ساتھ کھلواڑ کرے۔

ان کا کہنا تھا جب بھی اصلاحات آتی ہیں، مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن مشکلات سے آگے نکل کر ہی قومیں بنتی ہیں اور انشا اللہ پاکستان ایک طاقتور اور مستحکم ملک بنے گا۔