’جمال خاشقجی شاہی خاندان کی کرپشن، دہشتگردوں کےساتھ تعلقات سے آگاہ تھے‘

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2018

ای میل

سعودی صحافی جمال خاشقجی — فوٹو، فائل
سعودی صحافی جمال خاشقجی — فوٹو، فائل

جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

جرمن ویب سائٹ ویلٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جمال خاشقجی کے دوست عبد العظيم حسن الدفراوی کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کے پاس سعودی شاہی خاندان کی کرپشن، ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلق اور اندرونی سیاست کے بارے میں اہم معلومات ہوسکتی تھیں۔

عبد العظيم حسن الدفراوی کا کہنا تھا کہ خاشقجی کی صحافت سعودی حکومت کے لیے بڑا خطرہ نہیں تھی، لیکن ان کے خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعلقات تھے جس کی وجہ سے انہیں بعض اہم معاملات سے متعلق علم تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر وہ مارے جاتے ہیں تو میرے لیے حیران کن ہوگا کہ انہیں ان کی صحافتی سرگرمیوں کی وجہ سے مارا گیا‘۔

مزید پڑھیں: ’سعودی ولی عہد نے جمال خاشقجی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا‘

خاشقجی کے دوست کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت کچھ جانتے تھے، اور سعودی عرب کے مسائل سے آگاہ تھے، اور وہ ان افراد میں شامل تھے جو بہت کچھ جانتے ہیں‘۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ خاشقجی کو کیا کیا معلومات حاصل ہوسکتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں سعودی شاہی خاندان کی کرپشن، ان کے دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ تعلقات اور شاہی خاندان کے بعض غلط اقدامات کا علم تھا۔

عبد العظيم حسن الدفراوی نے مزید بتایا کہ ان کی خاشقجی سے سب سے پہلی ملاقات 2003 میں ہوئی اور وہ تب سے ہی ان کے دوست ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ خاشقجی کی القاعدہ کے بانی رہنما اسامہ بن لادن سے 1990 میں ملاقات ہوئی تھی اور اس دوران انہوں نے القاعدہ لیڈر سے دہشت گرد سرگرمیاں چھوڑنے کی درخواست کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘لاپتہ صحافی کو سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا گیا’

خیال رہے کہ امریکا میں مقیم سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ 2 ہفتے سے لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ انہیں ترکی میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے جمال خاشقجی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ تھے جبکہ ادارے نے بھی ان کی گمشدگی کی تصدیق کی تھی۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔