ایل این جی کے ’غیر شفاف‘ ٹھیکوں پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2018

ای میل

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے نیوز کانفرنس سے خطاب کیا—فوٹو: اے پی پی
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے نیوز کانفرنس سے خطاب کیا—فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے گزشتہ دورِ حکومت میں دیئے جانے والے لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) ٹرمینل آپریٹرز کے ’غیر شفاف‘ ٹھیکوں پر دوبارہ مذاکرات کرنے، 15 نومبر سے گنے کی کرشنگ کا آغاز اور ارتھ کوئیک ریکنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلٹیشن اتھارٹی (ایرا) کو ختم کرنے کے احکامات صادر کر دیئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کراچی کے ترقیاتی کاموں کے لیے گورنر سندھ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کا حکم بھی دیا گیا۔

اس کے ساتھ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کی مد میں صوبوں کو 3 فیصد حصہ قبائلی اضلاع کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے فنڈز کے استعمال کی نگرانی کیلئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ

اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے این ایل جی کے 3 معاہدے کیے جس میں ایک قطر کے ساتھ گیس فراہمی کا معاہدہ اور مقامی کاروباری گروپس کے ساتھ ری گیسفکیشن ٹرمینل کے 2 معاہدے شامل ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور دیگر ادارے قطر کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی چھان بین کر رہے ہیں، جبکہ وزارت پیٹرولیم نے بھی اس حوالے سے اپنی تحقیقاتی اور آڈٹ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بغیر سوچھے سمجھے عجلت میں کیے جانے والے این ایل جی ٹرمینل کے ان 2 معاہدوں کی بدولت پاکستانی معیشت سخت دباؤ کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں: تھرکول پاور منصوبے کی تحقیقات نیب کے سپرد

ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نے ان دونوں معاہدوں پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ معاہدے میں ’باہمی سمجھوتے کے تحت نظر ثانی‘ کرنے کی شق موجود ہے، بصورت دیگر حکومت دیگر آپشنز کا استعمال کرے گی۔

وفاقی وزیر نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر انہیں پاکستان میں رہتے ہوئے کاروبار کرنا ہے تو انہیں معاہدوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی یا پھر حکومت دیگر اقدامات کرے گی۔'

اس دوران جب ان سے ’دیگر اقدامات‘ کے بارے میں پوچھا گیا تو وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ ’ہم مذاکرات کی میز پر معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں، اگر مذاکرات بے ثمر رہے تو دوسری صورت میں متعلقہ ادارے اس معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد بدعنوانی ریفرنس بھی دائر ہوسکتے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیں: سی پیک کے منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں، وزیراعظم

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ این ایل جی کے 2 ٹرمینل کے ٹھیکے 2 کاروباری گروپس، اینگرو اور پاکستان گیس پورٹ کو انتہائی مہنگے داموں دیئے گئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں چالاکی کا عنصر موجود ہے۔

اس موقع پر انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ اس قسم کے اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ اپنے مفاد کے لیے چھوڑا گیا ایک شوشہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ ٹھیکوں اور کاروباری معاملات میں شفافیت سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔