عصمت چغتائی اپنے 'بھائی' منٹو کی نظر میں

24 اکتوبر 2018

ای میل

کسی قلم کار کی تخلیقات کو ادب کی کسوٹی پر پرکھنے اور ان پر نقد و نظر باندھنے کے لیے میرا مطالعہ اور فہم بہت کم ہے اور جب عصمت چغتائی پر لکھنے کی بات ہو تو کم مائیگی کا احساس شدید تر ہو جاتا ہے۔

یوں بھی ان کے فن اور تخلیقات پر بہت کچھ کہا اور لکھا جاچکا ہے۔ جہاں عصمت چغتائی کو اپنے وقت کے ثقہ ادیبوں، ناقدین اور صاحبِ بصیرت قارئین نے سراہا، وہیں سماج میں فحش نگار کہہ کر مطعون بھی کی گئیں۔

نقد و نظر اور قبول و رد سے گزرتی عصمت چغتائی کو فحش نگاری کے الزام میں مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ معاشرے اور زندگی اپنی نظر دیکھنے کی عادی عصمت چغتائی کے فکر و مشاہدے کی قوت نے جو کہانیاں تخلیق کیں وہ تنازع اور ان کی بدنامی کا سبب تو بنیں، مگر ان کا نام زندگی کے زندہ موضوعات پر جرأت اور بے باکی سے اظہار کرنے کے باعث آج بھی زندہ ہے۔

سوچ رہا تھا کہ اس غیر روایتی، معاشرے کی باغی اور جرأت مند ادیب پر ایسا کیا لکھا جائے جو غیر روایتی اور کسی قدر تازہ معلوم ہو کہ صفحات بھرے پڑے ہیں ان کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی اور فکر و اسلوب پر۔

تبھی منٹو کا ایک خاکہ ہاتھ لگا اور اسی خاکے کی بدولت مجھے عصمت کو ’لحاف‘ سے نکل کر دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ خود عصمت نے لکھا کہ ’لحاف‘ ان کی چڑ بن گیا تھا۔ یہ وہ افسانہ ہے جس کا موضوع ہم جنس پرستی ہے۔

خیر، منٹو اور عصمت دونوں ہی اپنے دور میں صرف متنازع اور بدنام ہی نہیں رہے بلکہ مقدمات بھی بھگتے۔ منٹو اور عصمت کی فکری یک رنگی اور قلم کی بے باکی کی وجہ سے لوگ ان سے اصرار کرتے کہ دونوں شادی کیوں نہیں کرلیتے۔

منٹو نے بہت لکھا، ان کا قلم ضرورتوں کے لیے بھی متحرک رہا، مگر عصمت چغتائی کا معاملہ الگ تھا۔ انہوں نے جم کر لکھا اور موضوعات پر اپنی گرفت کمزور نہیں پڑنے دی۔ ان کے چند افسانے ناقدین کی نظر میں عامیانہ بھی ہیں، مگر عصمت کا قلم کسی ضرورت کے بوجھ تلے نہ دبا اور نہ ہی ان کا کوئی افسانہ کسی مجبوری کی پیداوار ہے۔ آج اسی عصمت چغتائی کی برسی ہے اور منٹو کے قلم سے نکلا ہوا عصمت چغتائی کا خاکہ میری نگاہوں کے سامنے ہے جسے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔

منٹو نے لکھا:

’میں آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ملازم تھا۔ ادبِ لطیف میں عصمت کا ’لحاف‘ شایع ہوا تھا۔ اسے پڑھ کر مجھے یاد ہے میں نے کرشن چندر سے کہا تھا کہ "افسانہ بہت اچھا ہے۔ لیکن آخری جملہ بہت غیر صناعانہ ہے۔ احمد ندیم کی جگہ اگر میں ایڈیٹر ہوتا تو اسے یقیناً حذف کردیتا۔" چناںچہ جب افسانوں پر باتیں شروع ہوئیں تو میں نے عصمت سے کہا کہ "آپ کا افسانہ لحاف مجھے بہت پسند آیا۔ بیان میں الفاظ کو بقدر کفایت استعمال کرنا آپ کی نمایاں خصوصیت رہی ہے، لیکن مجھے تعجب ہے کہ اس افسانے کے آخر میں آپ نے بیکار سا جملہ لکھ دیا کہ ایک انچ اٹھے ہوئے لحاف میں، مَیں نے کیا دیکھا۔ کوئی مجھے لاکھ روپیہ بھی دے تو کبھی نہیں بتاؤں گی۔"

عصمت نے کہا۔ ’کیا عیب ہے اس جملے میں؟‘

’میں جواب میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ مجھے عصمت کے چہرے پر وہی سمٹا ہوا حجاب نظر آیا جو عام گھریلو لڑکیوں کے چہرے پر ناگفتنی شے کا نام سن کر نمودار ہوا کرتا ہے۔ مجھے سخت ناامیدی ہوئی اس لیے کہ میں لحاف کے تمام جزئیات کے متعلق اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا۔ جب عصمت چلی گئی تو میں نے دل میں کہا کہ یہ تو کم بخت بالکل عورت نکلی۔‘

منٹو کا عصمت کے بارے میں بالکل ایک عورت ہونے کا یہ تاثر شاید ان کے مابین بعد کی ملاقاتیں اور آپس میں بے تکلفی بھی نہ بدل سکی۔

منٹو نے عصمت چغتائی کو یعنی ایک عورت کو اس کی کہانیوں میں یوں ڈھونڈا۔

’عصمت اگر بالکل عورت نہ ہوتی تو اس کے مجموعوں میں بھول بھلیاں، تل، لحاف اور گیندا جیسے نازک اور ملائم افسانے کبھی نظر نہ آتے۔ یہ افسانے عورت کی مختلف ادائیں ہیں۔ صاف، شفاف، ہر قسم کے تصنع سے پاک۔ یہ ادائیں، وہ عشوے، وہ غمزے نہیں جن کے تیر بنا کر مردوں کے دل اور کلیجے چھلنی کیے جاتے ہیں۔ جسم کی بھونڈی حرکتوں سے ان اداؤں کا کوئی تعلق نہیں۔ ان روحانی اشاروں کی منزلِ مقصود انسان کا ضمیر ہے۔ جس کے ساتھ وہ عورت ہی کی ان جانی، ان بوجھی مگر مخملیں فطرت لیے بغیر بغل گیر ہوجاتے ہیں۔‘

آپ نے عصمت چغتائی کا ’دوزخی‘ پڑھا ہے؟ یہ ان کے مرحوم بھائی عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ ہے جس پر منٹو نے یوں اظہارِ خیال کیا:

’شاہجہاں نے اپنی محبوبہ کی یاد قائم رکھنے کے لیے تاج محل بنوایا تو عصمت نے اپنے محبوب بھائی کی یاد میں ’دوزخی‘ لکھا۔ شاہجہاں نے دوسروں سے پتھر اٹھوائے، انہیں ترشوایا اور اپنی محبوبہ کی لاش پر عظیم الشان عمارت تعمیر کروائی۔ عصمت نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے خواہرانہ جذبات چن چن کر ایک اونچا مچان تیار کیا اور اس پر نرم نرم ہاتھوں سے اپنے بھائی کی نعش رکھ دی۔‘

منٹو کے قلم نے عصمت کی چند عادات کا یوں تذکرہ کیا:

’عصمت کو برف کھانے کا بہت شوق ہے، بالکل بچوں کی طرح ڈلی ہاتھ میں لیے دانتوں سے کٹا کٹ کاٹتی رہتی ہے۔ اس نے اپنے بعض افسانے بھی برف کھا کھا کر لکھے ہیں۔ چارپائی پر کہنیوں کے بَل اوندھی لیٹی ہے۔ سامنے تکیے پر کاپی کھلی ہے ایک ہاتھ میں فاؤنٹین پین ہے اور دوسرے ہاتھ میں برف کی ڈلی۔ ریڈیو اونچے سروں میں چلّا رہا ہے مگر اس کا قلم اور منہ دونوں کھٹا کھٹ چل رہے ہیں۔‘

اپنے دور کی یہ غیر روایتی، بلکہ باغی اور بے باک ادیب امورِ خانہ داری میں کیسی تھی، یہ بھی منٹو کے خاکے سے کُھلا:

’عصمت کا قلم اور اس کی زبان دونوں بہت تیز ہیں۔ لکھنا شروع کرے گی تو کئی مرتبہ اس کا دماغ آگے نکل جائے گا اور الفاظ بہت پیچھے ہانپتے رہ جائیں گے۔ باتیں کرے گی تو لفظ ایک دوسرے پر چڑھتے جائیں گے۔ شیخی بگھارنے کی خاطر اگر کبھی باورچی خانے میں چلی جائے تو معاملہ بالکل چوپٹ ہوجائے گا۔‘

’طبیعت میں چونکہ بہت ہی عجلت ہے اس لیے آٹے کا پیڑا بناتے ہی سنکی سنکائی روٹی کی شکل دیکھنا شروع کردیتی ہے۔ آلو ابھی چھیلے نہیں گئے، لیکن اس کا سالن اس کے دماغ میں پہلے ہی تیار ہوجاتا ہے اور میرا خیال ہے بعض اوقات وہ باورچی خانے میں قدم رکھ کر خیال خیال میں شکم سیر ہوکر لوٹ آتی ہوگی۔‘

’لیکن اس حد سے بڑھی ہوئی عجلت کے مقابلے میں اس کو میں نے بڑے ٹھنڈے اطمینان اور سکون کے ساتھ اپنی بچی کے فراک سیتے دیکھا ہے۔ اس کا قلم لکھتے وقت املا کی غلطیاں کر جاتا ہے لیکن ننھی کے فراک سیتے وقت اس کی سوئی سے ہلکی سی لغزش بھی نہیں ہوتی۔ نپے تلے ٹانکے ہوتے ہیں اور مجال ہے جو کہیں جھول ہو۔‘

منٹو نے عصمت کو ہٹ دھرم اور ضدی عورت پایا:

’عصمت پرلے درجے کی ہٹ دھرم ہے۔ طبیعت میں ضد ہے بالکل بچوں کی سی، زندگی کے کسی نظریے کو فطرت کے کسی قانون کو پہلے ہی سابقے میں کبھی قبول نہیں کرے گی۔ پہلے شادی سے انکار کرتی رہی۔ جب آمادہ ہوئی تو بیوی بننے سے انکار کردیا۔ بیوی بننے پر جوں توں رضا مند ہوئی تو ماں بننے سے منکر ہوگئی۔ تکلیفیں اٹھائے گی، صعوبتیں برداشت کرے گی مگر ضد سے کبھی باز نہیں آئے گی۔ میں سمجھتا ہوں یہ بھی اس کا ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے سے وہ زندگی کے حقائق سے دوچار ہوکر بلکہ ٹکرا کر ان کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔‘

اس خاکے میں منٹو نے اپنی ہم عصر ادیب سے پہلی ملاقات کی یاد یوں تازہ کی ہے:

’عصمت کی شکل و صورت دل فریب نہیں بلکہ دل نشین ضرور ہے۔ اس سے پہلی ملاقات کے نقش ابھی تک مرے دل و دماغ میں محفوظ ہیں۔ بہت ہی سادہ لباس میں تھی۔ چھوٹی کنی کی سفید دھوتی۔ سفید زمین کا کالی کھڑی لکیروں والا چست بلاؤز۔ ہاتھ میں چھوٹا پرس۔ پاؤں میں بغیر ایڑھی کا براؤن چپل۔ چھوٹی چھوٹی مگر تیز اور متجسس آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں والی عینک۔ چھوٹے مگر گھنگھریالے بال۔ ٹیڑھی مانگ۔ ذرا سا مسکرانے پر بھی گالوں میں گڑھے پڑجاتے تھے۔‘

’باہم متصادم ہوجانے کے خوف سے میرے اور عصمت کے درمیان بہت ہی کم باتیں ہوتی تھیں۔ میرا افسانہ کبھی شایع ہو تو پڑھ کر داد دے دیا کرتی تھی۔ ’نیلم‘ کی اشاعت پر اس نے غیر معمولی جوش و خروش سے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا: واقعی یہ بہن بنانا کیا ہے۔ آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہے کسی عورت کو بہن کہنا۔ اس کی توہین ہے۔‘

اور میں سوچتا رہ گیا۔ وہ مجھے منٹو بھائی کہتی ہے اور میں اسے عصمت بہن کہتا ہوں۔ دونوں کو خدا سمجھے!

فحش نگاری کے الزامات کے ساتھ گرفتاری اور عدالت جانے کا ذکر اس خاکے میں کچھ یوں کیا گیا:

’ہماری 5 سے 6 برس کی دوستی کے زمانے کا ایسا کوئی واقعہ نہیں جو قابل ذکر ہو۔ فحاشی کے الزام میں ایک بار ہم دونوں گرفتار ہوئے۔ مجھے تو پہلے 2 دفعہ تجربہ ہوچکا تھا لیکن عصمت کا پہلا موقع تھا۔ بمبئی سے لاہور تک کافی لمبا سفر ہے، لیکن شاہد اور میری بیوی ساتھ تھے۔ سارا وقت خوب ہنگامہ رہا۔ صفیہ اور شاہد ایک طرف ہوگئے اور چڑانے کی خاطر ہم دونوں کی فحش نگاری پر حملے کرتے رہے۔ قید کی صعوبتوں کا نقشہ کھینچا۔ جیل کی زندگی کی جھلکیاں دکھائیں۔ عصمت نے آخر میں جھلا کر کہا: سولی پر بھی چڑھا دیں لیکن یہاں حلق سے اناالحق ہی نکلے گا۔

’اس مقدمے کے سلسلے میں ہم 2 دفعہ لاہور گئے۔ دونوں مرتبہ کالجوں کے تماشائی طالب علم مجھے اور عصمت کو دیکھنے کے لیے ٹولیاں باندھ باندھ کر عدالت میں آتے رہے۔ عصمت نے مجھ سے کہا: منٹو بھائی۔ چودھری نذیر سے کہیے کہ ٹکٹ لگا دے کہ یہاں آنے جانے کا کرایہ ہی نکل آئے گا۔‘

اب عصمت کے سفرِ زیست پر نظر ڈالتے ہیں۔

وہ بدایوں کی تھیں۔ عصمت کے والد مرزا قسیم بیگ کا کنبہ خاصا بڑا تھا۔ 10 بہن بھائیوں میں عصمت اپنے والدین کی نویں اولاد تھیں۔ 1915ء ان کا سنِ پیدائش ہے اور تاریخ اگست کی 21 تھی۔ اس ادیب کی زندگی کا یہ سفر 24 اکتوبر 1991ء تک جاری رہا۔

زندگی کے مختلف اوراق الٹیں تو رسمی تعلیم کی تکمیل کے بعد عصمت کے ایک اسکول کی ہیڈمسٹریس مقرر ہونے کا ذکر ملتا ہے اور یہ بھی کہ وہ زمانہ طالبعلمی ہی میں ترقی پسند تحریک سے جڑ گئی تھیں۔ عصمت نے روشن فکر ادیبوں اور دانشوروں کی کتب کا مطالعہ کیا جس نے انہیں ادب کی نئی جہات اور مختلف زاویوں سے روشناس کیا۔

ان کا ماننا تھا کہ ترقی پسند ادب تمام انسانوں کی بھلائی چاہتا ہے۔ وہ ادب جو انسان کو صحت، علم اور کلچر سے جوڑے اور جو برابری کا حق دینے پر یقین رکھتا ہو۔ انسانوں کی سوچ پر یوں اثر ڈالے کہ وہ آگے بڑھیں، اندھیروں سے نکل کر اجالے کی طرف آئیں۔

جانیے: فحش کون: منٹو یا معاشرہ؟

دورانِ ملازمت عصمت کی ملاقات شاہد لطیف سے ہوئی جو مکالمہ نگار کی حیثیت سے پہچان بنا رہے تھے۔ تعارف اور شناسائی کے سلسلے نے انھیں رشتہ ازدواج سے منسلک کردیا اور یوں زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔

قارئین! عصمت چغتائی پر فحش نگاری کا الزام لگانا ہو یا انہیں معاشرے کی باغی اور حقیقت نگار تسلیم کرنا ہو، آپ کو ان کے افسانوں میں لحاف، چوتھی کا جوڑا، پہلی لڑکی، خدمت گار، بہو بیٹیاں، پردے کے پیچھے سے، امر بیل اور ان کے مشہور ناولوں میں ضدی، معصومہ، ٹیڑھی لکیر وغیرہ پڑھنا ہوں گے۔ اسی طرح ہندوستان کی اس نامور ادیب نے کہانیوں کے ساتھ خاکہ نگاری اور فلموں کے مکالمے اور اسکرپٹ بھی تحریر کیے اور فلم انڈسٹری میں الگ مقام بنایا۔

جنسی رویوں اور اخلاقی کج روی نے عصمت کو ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کیا، مگر ان کی ترقی پسند فکر غریبوں، مزدوروں اور کچلے ہوئے طبقات کو بھی اپنی تحریروں کا موضوع بناتی رہی۔ کہانیوں میں ان کا انداز تیکھا اور چبھتا ہوا ہے۔ الفاظ اور فقرے طنز اور ظرافت کی چاشنی لیے ہوئے ہیں۔ محاورات اور روز مرہ زبان ان کی کہانیوں کی دل کشی بڑھاتی ہے۔

عصمت ایسی روشن خیال، نڈر اور بے باک کیوں تھیں۔ یہ انہی کی زبانی جانیے:

’سچ پوچھیے تو اصل مجرم میرے بھائی ہی تھے، جن کی صحبت نے مجھے انہی کی طرح آزادی سے سوچنے پر مجبور کردیا، وہ شرم و حیا، جو عام طور پر درمیانہ طبقہ کی لڑکیوں میں لازمی صفت سمجھی جاتی ہے پنپ نہ سکی، چھوٹی سی عمر سے دوپٹہ اوڑھنا، جھک کر سلام کرنا، شادی بیاہ کے ذکر پر شرمانے کی عادت بھائیوں نے چھیڑ چھاڑ کر پڑنے ہی نہ دی، سوائے عظیم بھائی کے سبھی گھر میں چاق و چوبند تھے، کنبہ کا کنبہ حد درجہ با مذاق اور باتونی، آپس میں چیخیں چلتیں، نئے نئے جملے تراشے جاتے، ایک دوسرے کی دھجیاں اڑائی جاتیں، بچے بچے کی زبان پر سان رکھ دی جاتی۔‘