خاشقجی کا قتل سنگین غلطی تھی، سعودی وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2018

ای میل

— فوٹو: اے ایف پی/فائل
— فوٹو: اے ایف پی/فائل

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا وہ ہی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے 'فاکس نیوز' کو انٹرویو کے دوران عادل الجبیر نے کہا کہ جمال خاشقجی ان لوگوں کے 'سرکش آپریشن' کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

انہوں نے جمال خاشقجی کے اہلخانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ایک سنگین غلطی اور خوفناک المیہ ہے جبکہ ہماری ہمدردیاں خاشقجی کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'قونصل خانے میں موجود لوگوں کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے تھا، جبکہ واقعے میں ملوث کسی شخص کا ولی عہد محمد بن سلمان سے قریبی تعلق نہیں۔'

جمال خاشقجی کے قونصل خانے سے نکلنے سے متعلق متنازع رپورٹس سے متعلق عادل الجبیر نے کہا کہ 'سعودی عرب معاملے کے حوالے سے حاصل ہونے والی معلومات شیئر کرتا رہے گا۔'

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی قتل: ’ہمیں نہیں معلوم کہ لاش کہاں ہے‘

قبل ازیں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے استنبول میں قونصل خانے کے اندر قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے بیٹے کو فون کرکے تعزیت کی۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کا کہنا ہے کہ ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر مبینہ طور پر قتل ہونے والے صحافی کے بیٹے صلاح کو سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے بھی فون کیا۔

سعودی خبر ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان دونوں نے صلاح سے ‘تعزیت کی اور دکھ کا اظہار کیا’۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے دو ہفتوں تک دباؤ کے بعد 19 اکتوبر کو اعتراف کیا تھا کہ جمال خاشقجی کو ترکی میں قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے بعد مارا گیا تھا۔

تاہم گزشتہ روز سعودی عرب کے وزیر خاجہ عادل الزبیر نے ترکی میں سعودی قونصل خانے میں سعودی صحافی کے قتل کا اعتراف کرنے کے بعد اسے ‘غلطی’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ لاش کہاں ہے۔

مزید پڑھیں: جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی عرب کے بیان سے مطمئن نہیں، ٹرمپ

ان کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت کو لگتا تھا کہ جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو سفارت خانے سے چلے گئے تھے تاہم ترکی سے ملنے والی رپورٹس کے بعد سعودی حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جمال خاشقجی سفارتی مشن کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘ہمیں اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں معلوم اور نہ ہی ہمیں لاش کے بارے میں پتہ ہے‘۔

سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی پبلک پراسیکیوٹر نے 18 افراد کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

ترکی میں سعودی صحافی کے قتل کے بعد ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی صورت حال پیدا ہوئی تھی تاہم ترک صدر رجب طیب اردوان اور شاہ سلمان کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اس حوالے سے مزید تفتیش پر اتفاق کیا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر نے بھی سعودی عرب کا ایک دھمکی آمیز بیان میں کہا تھا کہ اگر صحافی کے قتل کی خبر درست ہوئی تو اس کے سنگین اثرات ہوں گے تاہم سعودی اعتراف کے بعد ٹرمپ نے متضاد بیانات دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی کا قتل: محمد بن سلمان کی بادشاہت خطرے میں پڑگئی؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی اعتراف کے فوری بعد کہا تھا کہ میں سعودی وضاحت سے مطمئن ہوں تاہم گزشتہ روز ایک بیان میں انہوں اس کے برعکس موقف اپناتے ہوئے کہا کہ 'جب تک جواب نہیں آتا میں مطمئن نہیں ہوں، اس حوالے سے پابندیاں ممکن تھیں لیکن اسلحے کا معاہد ختم کرنا سعودی عرب سے زیادہ ہمارے لیے نقصان کا باعث ہے'۔

خیال رہے کہ جمال خاشقجی کی قونصل خانے کے اندر موت کے بعد ریاض میں ہونے والی بین الاقوامی معاشی کانفرنس میں آئی ایم ایف کے سربراہ سمیت کئی ممالک نے شرکت سے انکار کیا تھا۔