بچوں کو کوکا کولا پلانے پر والد کو جیل
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ فرانس میں دو بچوں کو خوراک کی جگہ کوکاکولا پلا کر پالنے والے والد کو جیل بھیج دیا گیا۔
’ایسوسی ایشن فرنچ وکٹم‘ کے نمائندے 87 سالہ کیرول پیپون کا کہنا تھا کہ بچوں کا والد مکمل طور پر ان پڑھ اور جاہل ہے جسے معاملے حساس نوعیت کا ذرا بھی ادراک نہیں اور اس نےامداد کی مد میں ملنے والی پوری رقم شراب پر خرچ کردی۔
انہوں نے بتایا کہ امدادی رقم ملنے کے محض چند روز بعد ہی اہلِ خانہ کے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا اور وہ صرف کوکا کولا پر گزر بسر کررہے تھے۔
مذکورہ شخص اپنے بچوں اور بیوی پر تشدد بھی کرتا رہتا تھا ، بعدازاں اس کو 3 ماہ کے لیے وسطی فرانس میں قائم جیل میں قید کردیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق صرف کوکا کولا پینے کی وجہ سے بڑے بچے کے 7 دودھ کے دانت خراب ہونے پر نکال دیے گئے جبکہ دوسرا بچہ اتنا چھوٹا ہے کہ بول بھی نہیں سکتا۔
دونوں بچوں کو بچوں کی حفاظت کرنے والے ادارے نے اپنی تحویل میں لے لیا اور انہیں وہاں خوراک کے طور پر گوشت اور سبزیاں کھانے کے لیے دی گئیں۔
اس بارے میں فرانسیسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر برونو روبنیٹ نے بتایا کہ ان کے گھر میں کچھ بھی موجود نہیں تھا۔
ان کے گھر میں فریج بھی نہیں تھا جبکہ بچے بغیر چادروں کے بستر پر سوتے تھے جن کے پاس کھیلنے کے لیے کھلونےتک نہیں تھے اور ان کے والد انہیں صرف کیک اور کوکا کولا خوراک کے طور پر دیتے تھے۔












لائیو ٹی وی