عبادت گاہ میں فائرنگ: گرفتار حملہ آور کا 'یہودیوں پر نسل کشی کا الزام'

اپ ڈیٹ 28 اکتوبر 2018

ای میل

فوٹو : اے پی —
فوٹو : اے پی —

امریکا کے شہر پٹس برگ میں یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ کرنے والے مشتبہ ملزم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہودی ہماری نسل کشی کررہے ہیں اس لیے چاہتا ہوں کہ تمام یہودی مرجائیں۔

خبررساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز یہودی عبادت گاہ پر فائرنگ کے حادثے سے متعلق تحقیقاتی دستاویز کو آج (28 اکتوبر) صبح پبلک کیا گیا تھا۔

پولیس نے آج جاری کیے بیان حلفی میں بتایا کہ جائے حادثے پر پولیس کے پہنچنے سے قبل رابرٹ گریگوری بوئرز یہودی عبادت گاہ میں 8 مرد اور 3 خواتین کو قتل کرچکا تھا۔

اس میں کہا گیا کہ ہفتہ کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے قبل یہودی عبادت گاہ سے 911 پر کال موصول ہوئی تھی جس میں اطلاع دی گئی تھی کہ ’ ان پر حملہ ہوا تھا‘۔

مزید پڑھیں : امریکا: یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ، 11 افراد ہلاک

رابرٹ بوئرز نے ایک افسر کے ہاتھ میں گولی ماری تھی جبکہ دوسرا آفیسر ٹوٹے ہوئے گلاس لگنے سے زخمی ہوا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم نے رابرٹ بوئرز کو تیسری منزل سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں اس نے 2 افسران پر متعدد مرتبہ فائرنگ کی تھی جن میں سے ایک افسر کی حالت تشویشناک ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ عبادت گاہ میں موجود مزید 2 افراد زخمی ہوئے تھے جن کی حالت بہتر ہے۔

بیان کے مطابق رابرٹ بوئرز نے اپنے زخموں کے علاج کے وقت ایک افسر کو بتایا کہ یہودی اس کے لوگوں کی نسل کشی کررہے ہیں، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ تمام یہودی مرجائیں‘۔

رابرٹ بوئرزکے خلاف گزشتہ روز مقدمہ درج کرلیا گیا تھا جس میں مجرمانہ قتل کی 11 ، مبینہ حملے کی 6 اورنسل پرستی پر مبنی دھمکیوں کی 13 دفعات شامل ہیں۔

ایک غیرسرکاری یہودی تنظیم اینٹی ڈیفی میشن لیگ نے حادثے سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ امریکہ کی تاریخ میں یہودی برادری پر ہونے والا بدترین حملہ ہے۔‘

امریکا میں متوقع ضمنی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل اس حادثے نے ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا: اسکول میں فائرنگ سے پاکستانی طالبہ سمیت 10 ہلاک

اس حادثے پر دنیا بھر کے مذیبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔

پوپ فرانسس نے سینٹ پیٹر اسکوائر میں پیٹس برگ کے زخمیوں کے لیے دعا کی، ان کا کہنا تھا کہ ’ درحقیقت ، اس غیر انسانی تشدد نے ہم سب کو زخمی کیا یے‘۔

انہوں نے دعا کی کہ ’ ہمارے معاشرے میں نفرت کی آگ بجھ جائے اور انسانیت، زندگی کی عظمت اور اخلاقی اقدار قائم ہوجائیں‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حادثے کو ’ یہودی مخالف حملہ‘ قرار دیتے ہوئے امریکا بھر میں وفاقی عمارات پر پرچم سرنگوں کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

دوسری جانب پٹس برگ کے ہزاروں شہریوں نے قومی سیاسی ماحول کو حملے کے لیے مورد الزام ٹہھرایا تھا۔

نیو لائٹ کونگریگیشن کے شریک صدر اسٹیفن کوہن کا کہنا تھا کہ ’ جب آپ نفرت انگیز گفتگو کرتے ہیں تو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں اور یہ نتیجہ ہے کہ کئی افراد مرگئے ہیں ‘۔

رابرٹ بوئرز سے متعلق کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تاہم خیال کیا جارہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر یہودی مخالف تبصرے کرتے رہتے ہیں۔

ایف بی آئی پٹس برگ کے سربراہ بوب جونز کا کہنا تھا کہ ’عبادت گاہ میں موجود افراد کو ان کے عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا تھا‘۔

مزید پڑھیں : امریکا:مشی گن یونیورسٹی میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں لیکن حکام کا خیال ہے کہ حملہ آور تنہا تھا۔

مغربی پیننسلوانیا میں چیف فیڈرل پراسیکیوٹر اسکاٹ بریڈی نے کہا کہ ’ اس معاملے میں جلد انصاف دیا جائے گا ‘۔

گزشتہ روز امریکا کے شہر پٹس برگ میں یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے ۔

حکام کی جانب سے فوری طور پر حملے کی وجوہات پر تبصرہ نہیں کیا گیا تھا لیکن یہ بتایا گیا تھا کہ کہ حملے کے وقت عبادت گاہ میں درجنوں سے زائد لوگ خصوصی عبادت میں مصروف تھے۔