تمہارے آنے کا شکریہ جاناں!

اپ ڈیٹ 04 نومبر 2018

ای میل

تم بہار تھی جاناں اور مجھے اپنا وجود تمہارے سامنے ایک بہت بوڑھے درخت کا سا معلوم ہوتا ہے—تصویر رمضان رفیق
تم بہار تھی جاناں اور مجھے اپنا وجود تمہارے سامنے ایک بہت بوڑھے درخت کا سا معلوم ہوتا ہے—تصویر رمضان رفیق

جہاں زاد، کیا تمہیں کبھی کسی نے بتایا کہ تمہارا وجود کسی بھی ویرانے کو گھر بناسکتا ہے؟ ایسا گھر جہاں انسان تمام دن کا تھکا ہارا داخل ہو تو اس گھر کی دہلیز اُس کے قدم چوم کر اس کی ساری تھکان پی جاتی ہے؟ ایسا گھر جو بانہیں کھول کر جس کو اپنی آغوش میں لے، اسے زندگی کے تھپیڑوں اور حالات کی سختی سے محفوظ کرلیتا ہے؟

بچپن سے سنا تھا کہ مکان صرف 2 ہی صورتوں میں گھر بنتا ہے، ایک جب آپ کی ماں وہاں رہتی ہو اور دوسرا جب آپ سے محبت کرنے والی عورت وہاں بستی ہو۔ میں نے اپنی ماں کو نہیں دیکھا سو مجھے تمہارے آنے سے پہلے یہ احساس ہی نہیں تھا کہ گھر کسے کہتے ہیں۔ یہ بات تو میں شروع دن سے جانتا تھا کہ تم صدا کے لیے رہنے کو نہیں آئی۔ ہم جیسوں کے نصیبوں میں گھر نہیں ہوتا۔ تم جب سے گئی ہو میں بے گھر ہوگیا ہوں۔ بے گھری عذاب ہے جاناں۔ تم جو گئی تو اپنے ساتھ میرا گھر لے گئی۔ مجھ سا وحشتوں کا مارا اب کہاں رہے گا؟ مجھ سا بدنصیب اب کہاں رہے گا؟

جانِ عزیز! تم نہیں جانتی، مگر تم بہاروں کو اپنی پلو میں لیے گھومتی ہو۔ تمہاری ایک مسکراہٹ کائنات بھر کے اندھیروں کو شکست دے سکتی ہے۔ بلکل ویسے جس طرح ایک ننھا سا دیا کائنات کے تمام اندھیروں کو شکست دے دیتا ہے۔

میں تو ان میں سے ہوں جنہیں مائیں بوڑھا جانتی ہیں۔ ہم پر بچپن نہیں آتا۔ ہمیں ملنے والے بوسے محبت کے نہیں پُرسے کے بوسے ہوتے ہیں۔ ہمیں پیار میں نہیں تسلی میں گلے لگایا جاتا ہے۔ ہماری آوازیں کبھی اپنی انتہا کو نہیں پہنچتیں۔ ہمیں وقت اور عمر سے پہلے وہ سبق پڑھا دیے جاتے ہیں جن کے بعد ہمارا بچپن اور جوانی تمام لطافتوں سے خالی رہتا ہے۔ ہم بچپنے میں بھی نخرے نہیں کرتے کہ جو ہمیں روتے بلکتے نہ اُٹھا سکے، ہمارے نخرے کیسے اُٹھاتے؟ ہمارا اٹھکھیلیاں کرنے کا وقت جھڑکیاں سہتے گزر گیا تھا۔ ہم بہاروں میں بھی خزاں کا غم منانے والے ہیں۔ ہم سے دیوانے چلے جانے والوں کو عزیز رکھتے ہیں۔ ان سے وفادار رہتے ہیں۔ ہم سے کوئی نئی بہار ہمارا پرانا غم نہیں لے سکتی۔

جاناں! کچھ اختتاموں کے ساتھ ایسی اُداسی وابستہ ہوتی ہے کہ لاکھ نئی ابتدائیں بھی انہیں مٹا نہیں پاتیں۔

تم بہار تھی جاناں اور مجھے اپنا وجود تمہارے سامنے ایک بہت بوڑھے درخت کا سا معلوم ہوتا ہے۔

تم وہ بہار ہو جو مجھ جیسے بوڑھے درخت کو بھی 2 لمحوں کے لیے جوبن محسوس کراتی ہے۔ زمانوں سے گم بچپنے کی شوخی میں زندگی پھونکتی ہے۔ اپنا آپ اچھا محسوس کراتی ہے۔ یہ تم ہو جو اس بوڑھے درخت کو اپنے سائے میں بیٹھنے والوں کی بہتر میزبانی کا شرف اور موقع دیتی ہو، جو اپنے ساتھ کمر لگا کر بیٹھنے والے مسافروں کی سرگوشیاں پیتا ہے اور اپنے اندر کئی گھونسلوں کو آباد رکھتا ہے۔

یہ محبت میں ڈوبے پرندوں کی اٹھکھیلیاں دیکھتا ہے، ان کے گھونسلوں کی آندھیوں سے حفاظت کرتا ہے، ان کی محبت کی نشانیوں، ان کے بچوں کو پیدا ہوتے اور پھر پروان چڑھتے دیکھتا ہے۔ وہ یہ منظر بھی دیکھتا ہے کہ کیسے انہیں ان کی ماں اُڑنا سکھاتی ہے اور جب وہ اُڑنا سیکھ جائیں تو میرا دل بھینچ جاتا ہے۔ عزیزہ! یہ اُڑنا سیکھ لیں تو مجھے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور کبھی پلٹ کر نہیں آتے۔ ان کے چلے جانے کی اداسی صدا دل گیر رہتی ہے۔

اے بہارِ زیست! اس بوڑھے درخت نے ناجانے کتنی آندھیاں، طوفان، بارشیں اور زلزلے جھیلے ہیں اور ہر ہر ظالم و تند جھونکہ میرے وجود پر کوئی نہ کوئی داغ، کوئی نہ کوئی زخم چھوڑتا چلا گیا۔ یہاں آنے والوں میں سے کسی نے میری ٹہنی توڑی کسی نے شاخ اور کوئی میرے پتوں کو توڑ کر پھینک گیا۔ جنہیں میں اپنا وجود نچوڑ کر کھانا کھالاتا تھا وہ سب مجھ سے لے لیے گئے۔

مگر تم 2 لحظہ کو آئی اور آکر ان تمام زخموں پر مرہم رکھ گئی۔ میرے وجود پر نقش یہ سب نگار دراصل زخم ہیں عزیزہ جنہیں تم نے چُھو کر خوبصورت بنادیا۔ تم وہ جھونکہ ہو جو مرہم دیتا ہے، سکون دیتا ہے، گلے لگا لیتا ہے۔

تم 2 لمحوں کو آئی تھی اور میری سالوں کی تھکان کو اُڑالے گئی تھی۔ تم 2 لمحوں کو آئی تھی اور میں جانتا تھا کہ چلی جانے کے لیے آئی ہو کہ بہاریں صدا رہنے کو نہیں آتیں۔ خزاؤں نے بہرحال لوٹنا ہوتا ہے۔ گھر صدا گھر نہیں رہتے اور پیڑ صدا ہرے نہیں رہتے۔ مگر تم سے میری عقیدت صدا سلامت رہے گی۔ میرا سلام تمہیں ہوا کہ جھونکوں میں پہنچتا رہے گا اور تمہیں یہ صدا ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی کہ تمہارے آنے کا شکریہ جاناں۔ تمہارے آنے کا بہت بہت شکریہ۔