’وزیرِاعظم عمران خان کا دورہ چین، پاکستان کے لیے مثبت رہا‘

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2018

ای میل

چینی صدر شی جن پنگ (دائیں) وزیرِ اعظم عمران خان (بائیں) سے مصافحہ کر رہے ہیں — فوٹو بشکریہ چاؤ لی چیئن ٹوئٹر اکاؤنٹ
چینی صدر شی جن پنگ (دائیں) وزیرِ اعظم عمران خان (بائیں) سے مصافحہ کر رہے ہیں — فوٹو بشکریہ چاؤ لی چیئن ٹوئٹر اکاؤنٹ

پاکستان میں چین کے سفیر نے وزیرِاعظم کے دورہ چین سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے نتائج اسلام آباد کے لیے مثبت ہوں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اسلام آباد میں چین کے ڈپٹی چیف آف مشن چاؤ لی چیئن نے ایک پیغام میں جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ تمام قیاس آرائیاں اب دم توڑ چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو ایک پیکیج دینے سے متعلق بات چیت جاری ہے جبکہ وزیرِ اعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران بیجنگ نے اسلام آباد کی مدد کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کے دورہ چین سے حکومت کو کچھ نہیں ملا، شہباز شریف

چینی سفارتکار کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم پاکستان کے دورہ چین نے دونوں ممالک کے لیے درمیان آئندہ 5 سال کی سمت کا تعین ہوا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے ایک ماہ کے اندر پاک چین اقتصادی راہدای (سی پیک) کی مشترکہ رابطہ کمیٹی (جے سی سی) کا 8 واں اجلاس منعقد کروانے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا۔

چاؤ لی چیئن نے اپنے پیغام میں یہ بھی بتایا کہ چین پاکستان کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے (ایف ٹی اے) کو بہتر کرنے اور پاکستان سے درآمدات کو بڑھانے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا۔

چینی سفارتکار نے اپنے ٹوئٹ میں وہ تصاویر بھی شیئر کیں جن میں وزیرِاعظم عمران خان کو چین میں گارڈ آف آنر پیش کی گئی، کابینہ کی ملاقات، اعلیٰ قیادت اور اہم صنعتکاروں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کرتے ہوئے دکھایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غربت،کرپشن کے خاتمے کیلئے چین کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں،وزیراعظم

اس کے ساتھ ساتھ چینی سفارتکار نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشت کی فہرست بھی شائع کی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے چین کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے اعلیٰ چینی قیادت سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں۔

وزیرِاعظم نے چین کے صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

سیاسی حلقوں کی جانب سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کو اس دورے سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔