ایک کروڑ ملازمتیں ممکن ہیں، لیکن کس طرح؟

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2018

ای میل

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے عام انتخابات میں کامیابی سے قبل جس انتخابی منشور کا اعلان کیا تھا اس میں 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ سرِفہرست تھا۔

رواں برس اگست میں بننے والی تحریکِ انصاف کی حکومت اپنے ابتدائی 100 ایام کو فیصلہ کن قرار دیتی آرہی ہے، ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرتی ہے کہ عوام کے ساتھ کیے گئے تمام وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔

لیکن ڈھائی ماہ کے دوران جو صورتحال ہمیں نظر آتی ہے اس سے موجودہ حکومت کی کامیابی اور ناکامی کے بارے میں فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ ایک طرف حکومت کو بہت سارے چلینجز ہیں تو دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا رویہ اب بھی ویسا ہی جارحانہ ہے جیسا انتخابات میں کامیابی سے قبل تھا۔

اس کے باوجود جس طرح وزیرِاعظم عمران خان متحرک ہیں، اور ان کے بقول حکومت آنے کے بعد سے ان سمیت کسی ایک وزیر نے ایک چھٹی بھی نہیں کی، اس سے واضح ہوتا ہے کہ تحریکِ انصاف کی قیادت اپنے واعدوں کی تکمیل کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتی ہے۔

تحریکِ انصاف کے وعدے کے مطابق پاکستان میں آج بھی ایک کروڑ لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنا کوئی بڑا چیلنج نہیں لیکن اگر سمت کا تعین درست انداز میں کردیا جائے تو ایک کروڑ سے زائد پاکستانی آئندہ 4 سالوں کے دوران نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی ملازمتیں حاصل کرکے بہتر زندگی گزارسکتے ہیں۔

جرمنی اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے، اس کی بڑی وجہ جرمنی میں فنی تعلیم کے شعبے کو دی جانے والی توجہ اور اہمیت ہے۔ جرمنی سمیت بیشتر ممالک میں ڈاکٹرز اور انجنیئرز سے زیادہ پلمبرز، باورچی، کسان، بڑھئی، مستری، ویلڈر یا دیگر ہنرمند پیسے کما لیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جرمنی میں 70 فیصد نوجوان فنی تعلیم اختیار کرتے ہیں اور ایک خوشحال اور آسودہ زندگی گزارتے ہیں۔

پاکستان میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن ٹریننگ (TVET) کے شعبے کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں اب تک جتنی بھی حکومتیں آئیں، ٹی ویٹ کبھی بھی ان کی ترجیح نہیں رہا۔ اس شعبے کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کو ایک باعزت اور بہترین روزگار دیا جاسکتا تھا لیکن عدم توجہی کے باعث نہ صرف ہم نے زبردست قسم کی افرادی قوت کو ضایع کردیا بلکہ آبادی کے ایک بڑے حصے کو غربت کی طرف دھکیل دیا۔

پاکستان میں سالانہ 17 فیصد نوجوان سیکنڈری تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان میں سے بہت ہی چھوٹا حصہ ٹی ویٹ کے ذریعے فنی تعلیم حاصل کرتا ہے جبکہ باقی نوجوان ہمارے معاشرے میں موجود ’استاد شاگرد سسٹم‘ کا حصہ بن جاتے ہیں، جنہیں بغیر تھیوری کے بے رحم انداز سے کام سکھایا جاتا ہے۔

اس سسٹم میں چونکہ استاد بھی اسی سسٹم سے فنی مہارت حاصل کرتا ہے، اس لیے وہ ان تمام اخلاقی اقدار سے واقف ہی نہیں ہوتا جو ہمارے معاشرے کے لیے نہایت ضروری ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ہم دیکھتے آئے ہیں کہ ایک اچھا مستری دولت مند ہونے کے باوجود اپنے دولت مند گاہکوں کے سماجی حلقے کا حصہ نہیں بن پاتا اور نہ ہی وہ عزت یا وقار حاصل کرپاتا ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ ایک طرف ’استاد شاگرد سسٹم‘ میں نہ تعلیم کی ضرورت کو محسوس کیا گیا ہے اور نہ ہی حکومتی سطح پر ہنرمند افراد کو سماجی حیثیت یا وقار بخشنے کے لیے کسی قسم کی پالیسی ترتیب دی گئی ہے۔ آپ اسی بات سے اندازہ لگائیں کہ جرمنی میں فنی تعلیم میں 8 سندیں حاصل کی جاسکتی ہیں جبکہ 8ویں سند ڈاکٹریٹ کی ہوتی ہے دوسری طرف پاکستان میں فنی تعلیم کے برعکس 5 درجات ہیں اور سب سے بڑی سند ڈپلومہ کی ہے۔

پاکستان میں سالانہ سیکنڈری تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے والوں کا ایک چھوٹا سا حصہ جو فنی تعلیم حاصل کرکے مارکیٹ میں پہنچتا ہے وہ بھی مارکیٹ کی ڈیمانڈ اور سپلائی سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ جب ان نوجوانوں کو فنی تعلیم دی جاتی ہے تو نہ تو نجی شعبے سے ڈیمانڈ معلوم کی جاتی ہے اور نہ ہی وہ فنی تعلیم اس معیار کی ہوتی ہے، جس کی نجی شعبے کو ضرورت ہوتی ہے۔

اگر ہم 2015ء کے اعداد و شمار کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سال 24 لاکھ سے زائد نوجوان مارکیٹ میں داخل ہوئے، ان میں سے 4 لاکھ 76 ہزار 850 نوجوانوں نے بذریعہ ٹی ویٹ 3 ہزار 581 اداروں سے فنی تعلیم حاصل کی، لیکن وہ فنی تعلیم بھی مارکیٹ میں قابلِ قبول نہیں تھی کیونکہ جن نوجوانوں کو تربیت دے کر مارکیٹ بھیجا گیا وہ مارکیٹ کے بنیادی فارمولے، طلب و رسد سے مطابقت ہی نہیں رکھتے تھے۔

اس وقت پاکستان میں ٹی ویٹ شعبے میں فنی تعلیمی اداروں کی صورتحال بہت ہی دگرگوں ہے، حکومتوں کی بے توجہی کے باعث ہم انسانی قوت کے ایک بڑے وسیلے کو ضایع کر رہے ہیں۔ اگر 4 شعبوں کو آپس میں جوڑ دیا جائے تو ہم تھوڑی مدت میں شاندار نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ نجی شعبے کو پالیسی اور حکومت کے ساتھ جوڑا جائے اور یہ دونوں مل کر ٹی ویٹ کی اصلاحات پر عملدرآمد کروائیں اور انسانی وسائل کی ترقی کے تحت اساتذہ کا تربیتی پروگرام تشکیل دیں تو پاکستان ایک سے ڈیڑھ سال کے اندر بہترین ہنرمند نوجوانوں کو ملکی اور عالمی مارکیٹ میں متعارف کرواسکتا ہے۔

اس وقت دنیا میں فلپائن، بھارت، سری لنکا اور انڈونیشیا کے ماہر ہنرمند افراد سب سے زیادہ نظر آتے ہیں لیکن پاکستان ان ممالک کے برعکس بہت ہی پیچھے ہے۔ ہمارے سب سے زیادہ لوگ سعودی عرب یا مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں کام کررہے ہیں جن میں سندیافتہ ہنرمند افراد کی تعداد بہت ہی قلیل ہے، جس کا واحد سبب ہمارے معاشرے میں فنی تعلیم کی اہمیت کا عدم فروغ ہے۔

فنی تعلیم کی اہمیت نہ ہونے کے چند اسباب میں سے ایک تو ’استاد شاگرد‘ سسٹم ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ووکیشنل اور تربیتی مراکز میں بھی کوئی جدت اختیار نہیں کی گئی۔

پاکستان میں لگ بھگ سالانہ 30 لاکھ لوگ مارکیٹ میں ملازمتوں کے لیے آتے ہیں، جن میں 52 فیصد خواتین ہیں لیکن صرف 5 لاکھ افراد ہی ہمارے تربیتی مراکز کے ذریعے مارکیٹ کا حصہ بن پاتے ہیں جبکہ 25 لاکھ لوگوں کو باعزت روزگار مہیا نہیں ہوپاتا کیونکہ ان کی تربیت ٹی ویٹ کے ذریعے نہیں ہوپاتی۔

سرکاری تربیتی مراکز میں زیرِ استعمال ٹیکنالوجی اب زائد المعیاد ہوچکی ہے۔ موٹر ورکشاپ میں موجود جن گاڑیوں پر طلبہ کو تربیت دی جاتی ہے وہ موٹر کاریں 60ء کی دہائی کی ہیں، جبکہ مارکیٹ میں موجود گاڑیوں کا 60ء کی دہائی کی گاڑیوں سے دُور تک کوئی تعلق نہیں، پوری مشینری تبدیل ہوچکی ہے۔ 60ء کی دہائی کی اور آج کی کار میں زمین آسمان کا فرق ہے، یہی سبب ہے کہ جب موجودہ ٹی ویٹ سسٹم سے تربیت حاصل کرنے والے نوجوان مارکیٹ میں کام کے لیے آتے ہیں تو ان کو اس تربیت کا کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں ہوتا۔

سندھ کے فنی تعلیمی اداروں میں گزشتہ 8 برسوں کے دوران تربیت کاروں کی کوئی بھرتی نہیں ہوئی اور کہا جارہا ہے کہ آنے والے 3 برسوں کے بعد ان مراکز میں موجود لوگ ریٹائر ہونا شروع ہوجائیں گے۔

پاکستان کی سند یافتہ لیبر فورس کو بہتر فنی تعلیم سے آراستہ کرکے نہ صرف ملکی مارکیٹ بلکہ بیرونِ ممالک بھی بھیج کر کافی زرِِ مبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔

اگر اس شعبے کی طرف ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے تو آنے والے 2 سے 4 برسوں کے دوران ہم لاکھوں کی تعداد میں نوجوانوں کو دبئی اور قطر میں روزگار کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ 2020ء میں دبئی میں عالمی ایکسپو ہونے جارہی ہے، جس کے لیے ابھی سے دبئی میں تیاریاں جاری ہیں، اسی طرح 2022ء میں قطر میں فیفا فٹبال ورلڈ کپ کھیلا جانا ہے اور اس ایونٹ کے لیے بھی ابھی سے بیسیوں کی تعداد میں ماہر لیبر فورس کی ضرورت ہے۔

ان سب کاموں کے لیے ریاستی سطح پر کچھ اہم اقدامات کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔ سب سے پہلے حکومتِ پاکستان کو سرکاری سطح پر ایسی روایات کی بنیادیں ڈالنا ہوں گی، جن سے ماہر لیبر فورس کی معاشرے میں عزت پیدا کی جائے، ہوٹلنگ، مکینک، باورچی، میسن، سینیٹری ورکر، ویلڈر، کارپینٹر یا اس طرح کے دیگر ہنرمند افراد کو معاشرے میں ایک باعزت مقام دلانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ جب تک پاکستان کا معاشرہ اپنے ہنرمندوں کو معاشرے میں مقام نہیں دے گا، تب تک فنی تعلیم کا شعبہ اہمیت کا حامل نہیں بن سکے گا۔

پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اسی صورت میں ہی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے جب اس کا استعمال سائنسی طریقے سے کیا جائے۔ اس وقت پاکستان کی مارکیٹ میں سالانہ 30 لاکھ نوجوان ملازمتوں کے لیے مارکیٹ میں آرہے ہیں، 2030ء تک یہ تعداد بڑھ کر سالانہ تقریباً 50 لاکھ ہوجائے گی، اگر اس صورتحال کا ابھی سے کوئی مناسب بندوبست نہیں کیا گیا تو بڑھتی ہوئی آبادی مزید پیچیدہ مسائل پیدا کردے گی۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر نہ صرف فنی تعلیم کے سرکاری اداروں کی اصلاحات کرے بلکہ فنی تعلیم کو جدید بنیادوں پر استوار بھی کرے تاکہ ہمارے نوجوان سرکاری ملازمتوں کے بجائے اس شعبے کی طرف راغب ہوں اور باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔

فنی تعلیم کے اداروں میں نوجوانوں کو دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ہنر سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی کرنا ہوگی، تاکہ ملکی یا غیر ملکی مارکیٹ میں وہ نہ صرف اپنی بلکہ ملک کی عزت اور وقار بھی بڑھاسکیں۔