حکومت کے 100 روزمیں ہر وعدہ تکمیل سے دور رہا، مریم اورنگ زیب

26 نومبر 2018

ای میل

—فائل/فوٹو:اے پی
—فائل/فوٹو:اے پی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان اور سابق وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے پہلے 100 دنوں کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دنوں میں حکومت کی جانب سے کہا گیا ہر لفظ جھوٹ اور ہر وعدہ تکمیل سے دور تھا۔

مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا 100دن کا تہلکہ خیز اور تاریخ کا سب سے بڑا یوٹرن عوام کے سامنے عیاں ہونے لگا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 100روز میں عوام پر جو قیامت گزری وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ گزشتہ 100 روز میں حکومت کا کہا گیا ہر لفظ جھوٹ اور کیا گیا ہر وعدہ تکمیل سے دور تھا اور ان دنوں میں میرٹ کا قتل عام ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:’حکومت کے 100 دن کہیں 100 لطیفے نہ بن جائیں‘

انہوں نے کہا کہ اس دوران تاریخی جھوٹ اور یوٹرن کی قسط قوم کے سامنے آنے والی ہے۔

مریم اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ ‘‎عمران صاحب! 100 دن پر یوٹرن لیتے ہوئے یاد رکھیں قوم سب کچھ جان گئی ہے۔

حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 100 دنوں میں لوگوں کے منہ سے نوالا چھینا گیا، تاریخی مہنگائی کا بم گرایا گیا، عوام بدترین اذیت سے گزرے، وزیر اعظم کے اونٹ پر بیٹھ کر سعودی عرب جانے کا معجزہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے منصوبوں کو اپنے کھاتے میں ڈالنے اور اشتہارات کے ذریعے سو دنوں کی کارکردگی کا تماشا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں:حکومت کے پہلے 100 دن: تحریک انصاف کا 6 نکاتی ایجنڈے کا اعلان

سابق وزیراطلاعات و نشریات نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر گوگل پر منتقل ہوگئے ہیں اور 55 روپے فی کلو میٹر ہیلی کاپٹر کی سواری ایجاد ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنی گالا میں وزیراعظم عمران خان کا سرکاری زمین پر قبضہ برقرار ہے اور حکمرانوں نے ملکوں ملکوں بھیک مانگ کر قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔

وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان قرض کے سوا کوئی معاشی پالیسی نہ دے سکے۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے انتخابات 2018 سے قبل حکومت کے قیام کی صورت میں پہلے 100 روز کے دوران ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کے لیے 6 نکاتی ایجنڈے کا اعلان کردیا تھا جس میں طرزِ حکومت کی تبدیلی کو اولین ترجیح قرار دیا گیا تھا۔