نئے کلو گرام میں اب کوئی چیز کتنی کم یا زیادہ ملے گی؟

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2018

ای میل

سائسندانوں نے کلو گرام کا نیا طریقہ وضح کرلیا —فوٹو: نیو سائنٹسٹ
سائسندانوں نے کلو گرام کا نیا طریقہ وضح کرلیا —فوٹو: نیو سائنٹسٹ

بچپن سے گھر میں امی سے سنتے آئے ہیں کہ ایک کلو دہی یا 5 کلو چینی لادو۔ لیکن یہ کلو کیا ہے؟ اس بارے میں بچپن میں کبھی سوچا ہی نہیں، لیکن جیسے جیسے فزکس سے تعلق جڑا تو یہ پڑھ کر معلوم ہوا کہ کلو گرام دراصل ماس کی اکائی ہے جو 7 بنیادی اکائیوں کے ایک نظام کا حصہ ہے اور یہ ساتوں اکائیاں دنیا بھر میں ناپ تول، تجارت، صنعت و حرفت ہر جگہ یکساں استعمال کی جاتی ہیں۔

پیمائش و ناپ تول خاص کر وزن اور لمبائی کی پیمائش کے لیے کسی مخصوص اکائی کا تصور نیا نہیں ہے۔ تاریخی حوالہ جات کے مطابق 12ویں صدی تک ان دونوں مقداروں کے لیے کوئی باقاعدہ اکائی موجود نہیں تھی اور ہر علاقے کے حکمران کی ذاتی پسند کے مطابق ناپ تول کا پیمانہ مقرر کیا جاتا تھا۔

سب سے پہلے 1215ء میں میگنا کارٹا میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ پوری سلطنت میں شراب، گندم اور مکئی وغیرہ جیسی روز مرہ کی استعمال کی اشیا کو ناپنے کے لیے وزن اور کپڑے کی پیمائش کے لیے ایک ہی پیمانہ ہونا چاہیے۔

میگنا کارٹا کو انسانی تاریخ کا اہم اور پہلا تحریری دستاویز مانا جاتا ہے، جو 1215ء میں عوام کے پُرزور مطالبے کے بعد برطانیہ کے بادشاہ کی ایما پر جاری کیا گیا۔

اگرچہ اس قانونی دستاویز میں بھی انسانی حقوق کی کئی خلاف ورزیاں تھیں، تاہم اس دستاویز کے ذریعے بادشاہ نے تسلیم کیا کہ وہ قانون سے بالاتر نہیں اور پھر اس معاہدے نے انسانی تاریخ کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پھر جب رفتہ رفتہ ذرائع آمد و رفت بہتر ہونے اور آبادی کے پھیلنے کے ساتھ دنیا کے مختلف خطوں میں باقاعدہ لین دین اور بڑے پیمانے پر تجارت کا آغاز ہوا تو مختلف علاقوں میں رائج متفرق اوزانِ پیمائش کے باعث پیچیدگیاں بڑھنے لگیں۔

سائنسدانوں نے محسوس کیا کہ یہ مسئلہ انسانی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔

پیرس میں محفوظ کیا گیا ایک کلو کا باٹ—فوٹو: 702 ڈاٹ کام
پیرس میں محفوظ کیا گیا ایک کلو کا باٹ—فوٹو: 702 ڈاٹ کام

اس سلسلے میں پہلی باقاعدہ پیش رفت فرانس میں ہوئی اور وہاں کی قومی آئینی اسمبلی نے ملک بھر میں رائج بے شمار اکائیوں کو ختم کرتے ہوئے پورے ملک میں لمبائی کی پیمائش کے لیے ایک اکائی مقرر کی، جسے میٹر کا نام دیا گیا جو خط استوا سے شمالی قطب کے کل فاصلے کا 10 لاکھ حصے کے برابر تھا۔

جسے بعد ازاں فرانسیسی ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات جین بیپٹسٹ کی مزید تحقیقات کے بعد 1789ء میں اپ ڈیٹ کیا گیا۔ اس میٹرک سسٹم کے مطابق میٹر ایک بنیادی اکائی تسلیم کی گئی، جس سے لیٹر اور کلو گرام اخذ کیے گئے۔

ایک لیٹر ایک ہزار کیوبک سینٹی میٹر کے برابر جبکہ ایک کلو گرام ایک لیٹر پانی کے ماس کے برابر رکھا گیا۔

اس کے تقریباً ایک صدی بعد 1875ء میں 17 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ایک میٹر کنونشن منعقد کیا گیا، جس میں دنیا بھر میں یکساں پیمائش کے معیار مقرر کرنے کے لیے وزن اور پیمائش کی عالمی بیورو قائم کی گئی، جس میں وزن اور لمبائی کے پیمانے مختص کیے گئے اور ایک پلاٹینم، اریڈیم بھرت سے بنے ہوئے سیلنڈر کے ماس کو معیاری کلوگرام قرار دیا گیا جو عام درجۂ حرارت اور دباؤ پر پیرس کے قریب سیورز میں انٹرنیشنل بیورو میں محفوظ کردیا گیا تھا۔ مگر 20ویں صدی میں پلانک اور آئن اسٹائن کی جدید تحقیقات کے بعد ایک دفعہ پھر پیمائشی نظام میں تبدیلی شدت سے محسوس کی جانے لگی، کیونکہ صدیوں پرانے نیوٹونین فزکس کے قوانین کی جگہ اب نئے کوانٹم فزکس کے قوانین لینے لگے تھے۔

لہٰذا 1960ء میں دنیا بھر کے ممالک کے اشتراک سے 7 بنیادی اکائیوں پر مشتمل ایک عالمی نظام تشکیل دیا گیا جسے 'انٹرنیشنل سسٹم آف یونٹس' یا مختصراً ‘ایس آئی‘ کہا جاتا ہے۔

اس میں میٹر (لمبائی) کلوگرام (ماس) سیکنڈ (وقت) ایمپئیر (کرنٹ) کیلون (درجۂ حرارت) مول (مادے کی مقدار) اور کینڈیلا (روشنی کی شدت) شامل تھے۔

انہی بنیادی اکائیوں سے دیگر ماخوذ مقداروں کی اکائیاں اخذ کی جاتی ہیں۔

نومبر میں فرانس میں ہونے والے اجلاس میں نئے کلو گرام کی منظوری دی گئی—فوٹو: بی آئی پی ایم
نومبر میں فرانس میں ہونے والے اجلاس میں نئے کلو گرام کی منظوری دی گئی—فوٹو: بی آئی پی ایم

اس نظام کے تحت ایک کلوگرام پلاٹینیم–اریڈیم سے بنے ایک سیلنڈر کے ماس کے برابر ہے جو پیرس میں مزید احتیاط کے ساتھ محفوظ کیا گیا۔

کلوگرام کا یہ پروٹو ٹائپ 3 گلاس بیلز میں رکھا گیا ہے جسے کھولنے کے لیے 3 چابیوں کی ضرورت پڑتی ہے، اس طرح اس کے گرد ماحول کو مکمل طور پر محفوظ کردیا گیا، کیونکہ اس میں مائیکرو کی حد تک کسی بھی تبدیلی سے دنیا بھر میں ماس کا معیار تبدیل ہوجائے گا جو عالمی تجارت ہی نہیں سائنسی تحقیقات کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

دنیا بھر میں ماس کا مساوی معیار رکھنے کے لیے اس سیلنڈر کی ہوبہو نقل تیار کرکے مختلف ممالک کو فراہم کی گئیں، مگر گزرتے برسوں میں مشاہدہ کیا گیا کہ کلوگرام کے اس انٹرنیشنل پروٹو ٹائپ میں تبدیلی آئی ہے اور اس کی بنائی گئی کاپیز کا ماس اصل پروٹوٹائپ سے مائیکرو گرام یا ایک گرام کا دس لاکھواں حصہ سے زیادہ ہوگیا ہے۔

حالانکہ سائنسدان ابھی تک یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کلوگرام کے اس پروٹو ٹائپ کے ماس میں کمی ہوئی ہے یا اضافہ ہوا ہے، مگر فضا میں موجود سلور کے مادے کی مقدار بڑھنے یا وزن کرنے کے دوران بار بار رگڑ کھانے سے اس میں تبدیلی ضرور آرہی ہے۔

اس کے علاوہ اس سیلنڈر کو ہر 40 برس بعد دھویا بھی جاتا ہے جس سے ماس میں معمولی سی تبدیلی غالب از امکان نہیں۔

7 بنیادی اکائیوں کی ازسرِ نو تعریف کرنے کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جارہی تھی اور سائنسدان چاہتے تھے کہ اب اجسام کے بجائے ان کو یونیورسل مستقل مقداروں کی بنیاد پر بیان کیا جائے تاکہ کمی بیشی کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔

اس عمل کے لیے سب سے پہلے میٹر کی اور اس کے بعد سیکنڈ کی تعریف تبدیل کی گئی۔ ایک میٹر کسی ویکیوم میں روشنی کی رفتار کا 299،792،458/1 واں حصہ قرار دیا گیا۔

نئے کلوگرام سے انسان کے بھوں کے بال کے وزن سے بھی کم فرق پڑے گا—فوٹو: چنائے ٹیلی گرام
نئے کلوگرام سے انسان کے بھوں کے بال کے وزن سے بھی کم فرق پڑے گا—فوٹو: چنائے ٹیلی گرام

واضح رہے کہ روشنی کی رفتار ایک یونیورسل مستقبل ہے، جس میں تبدیلی ممکن نہیں، اسی طرح سیکنڈ کی پرانی تعریف کے مطابق موجودہ جی پی ایس ٹیکنالوجی کا تصور بھی ممکن نہیں تھا، کیونکہ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کے مطابق زمین کے گرد مدار میں چکر کاٹتے ہوئے وقت کسی حد تک سست ہوجاتا ہے، کیونکہ مدار میں سیٹلائٹ کی رفتار کافی زیادہ ہوتی ہے۔

لہٰذا سیکنڈ کی نئی تعریف سیزیم ایٹم کے 2 ٹرازیشن لیولز کے درمیان ریڈی ایشن پیریڈ کے 9،192،631،770 (کوانٹم نمبر) حصے پر رکھی گئی۔ اس نئی تعریف کے بغیر جی پی ایس، گوگل میپ اور جی پی ایس گائیڈڈ آلات کا تصور بھی ممکن نہیں تھا، جو آج کل ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں۔

جی پی ایس اور سیکنڈ کے باہمی تعلق سے سائنسدانوں کو اندازہ ہوا کہ دیگر بنیادی مقداروں کی اکائیوں کی بھی نئے سرے سے تشریح کرنا اشد ضروری ہے۔ مگر کلوگرام کی تعریف تبدیل کرنے میں کافی مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر 16 نومبر 2018ء کو اوزان و پیمائش کی ایک جنرل کانفرنس میں 60 ممالک کے نمائندوں نے پلاٹینم اریڈیم کے سلنڈر کے پروٹو ٹائپ کو ہمیشہ کے لیے متروک کرتے ہوئے پلانک کے مستقل پر کلوگرام کی نئی تعریف کو دنیا بھر میں اختیار کرنے کی منظوری دی۔

واضح رہے کہ پلانک کا مستقل ایک مخصوص عدد ہے جس کا تعلق روشنی کی موج کی فریکوئنسی (گردشی تعداد) اور فوٹان کی انرجی سے ہے۔ (فوٹان صفر ماس والے توانائی کے پیکٹس ہیں, جن کی توانائی ریڈی ایشن فریکوئنسی کے براہِ راست متناسب ہوتی ہے)۔ لیکن کلوگرام کو پلانک کے مستقل پر بیان کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس کی قیمت انتہائی درست حد تک معلوم ہو۔

اس کے لیے 2005ء سے کوششیں جاری تھیں، اور اس مقصد کے لیے واٹ بیلنس استعمال کیا جاتا رہا ہے، جسے اب 'کبل بیلنس' کہا جاتا ہے۔ کبل بیلنس بھی عام ترازو ہی کی طرح ہے، جو تقریباً 4 ہزار سال سے دنیا بھر میں وزن کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، مگر اس میں 2 اجسام کے ماسز کا موازنہ کرکے قوتِ ثقل (گریوی ٹیشنل فورس) کے ذریعے ایک کا ماس معلوم نہیں کیا جاتا، بلکہ اس میں ترازو کے دوسرے پلڑے کے بجائے ایک کوائل لگائی جاتی ہے جس میں سے کرنٹ گزار نے پر ایک مضبوط مقناطیسی فیلڈ بنتی ہے اس مقناطیسی قوت کا ماس سے موازنہ کرکے سائنس دانوں نے پلانک کے مستقل کی جو قیمت معلوم کی وہ آخری حد تک درست تھی۔

اس مقصد کے لیے ایک اور طریقہ کار بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس میں سیلیکون 28 جسے اب تک مصنوعی طریقے سے تیار کردہ مکمل کرہ نما سمجھا جاتا ہے کہ ایک سیفئر میں ایٹموں کی کل تعداد معلوم کر کے ایوو گیڈرو نمبر کا پتا لگایا جاتا ہے اور پھر اسے پلانک کے مستقل میں تبدیل کر لیا جاتا ہے۔

نئے کلو سے میڈیسن کمپنیز اور سائنسی اداروں میں کافی فرق آئے گا—فوٹو: مڈ ڈے
نئے کلو سے میڈیسن کمپنیز اور سائنسی اداروں میں کافی فرق آئے گا—فوٹو: مڈ ڈے

ان دونوں طریقوں سے کلوگرام کی جو قیمت سائنسدانوں نے معلوم کی وہ اس حد تک درست ہے کہ اس میں انسانی ابرو کے بال کے وزن کے برابر بھی کمی بیشی نہیں ہے۔ اس میں مزید درستگی کے لیئے 20 مئی 2019 میں منعقد کی جانے والی اوزان و پیمائش کی جنرل کانفرنس میں یہ اصول واضع کیا جائیگا کہ دنیا بھر میں کہیں بھی پلانک کے مستقل کی مقدار معلوم کرنے کے لیے تین تجربات لازمی قرار دیے جائیں گے تاکہ اس میں ایک کروڑ کے 50 ویں حصے کے برابر بھی فرق نہ آسکے۔ مزید یہ کہ ان تین تجربات میں سے ایک کے نتیجے میں لازمی ایک کروڑ کے بیسویں حصے کے برابر بھی فرق نہیں آنا چاہیے، جس کے لیے سیلیکون سفیئر والے طریقے کو آئیڈیل سمجھا جا رہا ہے اور یقیناً ان کوششوں سے دنیا بھر میں استعمال کی جانے والی کلوگرام کی اکائی اب تبدیل ہو جائے گی۔

لیکن اس سے عام افراد یا صارفین پر معمولی سے اثرات بھی مرتب نہیں ہونگے، کچن میں کیک، بریانی، کھیر یا پیزا بنانے کے لیے جو ناپ طول کیا جاتا تھا وہ اسی طرح بغیر کسی تبدیلی کے جاری رہے گا، مگر اس سے فارماسیوٹیکل، پرزہ جات کے کارخانوں اور سائنسی تحقیقات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔

کیونکہ سائنسی تحقیق و صنعتوں میں کلوگرام میں ابرو کے بال کے وزن کے برابر فرق بھی کسی بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ مجموعی طور پر پلانک کے مستقل کی ایک بلکل درست مقدار معلوم ہو جانے کے بعد پورا ایس آئی نظام اب از سر نو تشکیل دیا جائےگا۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے عروج کا دور ہے، ہمارے ماہرین فلکیات دوسری کہکشاؤں کے بعد اب نئی کائناتوں کی کھوج میں ہیں۔

لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ ایک صدی پرانے بنیادی اکائیوں کے اس نظام سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے جس کی بنیاد اجسام پر تھی اور نئے سرے سے اس نظام کی تشکیل کرتے ہوئے ہر اکائی کی یونیورسل مستقل مقداروں سے تشریح کی جائے۔


صادقہ خان نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے اپلائیڈ فزکس میں ماسٹرز کیا ہے، وہ پاکستان کی کئی سائنس سوسائٹیز کی فعال رکن ہیں۔ ڈان نیوز پر سائنس اور اسپیس بیسڈ ایسٹرا نامی کے آرٹیکلز/بلاگز لکھتی ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں [email protected]


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔