ونسٹن چرچل: دوسری جنگِ عظیم کا فاتح لیکن سفاک حکمراں

30 نومبر 2018

ای میل

محبت اور جنگ میں سب جائز ہے، لیکن عالمی سیاست کی تاریخ میں ایک ایسی شخصیت بھی گزری ہے، جس نے اپنے لیے صرف ’جنگ‘ کا انتخاب کیا اور اس فیصلے کے ذریعے دنیا کی تاریخ بدل ڈالی۔

دوسری عالمی جنگِ عظیم کا فاتح اور اس وقت کے انگلستان کا وزیرِاعظم ’ونسٹن چرچل‘ صرف جنگجو ہی نہیں بلکہ فنونِ لطیفہ کا بھی رسیا تھا۔ ادب، مصوری، صحافت اور ثقافت بھی اس کے رگ و پے میں سرایت کرتی تھی۔ اس نے ہمیشہ زندگی کے سارے فیصلے عقل سے کیے، دل کو قریب نہ بھٹکنے دیا، یہی وجہ ہے کہ جب وہ بسترِ مرگ پر تھے، تو اس کے منہ سے ادا ہونے والے آخری الفاظ کچھ یوں تھے، ’میں اس سب کے ساتھ بور ہوگیا ہوں۔‘

ونسٹن چرچل کو سیاست ورثے میں ملی تھی۔ اس کے والد ’لارڈ نڈولف‘ معروف برطانوی سیاست دان تھے، جبکہ ماں ’جینی‘ امریکی یہودی خاتون تھی۔ وہ 30 نومبر 1874ء کو برطانیہ میں اعلیٰ خاندانی پس منظر رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوا۔ 18ویں صدی میں برطانوی بادشاہت کی طرف سے چرچل کے خاندان کی عسکری خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا۔

برِصغیر کو جب انگریز اپنی کالونی بنانے کے منصوبے بنا رہے تھے اور حکومتی سطح پر اس کی تیاریاں ہو رہی تھیں، تو انہی حکمرانوں اور پارلیمنٹ کے ممبران میں سے ایک چرچل کے دادا ’جون اسپنسر‘ بھی شاملِ حال تھے۔ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس کے والد ’لارڈ رینڈولف‘ اور پھر یہ خود اس حکومتی اشرافیہ کا حصہ بنا۔

ونسٹن چرچل
ونسٹن چرچل

اس کے والدین کی شادی محبت کی تھی، دونوں فرانس میں ملے اور چند دنوں کے اندر ہی برطانوی سفارت خانے میں جاکر شادی کرلی۔ ان کی اولاد میں سے ایک بیٹا چرچل تھا، لیکن طبعی لحاظ سے اس کی ولدیت میں تضاد تھا، جس کے سبب کئی نفسیاتی رکاوٹوں نے چرچل کی زندگی کو مضطرب کیا، یہی وجہ تھی کہ وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چڑچڑا، بدتمیز اور سفاک ہوتا چلا گیا۔

بچپن اور زمانہ طالبِ علمی میں نالائق طالب علم ہونے کے ناطے اساتذہ کی تنقید کا نشانہ بھی بنتا رہا، حتیٰ کہ متعدد مواقع ایسے بھی آئے کہ جب اس کو جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اسے ہاسٹل میں گزارے ہوئے دنوں سے نفرت تھی۔ لیکن یہ سارا وقت گزرتا گیا اور جب 19ویں صدی اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی تو چرچل کے مستقبل کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔

جنگی معرکے اور جرائم

اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فوج کی ملازمت اختیار کی۔ 3 جنگوں میں بذاتِ خود میدانِ جنگ میں مصروفِ عمل رہا، ان جنگوں میں پہلی جنگ افریقہ میں لڑی جانے والی جنگ تھی، جس میں مدمقابل سوڈان کا مذہبی راہنما ’محمد احمد بن عبداللہ‘ تھا۔

برطانیہ کی کالونی کے طور پر سوڈان زیرِ تسلط تھا، وہاں انگریزوں کا جھنڈا بلند رکھنے کے لیے چرچل میدانِ جنگ میں اترا، اس جنگ کو ’اینگلو سوڈان وار‘ بھی کہا جاتا ہے۔ افریقہ میں ہی لڑی جانے والی دوسری جنگ ’اینگلو بوئیروار‘ اور جنگِ عظیم اول میں بھی چرچل عملی طور پر شریک تھا۔

چوتھی جنگ، جس کو جنگِ عظیم دوم کہا جاتا ہے، اس میں بطورِ وزیراعظم اور عسکری رہنما کے طور پر شریک ہوا اور کامیابیاں سمیٹیں۔ افریقہ اور ہندوستان میں اس کی عسکری زندگی کے کئی گوشے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ کی شرکت کا فیصلہ بھی چرچل کی مرہون منت تھا۔

چرچل 1896ء میں بمبئی آیا، وہاں سے اس کا تبادلہ بنگلور ہوگیا۔ اس دوران کلکتہ، حیدر آباد، میرٹھ اور پشاور میں اس نے کئی دن گزارے، بلکہ مالاکنڈ میں برطانوی فوج کی زیرِ نگرانی ہونے والے فوجی معرکوں میں بطور صحافی شریک ہوا۔ بعدازاں ان یادوں پر مشتمل ایک کتاب ’دی اسٹوری آف مالاکنڈ فیلڈ فورس‘ لکھی، یہ اس کی زندگی کی پہلی کتاب تھی۔

چرچل ایک تعصبی انگریز ہونے کے ناطے مسلمانوں اور ہندوستانیوں سے نفرت کرتا تھا۔ وہ کچھ سال اس خطے میں رہا، لیکن اس کا دل کبھی اس دھرتی کے لیے نرم نہ ہوا۔ اس نے اپنی زندگی میں متعدد کتابیں لکھیں، ایک ناول بھی لکھا۔ اس تصنیف وتالیف کے کام پر اسے 1953ء میں نوبیل ادبی انعام سے بھی نوازا گیا۔

ونسٹن چرچل اپنا تاریخی وکٹری نشان دکھاتے ہوئے
ونسٹن چرچل اپنا تاریخی وکٹری نشان دکھاتے ہوئے

سیاست اور عسکریت کے میدان میں اگلی 3 دہائیوں تک اس نے خوب محنت کی، زندگی کے سفاک رویوں سے بھی پالا پڑا۔ محبت کے پڑاؤ، گھرداری اور زندگی کے مختلف پہلوؤں میں مصروفِ عمل رہا۔ دوسری جنگِ عظیم میں 2 چیزیں تبدیل ہوئیں، ایک تو دنیا کی تاریخ اور دوسرے ونسٹن چرچل کی زندگی۔ یہ معدودے چند اشخاص میں سے ایک ہے، جس نے اپنے مستقبل کو تاریخ میں اپنے ہاتھوں سے محفوظ کیا۔ قسمت کی دیوی بھی اس پر مہربان رہی۔

دوسری جنگِ عظیم سے پہلے برطانیہ کے وزیرِاعظم ایڈولف ہٹلر کی مخالفت مول لینے میں ہچکچاتے تھے، جبکہ چرچل نے ٹھوک بجا کر ہٹلر کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا۔

اپنی عسکری اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر لڑنے کی صلاحیتوں کو بطور وزیرِاعظم خوب استعمال کیا۔ دوسری جنگِ عظیم میں اس نے جس طرح اپنی حکمتِ عملی سے ’نازیوں‘ کو چت کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ الگ بات ہے جہاں ایک طرف اس نے ڈنکرک کے محاذ پر پھنسے اپنے لاکھوں سپاہیوں کی جان بچائی، تو دوسری طرف جرمنی کے شہر ’ڈریسڈین‘ پر شدید بمباری کا حکم دے کر لاکھوں آدمیوں کی جان لی، ان میں سے اکثریت نہتے عوام تھے۔

بنگال کے قحط میں لاکھوں انسانوں کی جان لینے کا ذمے دار بھی چرچل کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایسی کئی جنگی جرائم کی داستانیں بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہیں، جس میں بالخصوص نوآبادیوں کے ساتھ روا رکھے جانے کے تناظر میں، اس کی سفاکیت اور تعصب نما شخصیت کا منفی تاثر ابھر کر سامنے آتا ہے۔

سیاسی زندگی کے دریچے

ورثے میں ملی ہوئی سیاست سے ناطہ جوڑنے کے لیے اس نے خود کو رضامند کرلیا۔ 21ویں صدی کی شروعات ہی اس کے سیاسی کیریئر کی ابتدا بھی تھی۔ لندن میں ایک فلیٹ خرید کر سیکریٹری رکھی، جس کو راستے تلاش کرنے کے کام پر لگایا۔ کنزرویٹو پارٹی کی طرف جھکاؤ تھا، جلد اپنے مقصد میں کامیاب ہوا، پارٹی سے ٹکٹ ملا اور اس پر کامیاب ہوکر رکنِ پارلیمنٹ بن گیا، اب یہاں سے اس کی زندگی کے کچھ منفرد اور تاریخی دور کا آغاز ہوا۔

ونسٹن چرچل اپنی بہن کے ہمراہ
ونسٹن چرچل اپنی بہن کے ہمراہ

اسے امریکا بطور ملک بہت پسند تھا، یہ وہاں اکثر جایا کرتا اور سیاسی کیریئر میں آنے کے بعد اس نے امریکا کے کئی دورے کیے۔ ایک موقع پر معروف امریکی لکھاری ’ٹوئن بی‘ نے ان کو علمی محافل میں متعارف کروایا۔ چرچل نے اپنے لیکچرز سیریز کی وجہ سے کینیڈا اور یورپی ممالک تک کا سفر کیا۔ ایک طویل داستان ہے، کس طرح اس نے مختلف سیاسی و حکومتی عہدوں پر رہ کر اپنے کیریئر کو ترقی دی اور آخر کار ایک دن برطانیہ کا وزیرِاعظم بن گیا۔

دوسری جنگِ عظیم جیتنے کے بعد ہونے والے انتخابات میں شکست کھائی، کیونکہ برطانوی عوام چاہتے تھے کہ اب کوئی ایسا حکمران آئے، جس کے ذریعے امن اور بھائی چارے کو فروغ ملے اور جنگیں ختم ہوں، اسی لیے یہ ہار کر حزبِ اختلاف بنا، پھر اس کے بعد والے انتخابات میں دوبارہ وزیرِاعظم بنا، مگر جلد ہی اس نے ریٹائرمنٹ لے لی، کیونکہ اس کی صحت جواب دے رہی تھی۔

بطور محقق اور مصور

چرچل کی بنائی ہوئی پینٹنگز دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تخلیقی اعتبار سے کس قدر زیرک اور دلچسپ فنکار تھا۔ اس کو تمام زندگی ڈپریشن نے پریشان کیا، مگر اس کی تصویروں میں ایک طمانیت دکھائی دیتی ہے، جس کا شائبہ اس کی حقیقی زندگی میں نہیں ملتا ہے۔

اس کے فن کا انداز تاثراتی تھا، اس میں وہ کمال ہنر سے فن پارے تخلیق کرتا رہا، جنہیں بے حد پسند بھی کیا گیا۔ افریقہ اور یورپ میں گزارے ہوئے دنوں میں، جب اسے اپنے پیشہ ورانہ کاموں سے فرصت ملتی، تو وہ چھٹی کے روز فیچر لینڈ اسکیپ کی طرز پر آئل پینٹنگ بنا کر اپنا فارغ وقت گزارا کرتا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم میں، جب یہ بطور حکمران اور جنگجو بے حد مصروف تھا، تب اس نے پورے عرصے میں صرف ایک پینٹگ متصور کی۔

اس نے اپنی توجہ لکھنے پڑھنے کی طرف بھی مبذول کروائی۔ 1898ء میں اس کی پہلی کتاب شائع ہوئی، ساتھ ساتھ کالم وغیرہ بھی لکھتا تھا۔ اس کی 2 کتابیں بہت مقبول ہوئیں، پہلی 6 والیم پر مشتمل کتاب ’دی سیکنڈ ورلڈ وار‘ تھی، اسی کی وجہ سے اس کو نوبیل پرائز کا حق دار گردانا گیا، جبکہ دوسری کتاب ’اے ہسٹری آف دی انگلیش اسپیکنگ پیپلز‘ بھی ایک اہم تحقیقی اور دقیق کام تھا، جس کو علمی حلقوں میں مقبولیت ملی۔

6 والیم پر مشتمل دی سیکنڈ ورلڈ وار
6 والیم پر مشتمل دی سیکنڈ ورلڈ وار

بنگال کا قحط اور مغرب کی سرد مہری

دوسری جنگِ عظیم کے دوران 1943ء میں ہندوستان کے پڑوسی ملک برما پر جرمنی کے اتحادی ملک جاپان کا قبضہ ہوگیا تھا، یہ ملک ہندوستان کے لیے چاول کی دستیابی کا اہم ترین ذریعہ تھا اور قبضہ ہونے کے بعد جاپانیوں نے ہندوستان کے لیے چاولوں کی فراہمی روک دی۔ یہ وہی دن ہے، جب گاندھی انگریز حکومت کے خلاف بھوک ہڑتال پر تھے۔

چاولوں کی عدم فراہمی کے باعث جب بنگال میں قحط کی صورتحال پیدا ہوئی، تو چرچل کو تمام تر صورتحال کے بارے میں مطلع کیا گیا، لیکن اس نے جواب میں یہ کہا کہ ’اگر ہندوستان چاول کی کمی کا شکار ہے تو ابھی تک گاندھی کی بھوک کے مارے موت کیوں نہیں ہوئی؟‘

اس کے رویے کی سختی کا یہ عالم تھا کہ تقریباً 30 لاکھ ہندوستانی اپنی جانوں سے گئے مگر چرچل کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور یہ وہ خطہ تھا، جس کے لوگ، برطانیہ کے علم کو سربلند رکھنے کے لیے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے، دوسری جنگِ عظیم میں پیش پیش بھی تھے۔

ہندوستانی عوام کے ساتھ یہ انگریزوں کے بدترین سلوک کی سیاہ مثال تھی۔ بنگال کے قحط میں سسک سسک کر مرنے والے لاکھوں افراد کی تکلیف دہ موت انسانی شعور اور حساسیت کی موت تھی، جس کو کبھی بھی موضوع بحث نہیں بنایا گیا۔ مغربی محققین نے بھی اس بات کی تائید کردی ہے کہ بنگال کے قحط کا ذمے دار براہِ راست چرچل تھا، جس نے چاول کو اس قحط میں تقسیم کرنے کے بجائے، محفوظ رکھا تاکہ وہ خوراک اس کے فوجیوں کے کام آسکے اور وہ جنگ جیت سکے۔

چرچل کی خواہش کے عین مطابق دوسری جنگِ عظیم جیت لی گئی، پھر اس کی خواہش تھی کہ سوویت یونین کے ٹکڑے کرے، مگر یہ کام فوری طور پر امریکا کے رکاوٹ بن جانے کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکا۔ اسی طرح وہ ہندوستانیوں اور دیگر نوآبادیات کو آزادی دینے کے حق میں نہیں تھا، لیکن حالات اس کے قابو میں نہ رہے اور ہندوستان نے آزادی حاصل کی، یوں بھارت اور پاکستان وجود میں آئے۔

ونسٹن چرچل شاہ سعودی عرب عبدالعزیز ابن سعود کے ہمراہ
ونسٹن چرچل شاہ سعودی عرب عبدالعزیز ابن سعود کے ہمراہ

ہولی وڈ کی فلمیں ہوں یا مغربی محققین کی اکثریتی کتابیں، زیادہ تر چرچل اور مغرب کا نرم و توصیفی پہلو تو بیان کرتے ہیں مگر تلخ اور کڑوے حقائق، مظالم کی داستانیں اور سفاکیت پر روشنی نہیں ڈالتے۔

مثال کے طور پر 2 فلمیں ’ڈارکسٹ آور‘ اور ’ڈنکرک‘ میں چرچل بطور حکمران اور جرنیل مثبت پہلوؤں سے دکھایا گیا ہے، لیکن سب اچھا نہیں تھا، اس پر بات نہیں کی گئی۔

مغربی طاقتیں آج بھی بڑے اعتماد سے جھوٹ بولتی ہیں۔ ہمارے سیاسی منظرنامے کی طرح ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہوئے، افسانوی داستانیں نہیں سنائی جاتیں، لیکن پھر بھی ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے کہ ہمارے ساتھ تاریخ میں کیا کچھ ہوا۔ نہ ہی ہم اپنی نئی نسل کو تاریخ اس رخ سے دکھاتے ہیں۔

نرگسیت زدہ شخصیت کا مالک، آمرانہ مزاج رکھنے والا چرچل، ہندوستانی خطے کے لیے بطور ایک سفاک تاریخی کردار کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جس کے ہونٹوں پر سگار اور اس سے اٹھنے والا دھواں تو سب کو دکھائی دیا، لیکن اس کے ہاتھوں پر لاکھوں ہندوستانیوں کا خون ہے، اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔

لندن میں ایستادہ ونسٹن چرچل کا مجسمہ—تصویر اے ایف پی
لندن میں ایستادہ ونسٹن چرچل کا مجسمہ—تصویر اے ایف پی

نہ ہی برطانیہ نے آج تک سرکاری سطح پر کوئی معذرت کی، نہ ہی کوئی ایسا عمل، جس سے یہ اندازہ ہو کہ انگریزوں کو اس غیرانسانی عمل پر ندامت ہے۔

امریکا نے تو جاپان پر ایٹم بم گرانے کے بعد پھر وہاں کی تعمیرِ نو کی، صرف یہی نہیں بلکہ امریکی صدر نے ہیروشیما میں ان جنگی یادگاروں کا دورہ بھی کیا، لیکن ہندوستان کے معاملے پر برطانیہ کی خاموشی آج تک برقرار ہے، صرف قحط ہی نہیں بلکہ دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں میں ہندوستانی بھی شامل تھے۔

فتح کا نشان (وکٹری) چرچل کی اختراع ہے، دنیا بھر میں جیت کے نشان کے طور پر اس نے یہ علامت اور انداز اختیار کیا مگر اس جنگی جیت میں اس کی اخلاقی ہار بھی شامل تھی۔ یہ جیت اس فردِ واحد کی نہیں تھی، نہ صرف برطانویوں کی بلکہ تاریخ کے یہ اوراق ہندوستانی قربانیوں کے خون سے بھی تر ہیں، اُس خون کی رنگت اور دُکھ کی حدت اب بھی محسوس ہوتی ہے، اگر کوئی محسوس کرنا چاہے تو۔