سوشل میڈیا پر غیرقانونی مواد کی روک تھام کیلئے الگ تحقیقاتی ایجنسی بنانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 13 دسمبر 2018

ای میل

فائل فوٹو/کریٹو کامنز
فائل فوٹو/کریٹو کامنز

اسلام آباد: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیرقانونی مواد کی روک تھام کے لیے الگ تحقیقاتی ایجنسی قائم کی جارہی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تفویض کردہ اختیارات کا عائشہ رضا فاروق کی صدارت میں اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے حکام شریک ہوئے۔

اجلاس میں سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد کی روک تھام کا معاملہ زیر غور آیا اور اراکین کو اس سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی کو بتایا کہ گیا کہ اس وقت آن لائن غیر قانونی مواد کو ہٹانے کا معاملہ 'ایف آئی اے' دیکھ رہی ہے۔

عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ ہمارے تحفظات تھے کہ اس معاملے پر الگ ایجنسی قائم کی جائے، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) تو پہلے ہی موجود ہیں لیکن موثر ایجنسی کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہائی کورٹ ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر’ہتک آمیز‘مواد کی تحقیقات شروع

وزارت آئی ٹی کے حکام نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد کو ہٹانے کے معاملے پر الگ تحقیقاتی ایجنسی قائم کی جا رہی ہے، جس کے رولز بھی جلد بنالیے جائیں گے۔

عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ قائم کی جانے والی ایجنسی کے رولز بنانے سے متعلق کمیٹی کو ٹائم فریم دیا جائے۔

اجلاس کے دوران وزیر مملکت علی محمد خان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ہر کسی کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کی آزادی ہے، لیکن دیگر ممالک میں اپنے ملک کے خلاف بات کرنے کا کسی کو اختیار نہیں۔

مزید پڑھیں: ’سوشل میڈیا کو مذہبی جذبات مجروح کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے‘

انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی نہ کسی جگہ پر لکیر کھینچنے کی ضرورت ہے اور سوشل میڈیا پر کسی کی ذاتی زندگی کو اچھالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں آزادی اظہار کی ایک حد ہے لیکن پاکستان میں کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔