امریکا یمن کی بربادی کا ذمہ دار ہے، نیو یارک ٹائمز

27 دسمبر 2018

ای میل

یمن میں حکومت اور باغیوں کے درمیان خانہ جنگی سے گزشتہ 3 سالوں میں 10 ہزار سے زائد افراد قتل ہوچکے ہیں— فائل فوٹو
یمن میں حکومت اور باغیوں کے درمیان خانہ جنگی سے گزشتہ 3 سالوں میں 10 ہزار سے زائد افراد قتل ہوچکے ہیں— فائل فوٹو

نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یمن جنگ میں امریکا کا ہاتھ ہر جگہ نظر آتا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق امریکا انسانی بحران میں ملوث ہے جس سے شام اور عراق کے حوالے سے خطے اور دنیا میں غیر مستحکم اثرات آئیں گے۔

سعودی حمایت یافتہ یمن کی حکومت اور باغیوں کے درمیان خانہ جنگی سے گزشتہ 3 سالوں میں 10 ہزار سے زائد افراد قتل ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: یمن کی حکومت اور حوثی باغی، حدیدہ میں جنگ بندی پر رضا مند

نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں کہا گیا کہ ’سامنے آنے والے ہزاروں افراد کی ہلاکت متاثرین کی کل تعداد کا صرف ایک حصہ ہے اور امریکی حکومت حالات خراب کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے‘۔

عالمی امدادی ایجنسی نے خبردار کیا تھا کہ سنگین غذائی بحران کا شکار یمن اور چند افریقی ممالک میں 2 کروڑ افراد کا بھوک اور افلاس سے ہونے والی بیماریوں سے ہلاکت کا خدشہ ہے۔

صرف یمن ہی میں سیو دی چلڈرن کے مطابق 2 کروڑ 7 لاکھ افراد کی زندگی خطرے میں ہے جن میں سے آدھی تعداد بچوں کی ہے۔

ان کے مطابق ان بچوں کو فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان 15ہزار قیدیوں کے ناموں کا تبادلہ

یمن میں غذا سے ہونے والی خطرناک بیماری کولیرا پھیل رہی ہے جس میں اب تک تقریباً 3 لاکھ 60 ہزار کیسز سامنے آئے جن میں سے 2 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس بیماری کے کیسز میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا جس کی تعداد تقریبا 7 ہزار فی دن بتائی جارہی ہے۔

یہ دونوں بہران انسانوں کے ہی پیدا کیے گئے ہیں۔

یمن میں غذائی بحران کی وجہ حالیہ سالوں میں خشک سالی یا فصلوں کا خراب ہونا نہیں ہے کیونکہ یمن میں زیادہ تر زرعی زمینوں پر قات و دیگر کی پیداوار کی جاتی ہے جبکہ 90 فیصد غذا کو در آمد کیا جاتا ہے۔

اخبار کے مطابق یہ بحران سعودی عرب کا امریکا سمیت اپنے اتحادیوں کی مدد سے ملک پر لگائی گئی پابندیاں ہیں۔

نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ باغیوں کی قابض زمینوں کا خوراک بند کرنے کا اقدام جان بوجھ کر اٹھایا گیا اور یہ اقدام ہی کولیرا بیماری کے پھیلنے کا سبب ہے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 27 دسمبر 2018 کو شائع ہوئی