ملک میں شعبہ صحت کا قابلِ اعتماد ڈیٹا موجود نہیں، قومی ادارہ صحت

اپ ڈیٹ 27 دسمبر 2018

ای میل

صدر عارف علوی  قومی ادارہ صحت کا دورہ کررے ہیں — فوٹو : آئی این پی
صدر عارف علوی قومی ادارہ صحت کا دورہ کررے ہیں — فوٹو : آئی این پی

قومی ادارہ برائے صحت( این ایچ آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عامر اکرام نے صدر مملکت عارف علوی کو بتایا ہے کہ پاکستان میں شعبہ صحت کے قابل اعتماد اعداد و شمار موجود نہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عامر اکرام کا کہنا تھا کہ ملک میں صحت کی نصف سے زائد سروسز نجی سیکٹر کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں اور وہ حکومت سے اپنے اعداد و شمار کا تبادلہ نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ ایکٹ ( پی ایچ اے ) کے ذریعے نجی سیکٹر اپنے اعداد و شمار قومی ادارہ برائے صحت کو دیں سکیں گے، ان اعداد و شمار کی مدد سے ملکی ضروریات کے تحت شعبہ صحت کی پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ صدر عارف علوی نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ قومی ادارہ برائے صحت کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات سمیت ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا دورہ بھی کیا۔

قومی ادارہ برائے صحت کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں تپ دق ( ٹی بی) اور ملیریا کے علاج کے ساتھ امیونائزیشن کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں : حکومت نے غریبوں کے علاج کے لیے سالانہ وظیفہ بڑھا دیا

صدر عارف علوی کو این ایچ آئی میں تیار کی جانے والی مختلف ویکسینز اور دیگر مراعات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

قومی ادارہ برائے صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نئے بل کی مدد سے نجی سیکٹر حکومت سے اپنے اعداد و شمار کا تبادلہ کرے گا جس کی مدد سے صحت سے متعلق پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر اکرام نے ڈان کو بتایا کہ پبلک ہیلتھ ایکٹ اپنی نوعیت کا پہلا ایکٹ ہوگا جو نجی سیکٹر کو حکومتی دائرہ کار میں لائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ بل بات کو واضح کرے گا کہ بیماریوں سے متعلق ایمرجنسی کا اعلان کرنے میں کون ذمہ دار ہوگا اور ان اعداد وشمار کی روشنی میں پالیسی بنائی جائے گی اور دیگر ہدایات جاری کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’احتیاطی تدابیر پر خرچ کیا جانے والا ایک روپیہ علاج پر خرچ ہونے والے ایک سو روپے کی بچت کرسکتا ہے، بدقسمتی سے ہم بیماریوں سے بچاؤ پر خرچ کرنے کے بجائے علاج پر زیادہ خرچ کررہے ہیں‘۔

ڈاکٹر اکرام کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی کو آگاہ کیا گیا کہ قومی ادارہ صحت پاکستان کی پہلی ڈینٹل پالیسی بھی تیار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ پاکستان میں کوئی دانتوں کا خیال نہیں رکھتا اور لوگوں میں کم عمری سے دانتوں کے مسائل پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے جاتے ہیں، صدر عارف علوی جو خود بھی ایک ڈینٹسٹ ہیں انہوں نے اس تجویز کوسراہا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صدر مملکت کو بتایا گیا تھا کہ این آئی ایچ کی وائرولوجی لیب ہر ماہ 73 سیویج سیمپلز کی جانچ کرتی ہے جن میں سے 53 پاکستان اور 20 افغانستان سے ہوتے ہیں ‘۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت کا ہیلتھ کارڈ کے اجرا، اسمگل شدہ موبائل فون بند کرنے کا اعلان

ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ ’ اکثر وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں جیسا کہ کانگو وائرس یا کریمین کانگو ہیمرہیجک فیور ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ’ ہم نے ایک زونوٹک اور ویکٹر بورن ڈیزیسز لیب قائم کی ہے جو جانوروں سے انسانوں میں وائرس کی منتقلی روکنے میں کردار ادا کرے گی‘۔

وفاقی وزیر برائے صحت عامر محمود کیانی کا کہنا ہے کہ قومی ادارہ صحت ایک قومی اثاثہ ہے جو پائیدار ترقیاتی مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔