بلوچستان: کوئلے کی کان میں گیس بھرجانے سے دھماکا،4 کان کن جاں بحق

ای میل

کانوں میں کام کرنے والوں کے لیے مخدوش حالات ہونے کی وجہ سے آئے روز کان کن مختلف حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں۔
 — فائل فوٹو
کانوں میں کام کرنے والوں کے لیے مخدوش حالات ہونے کی وجہ سے آئے روز کان کن مختلف حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں۔ — فائل فوٹو

بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرجانے سے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 4 کان کن جاں بحق ہوگئے۔

دکی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سردار ہاشم خان نے بتایا کہ چمالانگ کے علاقے میں گیس پھیلنے سے ہونے والے دھماکے کے نیتجے میں ایک کان کن شدید زخمی بھی ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے کان کنوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں 2 بھائی بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کان کنوں نے اپنے مدد آپ کے تحت جان بحق ساتھیوں کی لاشیں باہر نکالیں جس کے بعد انہیں ضروری کارروائی کے بعد آبائی علاقے افغانستان روانہ کردیا گیا۔

مزید پڑھیں : بلوچستان: دکی میں کان بیٹھنے سے 3 کان کن ہلاک

لیویز اہلکار کے مطابق ’ کان کن ہزاروں فٹ گہرائی سے کوئلہ نکال رہے تھے کہ اچانک حادثہ پیش آیا‘۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کان کنوں کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو کان کنوں کی حفاظت اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردیں۔

خیال رہے کہ کانوں میں کام کرنے والوں کے لیے مخدوش حالات ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں آئے روز کان کن مختلف حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں۔

مائنز اینڈ منرلز ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 18 برس میں بلوچستان میں ایسے حادثات میں ایک ہزار سے کان کن جاں بحق ہوچکے۔

یہ بھی پڑھیں : بلوچستان: کوئلے کی کان میں گیس بھرنے سے 3 کان کن جاں بحق

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ضلع دکی کے علاقے چمالانگ ہی 2 مختلف حادثات 3 کان کن جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔

25 نومبر کو بھی دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث 3 کان کن جاں بحق اور 2 بےہوش ہوگئے تھے۔

قبل ازیں 15 ستمبر کو دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث 2 کان کن جاں بحق اور 2 بےہوش ہو گئے تھے۔