دہشتگردوں کو پناہ دینے کے الزامات، ٹرمپ پاکستانی قیادت سے ملاقات کے خواہاں

اپ ڈیٹ 03 جنوری 2019

ای میل

امریکی صدر نے گزشتہ سال پاکستان کو ملنے والی امداد کو بھی روکا تھا — فائل فوٹو
امریکی صدر نے گزشتہ سال پاکستان کو ملنے والی امداد کو بھی روکا تھا — فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’پاکستان کی نئی قیادت سے ملاقات کرنے کے خواہاں ہیں لیکن یہ ملاقات اسلام آباد پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات پر بات کیے بغیر نہیں ہوگی۔

غیر ملکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ان کے یہ ریمارکس کانگریس کے قانون سازوں سے امریکی حکومت کے اخراجات کے معاملے پر اختلافات پر بیان دیتے ہوئے سامنے آئے۔

امریکی صدر نے کابینہ اجلاس میں میکسیکو سرحد کے ساتھ دیوار قائم کرنے کے لیے 5 ارب ڈالر کے اپنے مطالبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم خود کے بجائے دیگر ممالک کو پیسے کیوں دیتے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے غلط بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں، وزیر اعظم

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ناجائز ہے کہ ہم گواتیمالا، ہوندرس اور ال سلواڈورکو پیسے دیتے ہیں اور وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اجلاس کے شرکا کو پاکستان کو دیے جانے والے فنڈ کو روکے جانے کا بتاتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر دیتے تھے تو میں نے ہی اسے روکا تھا، کئی لوگوں کو یہ معلوم نہیں کیوں کہ وہ ہم سے مخلص نہیں‘۔

امریکی صدر جنہوں نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان کو افغان جنگ میں مذاکرات کے لیے خط لکھا تھا، کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں تاہم انہوں نے اس ہی جملے میں پاکستان پر سنگین الزامات بھی لگائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں تاہم وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں اور دشمنوں کی رکھوالی کرتے ہیں، یہ کام ہم نہیں کر سکتے، اس لیے میں پاکستان کے نئے حکمرانوں سے ملاقات کرنے کا خواہاں ہوں اور ہم ایسا مستقبل قریب میں کریں گے، میں نے 1.3 ارب ڈالر ادا کرنا بند کردیا ہے، یہ پانی کی طرح ہے، ہم ایسا ہی کریں گے‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا اور افغانستان کے لیے نئی پالیسیز متعارف کرائے جانے کے بعد سے وہ پاکستان پر تنقید کرتے رہے ہیں تاہم دونوں حکومتوں کی جانب سے تعلقات میں در پیش مسائل کو حل کرنے کی بھی کئی مرتبہ کوششیں کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں رواں سال کا تیسرا 'شٹ ڈاؤن'

نومبر 2018 میں امریکی صدر کے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو کے بعد پاکستان اور امریکی سربراہان کے درمیان ٹوئٹر پر ایک دوسرے کے لیے کئی تنقیدی پیغامات سامنے آئے تھے۔

امریکی صدر نے پاکستان کو ملنے والی اربوں ڈالر کی امداد کی بندش کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا‘۔

اس ہی طرح وزیر اعظم عمران خان نے ان کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی صدر کو افغانستان میں اپنی ناکامی پر حقائق جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

وزیر اعظم کے جواب کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے لیے رویے میں نرمی دیکھی گئی جس کا ثبوت گزشتہ ماہ ٹرمپ کا وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں سامنے آیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’اس جنگ سے پاکستان اور امریکا دونوں کا نقصان ہوا ہے‘۔