وہ کہانیاں جو خالدہ حسین نہ لکھ سکیں

12 جنوری 2019

ای میل

ان کے بیشتر افسانے اور کہانیاں متوسط درجے کے گھرانوں کی عکاس ہیں۔ ان کے تمام کردار ان جذبات اور کیفیات سے لبریز ہیں جو ہمارے گرد عام ہیں۔
ان کے بیشتر افسانے اور کہانیاں متوسط درجے کے گھرانوں کی عکاس ہیں۔ ان کے تمام کردار ان جذبات اور کیفیات سے لبریز ہیں جو ہمارے گرد عام ہیں۔

’کئی کہانیاں ایسی ہیں جو میں لکھنا چاہتی ہوں، مگر یوں لگتا ہے جیسے میرے قلم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ اسی طرح کاغذ پر آجائیں، لیکن بہر طور لکھوں گی۔‘

اب یہ ممکن نہیں رہا کہ خالدہ حسین اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں اور ان کے انٹرویو سے یہ سطور نقل کرتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ کتنی ہی کہانیاں اَن کہی رہ گئی ہوں گی۔ کیسے خیال ہوں گے جو افسانوں میں نہیں ڈھل سکے۔

ممتاز افسانہ نگار اور کہانی نویس خالدہ حسین کی زندگی کی کہانی ہی تمام نہیں ہوئی بلکہ اردو افسانہ کا وہ باب بھی بند ہوگیا جسے انہوں نے اپنی بالغ نظری، اپنے گہرے عصری شعور اور تخیل کے اسرار سے آراستہ کیا تھا۔

خالدہ حسین نے یوں تو 1954ء میں قلم تھاما اور کہانیاں لکھنا شروع کردی تھیں، لیکن ادبی حلقہ اور سنجیدہ قارئین 60ء کی دہائی میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں سے واقف ہوئے۔

ابتدائی دور کی کہانیاں چند غیرمعروف رسائل میں شائع ہوئی تھیں، اس وقت خالدہ 10ویں جماعت کی طالبہ تھیں۔ تاہم بعد میں جب ان کی تخلیقات معروف جرائد کی زینت بنیں تو عظیم افسانہ نگار غلام عباس، قرۃ العین حیدر اور اس دور کے دیگر اہم ادیب اور نقاد خالدہ حسین کے فن اور اسلوب کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے اور ان کے طرزِ نگارش کو سراہا۔

خالدہ حسین 18 جولائی 1938ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ خاندانی نام خالدہ اصغر تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر اے جی اصغر انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں وائس چانسلر کے عہدے پر فائز تھے۔ اپنے بچپن اور ماحول کے بارے میں خالدہ حسین بتاتی تھیں کہ ان کی زندگی کا ابتدائی دور نہایت حسین اور خوشگوار تھا، اساتذہ ہی نہیں بلکہ عزیز و اقارب اور احباب سبھی اچھے تھے اور انہوں نے ہر معاملے میں بہت حوصلہ افزائی کی۔

ان کے گھر میں لکھنے پڑھنے کا رجحان تھا، ماحول ادبی تھا۔ سبھی مطالعے کے عادی تھے اور مختلف موضوعات پر مباحث کے بھی۔ خالدہ حسین کے مطابق ان کی سہیلیاں بھی باذوق تھیں اور لائبریری سے کتابیں لے کر پڑھا کرتی تھیں۔ ایسے میں لکھنے لکھانے کی تحریک کیوں نہ پیدا ہوتی۔ ایک انٹرویو میں خالدہ حسین نے کہا تھا کہ وہ لکھاری نہ ہوتیں تو ڈاکٹر بننا پسند کرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ادب اور میڈیسن مختلف میدان ہیں، لیکن ہمارے ہاں اور باہر بھی کئی نام ایسے ہیں جو بہت اچھے ڈاکٹر ہیں اور بڑے ادیب بھی بنے۔

اس ممتاز افسانہ نگار نے ابتدائی دور میں قلمی نام خالدہ اصغر رکھا، شادی کے بعد شوہر کے نام کا اضافہ کیا اور پھر ان کی تخلیقات پر خالدہ حسین لکھا جانے لگا۔ کم عمری میں مطالعے کا شوق پیدا ہوگیا تھا جو آخری سانس تک برقرار رہا۔ غیرملکی ادب خوب پڑھا، لیکن خالدہ حسین کی پسندیدہ مصنفہ قرۃ العین تھیں۔ ان کے علاوہ معاصرین میں یوں تو سبھی کو پڑھا، تاہم ان کی اکثر کہانیوں پر ممتاز ادیب اور ناقد انتظار حسین کے اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ وہ جنون کی حد تک مطالعے کی عادی تھیں۔ ہر نئی کتاب اور ہر موضوع پر پڑھنا گویا ان کی مجبوری تھی۔ غیر ملکی ادیبوں میں کافکا کے بعد روسی ادیب ترگنیف، ٹالسٹائی اور دوستوسکی کو خاص طور پر پڑھا اور ان سے متاثر ہوئیں۔

ان کا وسیع المطالعہ ہونا، عصری شعور اور مشاہدے کی قوت بھی ان کی کہانیوں کے مضبوط اور متاثر کن ہونے کی ایک وجہ تھی۔ خالدہ حسین اس دور میں ادب کی مختلف اصناف میں نت نئے تجربات اور ادبی تحریکوں کے پسِ پردہ نظریات اور ان عوامل سے بھرپور آگاہی رکھتی تھیں جو ان کے معاشرے کی خصوصیت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا قلم ایسے تمام موضوعات کو خوبی سے سمیٹتا رہا۔

ان کی کہانیوں اور افسانوں کی طرف چلیں تو ’پہچان‘، ’دروازہ‘، ’مصروف عورت‘، ’خواب میں ہنوز‘، ’میں یہاں ہوں‘ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ خالدہ حسین نے ایک ناول بھی لکھا جس کا عنوان ’کاغذی گھاٹ‘ تھا۔ تاہم اسے وہ توجہ اور پذیرائی نہ مل سکی جس کی توقع تھی۔

یہاں ہم ان کی ایک کہانی ’سواری‘ کا مختصراً ذکر کریں گے جس نے اردو کی صفِ اوّل کی ادیبہ قرۃ العین حیدر کو اس قدر متاثر کیا کہ وہ اس کا انگریزی میں ترجمہ کرنے پر مجبور ہوگئیں۔

یہ ایک ایسی کہانی تھی جس میں سماج اور ثقافت کے تمام رنگ شامل تھے۔ اس طویل کہانی کی فضا مابعد الطبیعاتی ہے۔ یہ کہانی ایٹم کے پلنے اور اس سے اٹھنے والے تعفن اور اس کے متاثرین کی زندگی پر لکھی گئی ہے۔ اس کا پلاٹ یہ ہے کہ ایک سواری گزرتی ہے جس سے تعفن اٹھتا ہے اور لوگ اس تعفن سے بیمار پڑجاتے ہیں۔ 3 کرداروں کے ساتھ کچرا ڈمپ کرنے والے گڑھے اور اس تعفن پر خالدہ حسین نے کیفیات اور صورتِ حال کو جس طرح بیان کیا ہے وہ نہایت متاثر کن ہے۔

خالدہ حسین نے اس کہانی میں علامت اور واقعہ نگاری کے امتزاج سے قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔ ’ہزار پایہ‘ بھی ان کا ایک ایسا افسانہ تھا جس میں پیرایۂ اظہار کمال کا ہے جب کہ واقعات اور مشاہدات کی ترتیب اسے قابلِ مطالعہ بناتی ہے۔ اس کہانی کی بُنت بیماری اور موت کے تجربے پر کی گئی ہے۔ ناقدین نے اسے وجودی حالت کا علامتی اظہار کہا اور اسے خالدہ حسین کی حقیقت نگاری کا ہنر بتایا ہے۔

تاہم خالدہ حسین کے افسانوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق حقیقت نگاری کے ساتھ ساتھ اساطیر کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں اور یہ آمیزش افسانے کا حُسن بڑھا دیتی ہے۔ بلاشبہ انہوں نے معاشرتی مسائل کو تخلیقی انداز میں بیان کیا اور انہیں کسی خاص فکر یا نظریے کے تحت بیان کرنے سے گریز کیا ہے۔ ان کے بیشتر افسانے اور کہانیاں متوسط درجے کے گھرانوں کی عکاس ہیں۔ ان کے تمام کردار ان جذبات اور کیفیات سے لبریز ہیں جو ہمارے گرد عام ہیں۔

ان کے کردار کسی وجہ سے خوف زدہ ہیں تو کہیں کشمکش کا شکار ہیں۔ وہ نفرت، اذیت اور تشکیک سے دوچار نظر آتے ہیں اور فطرت، معاشرتی جبر اور حالات کے آگے بے بس بھی۔ الغرض خالدہ حسین کی خوبی تھی کہ وہ مانوس کہانیاں چنتی تھیں۔ ان کے کردار ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جس سے ان کا ہر قاری واقف ہوتا ہے۔

یہی خالدہ حسین کا اسلوب تھا جس نے ان کو پہچان دی۔ ان کے افسانے ’ایک رپورتاژ‘ کو بھی بے حد سراہا گیا۔ طویل وقفے کے بعد انہوں نے ’پرندہ‘، ’سایہ اور مکڑی‘ جیسے افسانے لکھے جو ان کے عصری شعور کی عمدہ مثال ہیں۔

'رہائی' اور 'تیسرا پہر' کے علاوہ 'جزیرہ' اور 'ابنِ آدم' مہذب دنیا کی جانب سے فلسطین، عراق اور دیگر خطوں پر ظلم اور ناانصافی مسلط کرنے کی داستان ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ کیسے مہذب انسان طاقت کے نشے میں ڈوب کر کسی دوسرے انسان کو دہشت گرد اور سفاک بنا دیتا ہے۔ 'سلسلہ' اور 'میں یہاں ہوں' جیسی کہانیاں ایک قسم کی روحانی وارداتوں کا بیان ہیں۔

یوں تو ابنِ آدم امریکا-عراق جنگ کے تناظر میں ایک کہانی ہے، لیکن خالدہ حسین کا کمال یہ ہے کہ یہ کہانی دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مظلوم انسانوں کا کرب، ان کی تکلیف اور آزار کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔ یہ کہانی ایک جہادی تنظیم کے گرفتار رکن کے گرد گھومتی ہے۔ افسانے میں جنگ سے پیدا ہونے والے انسانی المیے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال سے متاثرہ زندگی کو خالدہ حسین نے نہایت خوبی سے بیان کیا ہے۔ اس کے برعکس 'سلسلہ' اور 'میں یہاں ہوں' جیسی کہانیاں ایک قسم کی روحانی وارداتوں کا بیان ہیں۔

ناقدین کے نزدیک وہ خوب علامتی یا تجریدی افسانہ لکھتی تھیں، مگر خود خالدہ حسین کی نظر میں ایسا نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہانیوں میں استعارہ اور علامت ہوگی، مگر اس پر معنویت غالب ہے۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے علامتوں اور استعاروں کو غیر ضروری یا فیشن کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ اسے ضرورت کے مطابق اپنی تحریروں میں شامل کیا۔ خالدہ حسین کی ایک کہانی ایسی عورت کے بارے میں ہے جو بیزار ہے، اس کا عنوان ’تیسری دنیا‘ ہے جو احساس کی انتہا اور کیفیات سے مزین کہانی ہے۔

5 افسانوی مجموعوں، ایک ناول کی اشاعت کے علاوہ کئی تنقیدی مضامین تحریر کیے اور ان کی متعدد کتابیں منظرِ عام پر آئیں۔ 11 جنوری 2019 کو اس باکمال اور منفرد اسلوب کی حامل افسانہ نگار کی زندگی کا سفر تمام ہوگیا۔