گلوکار نے نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جسمانی تعلقات کے الزامات مسترد کردیے

13 جنوری 2019
آر کیلی نے پہلے بھی الزامات کو مسترد کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی
آر کیلی نے پہلے بھی الزامات کو مسترد کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی

بل بورڈز سمیت کئی دیگر میوزک چینلز کے مقبول ترین گلوکاروں میں شمار ہونے والےامریکی گلوکار، موسیقار، لکھاری اور سابق باسکٹ بال کھلاڑی 52 سالہ رابرٹ سلویسٹر کیلی جو آر کیلی کے نام سے جانے جاتے ہیں انہوں نے ایک بار پھر کم عمر لڑکی سے شادی اور نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جسمانی تعلقات کے الزامات کو مسترد کردیا۔

آر کیلی پر نابالغ لڑکی سے شادی کرنے سمیت اپنی بیویوں کے ساتھ نازیبا رویے اور نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے سمیت خواتین کے ساتھ نازیبا رویے اختیار کرنے جیسے الزامات ہیں۔

آر کیلی کے خلاف کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلقات، خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور فحش ویڈیوز بنانے جیسے الزامات پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے گزشتہ برس ایک طویل تحقیقاتی دستاویزی فلم بھی ریلیز کی تھی۔

بی بی سی کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزی فلم میں کم سے کم 50 خواتین و افراد کے انٹرویوز شامل کیے گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر متاثرہ افراد تھے۔

آر کیلی پر الزام ہے کہ انہوں نے 1994 میں نابالغ لڑکی ’عالیہ دنا ہفٹن‘ سے خفیہ شادی بھی کی۔

عالیہ نے 10 سال کی عمر میں کیریئر کا آغاز کیا—فائل فوٹو: بل بورڈز
عالیہ نے 10 سال کی عمر میں کیریئر کا آغاز کیا—فائل فوٹو: بل بورڈز

انہوں نے عالیہ کے ساتھ 15 برس کی عمر میں شادی کی، تاہم شادی کو خفیہ رکھا گیا اور دستاویزات میں ان کی عمر 18 سال لکھوائی گئی۔

بعد ازاں عالیہ نے خود اعتراف کیا تھا کہ آر کیلی نے ان سے کم عمری میں شادی کی۔

عالیہ دنا ہفٹن نے محض 10 سال کی عمر سے بطور ماڈل کیریئر کا آغاز کیا اور 22 سال کی عمر میں اگست 2001 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں 8 افراد کے ساتھ ہلاک ہوگئیں۔

آر کیلی اعتراف کر چکے ہیں کہ انہیں عالیہ سے شادی کے وقت ان کی عمر کا علم نہیں تھا—فائل فوٹو: مس ڈمپلز
آر کیلی اعتراف کر چکے ہیں کہ انہیں عالیہ سے شادی کے وقت ان کی عمر کا علم نہیں تھا—فائل فوٹو: مس ڈمپلز

آر کیلی نے 1996 میں دوسری شادی اپنی بیک اسٹیج ڈانسر 44 سالہ اینڈریا کیلی سے کی، جن سے ان کے تین بچے بھی ہیں۔

تاہم اینڈریا کیلی نے 2009 میں گلوکار سے طلاق لی اور انہوں نے ان پر بدترین جنسی و جسمانی تشدد کے الزامات لگائے۔

اینڈریا کیلی نے انکشاف کیا کہ گلوکار انہیں جنسی تعلقات کے وقت بدترین تشدد اور فحش حرکات کا نشانہ بنا کر اذیت دیتے رہے۔

آر کیلی پر ایک 13 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے کے الزام سمیت دیگر خواتین کے ساتھ بھی نامناسب انداز میں پیش آنے جیسے الزامات ہیں۔

اینڈریا کیلی کے مطابق انہیں سالوں تک بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا—فائل فوٹو: دی سورسز
اینڈریا کیلی کے مطابق انہیں سالوں تک بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا—فائل فوٹو: دی سورسز

اگرچہ آر کیلی نے پہلے بھی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا، تاہم اب انہوں نے ایک بار پھر اپنے اوپر لگے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف سازش قرار دیا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق آر کیلی کے وکیل اسٹیو گرین برگ کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے مؤکل نے بی بی سی کی دستاویزی فلم ہی نہیں دیکھی، تاہم انہوں نے اس سے قبل بھی اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

گلوکار کے وکیل کے مطابق ان کے مؤکل نہ تو خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے میں ملوث رہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے کسی نابالغ لڑکی کا ریپ کیا۔

اسٹیو گرین برگ نے خبر رساں ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ان کے مؤکل کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات پرانے ہیں، جنہیں پہلے بھی آر کیلی مسترد کرچکے ہیں، تاہم دستاویزی فلم میں انہیں نئے انداز میں پیش کیا گیا۔

گلوکار پر گلوکارہ کے مائیکل نے بھی جنسی طور پر ہراساں کرنےکے الزامات لگائے تھے—فائل فوٹو: بوسپ
گلوکار پر گلوکارہ کے مائیکل نے بھی جنسی طور پر ہراساں کرنےکے الزامات لگائے تھے—فائل فوٹو: بوسپ

وکیل نے دعویٰ کیا کہ آر کیلی نے کبھی بھی نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلقات استوار نہیں کیے اور نہ ہی انہوں نے کبھی کسی خاتون کے ساتھ کوئی زبردستی کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی انہوں نے کسی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل آر کیلی اعتراف کر چکے ہیں کہ انہیں عالیہ سے شادی کرتے وقت ان کے نابالغ ہونے کا علم نہیں تھا۔

آر کیلی کے خلاف برطانوی نشریاتی ادارے کی جاری کی گئی دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ گلوکار نے اپنے اختیارات اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے متعدد خواتین کو اپنی جنسی خواہشات سمیت دیگر خواہشات کے لیے استعمال کیا۔

گلوکار پر متعدد سیاہ فام خواتین کو نشانہ بنانے کا الزام ہے—فوٹو: ہیلو بیوٹی فل
گلوکار پر متعدد سیاہ فام خواتین کو نشانہ بنانے کا الزام ہے—فوٹو: ہیلو بیوٹی فل

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں