طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ 'سنجیدہ مذاکرات' کرنے چاہئیں، اشرف غنی

اپ ڈیٹ 28 جنوری 2019

ای میل

اشرف غنی کی طالبان سے کسی بھی معاہدے میں جلد بازی کرنے سے گریز کرنے کی تنبیہ — فائل فوٹو
اشرف غنی کی طالبان سے کسی بھی معاہدے میں جلد بازی کرنے سے گریز کرنے کی تنبیہ — فائل فوٹو

کابل: افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ طالبان کو ان کی حکومت سے 'سنجیدہ مذاکرات' کے عمل میں شریک ہونا چاہیے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق سرکاری ٹی وی چینل پر صدارتی محل سے نشر ہونے والے خطاب میں اشرف غنی نے کہا کہ 'میں طالبان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے افغانی ہونے کا ثبوت دیں اور امن کے لیے افغانیوں کے مطالبے کو مانتے ہوئے افغان حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات میں شریک ہوں۔'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں امریکا کی جنگ کے خاتمے کی خواہش کا واضح طور پر اظہار کیا جاچکا ہے، تاہم افغان صدر نے طالبان سے کسی بھی معاہدے میں جلد بازی کرنے سے گریز کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے 1989 میں سوویت یونین کے افغانستان سے نکلنے کے بعد ہونے والے فسادات کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم امن چاہتے ہیں اور جلد چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ منصوبے کے مطابق ہو۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس جنگ کے متاثرین افغانی ہی ہیں اور کوئی افغانی اپنے ملک میں غیر ملکی فورسز کو غیر معینہ مدت کے لیے نہیں دیکھنا چاہتا، کوئی افغانی ہسپتالوں، اسکولوں، مساجد اور پارکوں میں خودکش حملوں کا نشانہ نہیں بننا چاہتا۔'

یہ بھی پڑھیں: ’افغان اور طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات ہونے تک کابل میں امن نہیں ہوسکتا‘

واضح رہے کہ دو روز قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی حکام اور طالبان نمائندوں کے درمیان چھ روزہ مذاکرات کے بعد افغان امن معاہدے کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی تھی اور افغانستان میں امریکا کی 17 سالہ جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی۔

تاہم امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام امور پر اتفاق قائم ہونے تک کوئی بات حتمی نہیں ہوگی، جبکہ ابھی کئی معاملات پر کام کرنا باقی ہے۔

طالبان، افغانستان کی منتخب حکومت کو امریکی 'کٹھ پتلی' قرار دیتے ہوئے اس سے براہ راست مذاکرات سے انکار کرتے آئے ہیں۔

افغان حکام کی جانب سے امن مذاکرات سے دور رکھنے کی شکایت کی گئی تھی اور ساتھ ہی یہ تنبیہ کی تھی کہ امریکا اور طالبان کے درمیان کسی بھی معاہدے کی کابل سے توثیق کرانی ہوگی۔