میڈیکل ٹیسٹ میں نواز شریف کے گردے میں پتھری کی نشاندہی

اپ ڈیٹ 04 فروری 2019

ای میل

سابق وزیراعظم کو میڈیکل بورڈ کی تجویز پر کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا—فائل فوٹو:ڈان نیوز
سابق وزیراعظم کو میڈیکل بورڈ کی تجویز پر کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا—فائل فوٹو:ڈان نیوز

لاہور: کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کیے جانے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو لاحق صحت کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ان کے متعدد ٹیسٹ کیے گئے، جس میں انہیں گردے میں پتھری کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ہسپتال کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نواز شریف کے گردوں کی تکلیف کا جائزہ لینے کے لیے سی ٹی اسکین اور الٹراساؤنڈ کیا گیا جبکہ امراضِ قلب کی نوعیت جاننے کے لیے خون ٹیسٹ کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم کا ایک گھنٹے پر محیط طبی معائنہ کیا گیا جس کے بعد انہیں سخت سیکیورٹی میں دوبارہ وی وی آئی پی روم میں منتقل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف بہت جلد عوام کے درمیان ہوں گے،مریم نواز

عہدیدار کے مطابق میاں نواز شریف کے طبی ٹیسٹ کے نتائج میں ان کے گردے میں پتھری ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ میں شامل معالجین ان کی ٹیسٹ رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لے کر ادویات اور علاج کا طریقہ کار تجویز کریں گے۔

واضح رہے کہ سروسز ہسپتال میں نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دیا جانے والا خصوصی بورڈ ڈاکٹر محمود ایاز، ڈاکٹر کامران چیمہ اور ڈاکٹر ساجد نثار پر مشتمل ہے اس کے علاوہ ضرورت پڑنے کی صورت میں معالجِ قلب کو بھی بلوایا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے بنائے گئے خصوصی میڈیکل بورڈ نے انہیں صحت کے سنگین مسائل لاحق ہونے کا انکشاف کیا جبکہ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔

6 رکنی میڈیکل بورڈ، جس میں آرمی میڈیکل کور کے 2 اسپیشلسٹ بھی شامل تھے، نے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں میاں نواز شریف کا معائنہ کیا تھا، جس کے بعد ڈاکٹروں نے ان کے امراضِ قلب میں مبتلا ہونے اور ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت کے بارے میں بتایا تھا۔

اس ضمن میں حکومتِ پنجاب نے ہسپتال انتظامیہ کو کم سے کم وقت میں سابق وزیراعظم کا تفصیلی طبی معائنہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا طبی معائنہ، ای سی جی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار

تاہم ہسپتال انتظامیہ ابھی اس بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہے کہ انہیں کتنے دن تک ہسپتال میں رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔

دوسری جانب صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت بہتر ہونے پر انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کو ہر ممکن بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور انہیں جیل میں ان کا من پسند کھانا بھی میسر ہے۔