2 اراکین کی ریٹائرمنٹ کے باعث الیکشن کمیشن کا کام متاثر

اپ ڈیٹ 04 فروری 2019

ای میل

الیکشن کمیشن کے اراکین میں ایک چیئرمین اور چاروں صوبوں سے ایک ایک رکن شامل ہوتا ہے— فائل فوٹو: اے پی پی
الیکشن کمیشن کے اراکین میں ایک چیئرمین اور چاروں صوبوں سے ایک ایک رکن شامل ہوتا ہے— فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے 2 اراکین کی ریٹائرمنٹ کے بعد کمیشن کے اراکین کی تعداد ایک ہفتے سے نامکمل ہے اور اس کی وجہ سے کمیشن کا کام متاثر ہورہا ہے۔

ای سی پی کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے قرعہ اندازی کے ذریعے یہ فیصلہ کیا کہ 26 جنوری کو ریٹائر ہوں گے تاکہ حکومت کو سندھ اور بلوچستان سے ان کے متبادل اراکین کی تعیناتی کے لیے 45 دن کا وقت مل سکے۔

انہوں نے بتایا کہ آنے والے دنوں کے لیے الیکشن کمیشن میں کام سے متعلق طویل فہرست موجود ہے جس کے لیے فوری طور پر 2 اراکین کی تقرری درکار ہے۔

انہوں نے متعلقہ قانون میں ترمیم کی بھی تجویز دی جس کے تحت کسی رکن کی ریٹائرمنٹ سے 2 ماہ قبل ہی چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن اراکین کی تعیناتی یقینی بنائی جائے اور آسامی خالی ہونے سے قبل ہی اس عمل کو حتمی شکل دے دی جائے تاکہ کے آئینی باڈی میں کوئی خلا باقی نہ رہ سکے۔

آئین کے مطابق ای سی پی ایک الیکشن کمشنر اور چار اراکین پر مشتمل ہوتا ہے جن میں سے ہر رکن کا تعلق ایک ایک صوبے سے ہوتا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ آنے دنوں میں پیدا ہونے والے اس خلا سے کمیشن کے کام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ آسامی بھرنے میں تعطل کا طریقہ کار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا خلا آئندہ آنے والے دنوں میں الیکشن کمیشن کے کام کو انتہائی بری طرح متاثر کرے گا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) محمد رضا دسمبر میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوں گے اور 2 اراکین دسمبر 2021 میں ریٹائر ہوں گے، سندھ اور بلوچستان سے نئے اراکین اپنی 5 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد 2024 میں ریٹائر ہوں گے جبکہ انہوں نے کہا کہ ہر مرتبہ تقرر میں تاخیر سے خلا پیدا ہوجاتا ہے۔

الیکشن کمیشن میں آدھی مدت پوری ہونے کے بعد 2 اراکین کی ریٹائرمنٹ کا طریقہ کار 22ویں ترمیم کے ذریعے عمل میں لایا گیا تاکہ انتخابی باڈی کے کام میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے، یہ ترمیم 2010 میں ہونے والے ناخوشگوار تجربے کے دوبارہ رونما ہونے سے بچنے کے لیے کی جائے گی جب 9 سال قبل ایک ہی وقت میں 4 اراکین ریٹائر ہو گئے تھے اور کمیشن کئی ماہ تک کام کرنے سے قاصر رہا تھا۔

اس کے نتیجے میں اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر نے اراکین کی غیر موجودگی میں ہونے والے تقریباً 2 درجن ضمنی انتخاب کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے نتائج روک دیے تھے اور اس کے نتیجے میں انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آئین کے آرٹیکل کے ترمیم شدہ فارم کے آرٹیکل 215 کو کچھ یوں پڑھا جائے گا کہ ’کمشنر (اور ایک رکن) اس آرٹیکل کے تحت جس دن اپنے دفتر میں قدم رکھے گا، اس دن سے 5 سال کی مدت تک دفتر سنبھالے گا‘۔

اس آرٹیکل سے منسلک شرط میں کہا گیا ہے کہ ’اس بات کا انحصار اس پر ہوگا کہ اراکین میں سے 2 اپنی ابتدائی ڈھائی سالہ مدت کی تکمیل کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے اور بقیہ 2 اگلی ڈھائی سالہ مدت کے بعد ریٹائر ہوں گے، مزید یہ کہ دفتر میں پہلے 2 ریٹائر ہونے والے اراکین کے بارے میں اس بات کا فیصلہ کمیشن کرے گا کہ پہلے کسے ریٹائر ہونا ہے‘۔

البتہ ترمیم شدہ قانون کے تحت ایک کام محض ایک دفعہ کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں تمام اراکین اپنی 5 سالہ مدت پوری کر سکیں۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے چیف الیکشن کمشنر اور 2 اراکین کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی نئی تقرریوں کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی تھی لیکن وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اس معاملے پر قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے مشاورت کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔

آرٹیکل 213 اور 218 کے تحت اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کے بعد وزیراعظم چیف الیکشن کمشنر یا کمیشن کے اراکین کے انتخاب کے لیے 3 نام میں سے کسی ایک نام کی تصدیق کے لیے فہرست پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی آدھے اراکین حکومتی بینچر سے منتخب کرتی ہے جبکہ بقیہ کا انتخاب اپوزیشن جماعتیں کرتی ہیں اور پارلیمنٹ میں ان کی طاقت کی بنیاد پر متعلقہ پارلیمانی لیڈرز انہیں نامزد کرتے ہیں۔

اگر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف میں اتفاق نہ ہو تو قانون کے مطابق دونوں رہنما الگ الگ فہرستیں جائزے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے، پارلیمانی کمیٹی ہر حال میں 12 رکنی ہونی چاہیے جس میں ایک تہائی کا تعلق ایوان بالا سینیٹ سے ہونا چاہیے۔

ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ خصوصاً اگر اختلاف رائے پیدا ہو تو وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت اور پارلیمانی کمیٹی کی سطح پر ناموں پر بحث میں وقت لگ سکتا ہے۔