حکومت کا شہباز شریف سے پی اے سی کی سربراہی چھوڑنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 07 فروری 2019

ای میل

پی ٹی آئی رہنماؤں کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہوا—فوٹو: پی آئی ڈی
پی ٹی آئی رہنماؤں کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہوا—فوٹو: پی آئی ڈی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سربراہی کے لیے شہباز شریف کے انتخاب کے تقریباً 2 ماہ بعد حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کو پی اے سی کی سربراہی سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

اجلاس میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی جنہوں نے سینئر صوبائی وزیر پنجاب عبدالعلیم خان کی گرفتاری کو قومی احتساب بیورو (نیب) کا ’برابری کا اقدام‘ قرار دیا جو اپوزیشن رہنما کی گرفتاری کے باعث جواز کے طور پر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'چیئرمین 'پی اے سی' کے معاملے پر اپوزیشن نے بلیک میل کیا'

اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اپوزیشن کے کسی رہنما کے ساتھ قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کی طرز پر کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے۔

بعد ازاں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ویڈیو پیغام میں اجلاس کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کو یقین ہے کہ شہباز شریف پی اے سی کی سربراہی کو اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں، انہیں یہ عہدہ چھوڑ کر مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما نے بدعنوانی کے مقدمے میں نیب کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

مزید پڑھیں: علیم خان کو جلد ڈرائی کلین کرکے بے گناہ بنا دیا جائے گا، پیپلز پارٹی

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کو مہینوں تک اپوزیش اور حکومت کے درمیان رہنے والے ڈیڈ لاک کے بعد گزشتہ برس 22 دسمبر کو پی اے سی کا بلا مقابلہ سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔

پی اے سی ایک اعلیٰ پارلیمانی فورم ہے جو حکومت کی آمدنی و اخراجات کا آڈٹ کرتا ہے اور یہ پارلیمنٹ کی سب سے طاقتور اور اہم ترین کمیٹی تصور کی جاتی ہے۔

اس سے قبل اس کمیٹی میں صرف اراکینِ قومی اسمبلی شامل ہوتے تھے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اراکینِ سینیٹ بھی اس کا حصہ بنائے جاتے ہیں۔

یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ ایسا کوئی اصول موجود نہیں جس کے تحت پی اے سی کی سربراہی صرف اپوزیشن جماعت کو دی جائے گی لیکن یہ روایت ہے کہ حکومت کے مالی معاملات میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے یہ عہدہ اپوزیشن کو ہی دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علیم خان کا ازخود استعفیٰ دینا مثالی ہے، گورنر پنجاب

اپنے پیغام میں وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ علیم خان نے نیب کی جانب سے حراست میں لیے جانے پر استعفیٰ دے کر اچھی مثال قائم کی، اسی طرح شہباز شریف کو بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’شہباز شریف نے جس طرح نیب عہدیداروں کو اجلاس میں طلب کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پی اے سی کی سربراہی کو ڈھال بنانا چاہتے ہیں‘۔


یہ خبر 7 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔