افغان امن عمل کے دوران اشرف غنی اپنے اختیارات کی واپسی کے خواہشمند

اپ ڈیٹ 07 فروری 2019

ای میل

واشنگٹن افغانستان میں دیرپا امن کے حصول کے لیے پرعزم ہے—فائل فوٹو: اے پی
واشنگٹن افغانستان میں دیرپا امن کے حصول کے لیے پرعزم ہے—فائل فوٹو: اے پی

واشنگٹن: امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیکل پومپیو نے افغان صدر اشرف غنی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واشنگٹن افغانستان میں دیرپا امن کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تاہم افغان صدر اشرف غنی نے ٹوئٹ کیا کہ سیکریٹری پومپیو نے امن عمل میں افغان حکومت کی مرکزیت کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ امریکی عہدیدار نے جولائی میں افغان صدارتی انتخابات کے انعقاد کے لیے حمایت کا اشارہ بھی کیا۔

مزید پڑھیں: ’امریکا اور طالبان دونوں افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکتے‘

دوسری جانب کابل سے آنے والی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہا گیا کہ اشرف غنی بھی ’دوبارہ اپنی اتھارٹی‘ چاہتے ہیں کیونکہ واشنگٹن طالبان کے ساتھ اپنی بات چیت کو تیز کررہا ہے جبکہ ماسکو نے بھی افغان حکومت کی موجودگی کے بغیر علیحدہ مذاکرات کیے ہیں۔

اس تمام صورتحال پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹری پومپیو نے ایک جامع امن عمل میں سہولت فراہم کرنے میں افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے کردار کو نمایاں کیا۔

اس بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ کیوں مائیک پومپیو کو زلمے خلیل زاد کی پوزیشن کو نمایاں کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی لیکن حالیہ میڈیا رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ افغان حکومت کو شامل کیے بغیر امریکی نمائدہ خصوصی کی طالبان کے ساتھ مسلسل بات چیت سے کابل خوش نہیں۔

خیال رہے کہ زلمے خلیل زاد پہلے ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے تین دور کرچکے ہیں اور رواں ماہ کے اواخر میں ایک دور کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے یکم مئی تک نصف امریکی فوجی چلے جائیں گے، طالبان کا دعویٰ

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کہا کہ سیکریٹری پومپیو نے ’انٹرا افغان مذاکرات اور بدامنی کے خاتمے میں جنگ بندی کے کردار کی اہمیت‘ پر بھی زور دیا۔

واشنگٹن کی جانب سے اس بات پر اصرار کیا گیا کہ دونوں فریقین کو ’افغان حکومت، دیگر افغان رہنماؤں اور طالبان کے ساتھ مل کر بیٹھ کر مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے‘۔

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے افغان حکومت سے براہ راست بات چیت سے انکار کردیا گیا ہے اور انہوں نے امریکا کی جانب سے افغانستان سے فوج کے انخلا سے پہلے جنگ بندی کے امریکی مطالبے پر اب تک جواب نہیں دیا ہے۔