نوازشریف کی تضحیک کی جارہی ہے، رحم کی بھیک نہیں چاہیے، مریم نواز

اپ ڈیٹ 07 فروری 2019

ای میل

اس شخص کی صحت سے کھلواڑ کیاجارہا ہے جو 3 مرتبہ وزیراعظم رہ چکا ہے،مریم نواز — فوٹو: ڈان نیوز
اس شخص کی صحت سے کھلواڑ کیاجارہا ہے جو 3 مرتبہ وزیراعظم رہ چکا ہے،مریم نواز — فوٹو: ڈان نیوز

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ اُن کے والد کی تضحیک کی جارہی ہے، انہیں ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال لے کر جایا جاتا ہے، ہمیں رحم کی اپیل نہیں چاہیے۔

آج (جمعرات کو) سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے اُن کی والدہ اور صاحبزادی مریم نواز نے سروسز ہسپتال میں ملاقات کی، جس کے بعد انہیں سخت سیکیورٹی میں سروسز ہسپتال سے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔

والد سے ملاقات کے بعد مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی تضحیک کی جارہی ہے،ہمیں رحم کی بھیک نہیں چاہیے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال لے جایا جارہا ہے،اس شخص کی صحت سے کھلواڑ کیا جارہا ہے جو 3مرتبہ وزیراعظم رہ چکا ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف بہت جلد عوام کے درمیان ہوں گے،مریم نواز

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے میڈیکل بورڈ حکومت نے خود بنائے، میڈیکل بورڈ میں ہماری طرف سے کوئی شامل نہیں تھا۔

ذرائع کے مطابق مریم نواز والد کے لیے ترکش قہوہ،کڑی، قورمہ اور تلوں والے کلچے لے کر آئیں،نواز شریف کی ہدایت پر عملے کو ترکش قہوہ پیش کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس موقع پر طبی ماہر نے کہا کہ نوازشریف کو پرہیزی کھانا کھانا چاہیے،گھر سے لائےگئے کھانے پرہیزی نہیں۔

اس سے قبل پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز کی ٹیم نے سروسز ہسپتال کا دورہ کیا جہاں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عروج نے سابق وزیراعظم کا طبی معائنہ کیا۔

ڈاکٹر نے ادویات کا جائزہ لیا اور ہدایات دیں، پی آئی سی جانے سے انکار کے بعد نواز شریف کو سروسز ہسپتال میں کارڈیک چیک اپ کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

گزشتہ روز محکمہ داخلہ نے نواز شریف کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) شفٹ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے لیکن انہوں ںے پی آئی سی جانے سے انکار کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کا معائنہ کرنے کے لیے تشکیل دیا جانے والے سروسز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے انہیں دل کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے باعث امراضِ قلب کے طبی مرکز منتقل کرنے کی تجویز دی تھی۔

دوسری جانب مریم نواز کی والد کی عیادت کے لیے سروسز ہسپتال آمد کے موقع پر جب ان سے نواز شریف کے لندن میں علاج کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میاں صاحب واپس جیل جانا چاہیں گے‘۔

خیال رہے کہ 2 فروری کو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے میڈیکل بورڈ کی سفارش پر سابق وزیراعظم نواز شریف کو فوری ہسپتال منتقل کرنے کی منظوری دینے کے بعد نواز شریف کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : میڈیکل بورڈ کی نوازشریف کو امراضِ قلب کے ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے بنائے گئے خصوصی میڈیکل بورڈ نے انہیں صحت کے سنگین مسائل لاحق ہونے کا انکشاف کیا تھا جبکہ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی تھی۔

اس سے قبل جناح ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے بھی نواز شریف کو مکمل صحت یاب نہ قرار دے کر ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔