بھارت: کم عمر لڑکیوں کو 'زبردستی پورن ویڈیوز' دِکھانے والا گرفتار

13 فروری 2019

ای میل

پولیس کے مطابق ملزم کو جرم میں استعمال ہونے والے موبائل فون کے ذریعے گرفتار کیا گیا — فوٹو: شٹر اسٹاک
پولیس کے مطابق ملزم کو جرم میں استعمال ہونے والے موبائل فون کے ذریعے گرفتار کیا گیا — فوٹو: شٹر اسٹاک

بھارتی پولیس نے ممبئی میں کم عمر لڑکیوں کو زبردستی پورن ویڈیوز دیکھنے پر مجبور کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملزم کی شناخت 29 سالہ ویکش چوہان کے نام سے ہوئی ہے اور وہ ایک نجی کمپنی میں ملازم ہے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے ملزم کو سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد اور ‘جرم’ کے لیے استعمال کیے جانے والے موبائل فون کی لوکیشن کی مدد سے گرفتار کیا ہے۔

ملزم پر الزام ہے کہ اس نے 2 مختلف واقعات میں نا بالغ لڑکیوں کو راستے میں روکا اور انہیں زبردستی پورن ویڈیوز دِکھائیں۔

پولیس کے مطابق جب انہیں شکایت کی گئی تو انہوں نے موبائل ٹاور کے لوکیشن کے ذریعے کچھ موبائل نمبرز کو شاٹ لسٹ کیا جس کی مدد سے ملزم کو گرفتار کرنے میں مدد ملی۔

رواں ہفتے کے اوائل میں بھارت کی ریاست لدھیانہ میں گینگ ریپ کا واقعہ سامنے آیا تھا جس میں 12 افراد نے 20 سالہ طالبہ کو اجتماعی طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران بھارت میں زیادتی کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے اور کے نتیجے میں قتل اور خود کشی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: 12 افراد پر طالبہ کے 'گینگ ریپ' کا الزام

واضح رہے کہ دنیا میں سب سے بڑی جمہوری ریاست کے دعویدار بھارت میں خواتین کا تحفظ تاحال ایک مسئلہ ہے جہاں 16 دسمبر 2012 کو نئی دہلی میں ایک طالبہ کو چلتی بس میں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ بعد ازاں کئی روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی تھی۔

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں ’ریپ‘ کیسز کی شرح کئی ممالک سے زیادہ ہے، صرف 2015 میں ہی ہندوستان بھر میں ’ریپ‘ کے 34 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ کیے گئے تھے جبکہ درج نہ ہو پانے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔