امریکا: یہود مخالف بیان پر مسلم خاتون رکنِ کانگریس کی معذرت

اپ ڈیٹ 13 فروری 2019

ای میل

الہان اس سے قبل بھی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب اسرائیل پر تنقید کرتی رہی ہیں—فوٹو:اے ایف پی
الہان اس سے قبل بھی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب اسرائیل پر تنقید کرتی رہی ہیں—فوٹو:اے ایف پی

واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان میں پہلی دو مسلمان خواتین میں سے ایک الہان عمر نے اپنے اس بیان پر غیر مشروط معافی مانگ لی جس میں انہوں نے امکان ظاہر کیا تھا اسرائیل کے لیے امریکی اراکین کی حمایت کے پسِ پردہ وہ رقم ہے جو اسرائیل حمایتی لابی فراہم کرتی ہے۔

ریاست منیسوٹا سے تعلق رکھنے والی رکنِ پارلیمنٹ کو اسرائیل کے حوالے سے خیالات کا اظہار کرنے پر ایک ہفتے سے تنقید کا سامنا تھا جو اس وقت تنازع کی صورت اختیار کرگیا جب انہوں نے ریپبلکن تنقید کا جواب دیا۔

خیال رہے کہ جب ایک ریپلکن شخص نے سوال اٹھایا کہ الہان عمر کو کیا لگتا ہے کہ امریکی سیاستدانوں کو اسرائیل کی حمایت کے لیے کون پیسے دیتا ہے تو انہوں نے امریکی اسرائیل امورِ عامہ کمیٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یک لفظی جواب دیا ’اے آئی پی اے سی‘۔

یہ بھی پڑھیں: مسلمان اراکینِ پارلیمنٹ کی اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت سے نئے تنازع کا آغاز

ان الفاظ پر ہنگامہ اس وقت کھڑا ہوگیا جب ایوانِ زیریں کی اسپیکر نیسنی پلاسی نے ٹویٹ میں یہود مخالف الفاظ استعمال کرنے پر الہان عمر کی سرزنش کی اور فوری طور پر معافی مانگنے کا کہا، اس کے علاوہ کئی ریپبلکنز سمیت ڈیموکریٹس اراکین نے بھی ساتھی رکن کو ہدف بنایا۔

جس کے بعد الہان عمر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہود مخالف جذبات ایک حقیقی چیز ہیں،اور ’یہود مخالف دردناک سچائیوں سے آگاہ کرنے پر اپنے ساتھیوں کو شکریہ ادا کیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر وقت تنقید کا سامنا کرنے اور اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا حوصلہ ہونا چاہیے بالکل اسی طرح جس طرح میں چاہتی ہوں کہ جب لوگ میری شناخت پر حملہ کرتے ہیں تو وہ پہلے میری بات سنیں۔

اس حوالے سے ہاؤس کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے چیئرمین اور ڈیموکریٹ رکنِ اسمبلی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک رکنِ کانگریس کی طرف سے یہودی دولت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہود مخالف بیان سننا باعث حیرت ہے‘۔

مزید پڑھیں: امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 2 مسلمان خواتین رکنِ پارلیمنٹ منتخب

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس موقع پر چپ نہ رہے اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الہان عمر کو اپنے اوپر شرمندگی ہونی چاہیے، میرے خیال میں یہ انتہائی برا بیان تھا جس کے لیے ان کی معافی بھی کافی نہیں ہوگی۔

بہت سے اراکین کا کہنا تھا کہ الہان عمر اس بارے میں غلط تھیں کہ امریکی اراکین اسرائیل کی حمایت کیوں کرتے ہیں، بلکہ اسرائیل کی حمایت مشترکہ اقدار اسٹرٹیجک مفادات پر کی جاتی ہے، لیکن بہت سے اراکین نے الہان کو سراہا بھی تھا

معافی مانگنے کے بعد یہودی رکنِ پارلیمنٹ نے امریکی یہودیوں کا موقف سننے پر الہان عمر کا شکریہ ادا کیا۔

خیال رہے کہ وہ اس سے قبل بھی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب اسرائیل پر تنقید کرتی رہی ہیں اور انہوں نے اسرائیل کے خلاف فلسطین کی بائیکاٹ تحریک اور ترک سرمایہ و پابندی (بی ڈی ایس) کی حمایت بھی کی تھی۔


یہ خبر 13 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔