پاکستان سپر لیگ کے دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلوں پر ایک نظر

اپ ڈیٹ 13 فروری 2019

ای میل

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چوتھے ایڈیشن کا آغاز اب صرف ایک دن کی دُوری پر ہے۔ 3 سال قبل سال 2016ء میں شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ نے پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر نہایت مثبت اثرات مرتب کئے ہیں اور میرے خیال میں یہ اسی ٹورنامنٹ کا ثمر ہے کہ پاکستان کی ٹیم نہ صرف 2016ء سے 2018ء کے دوران مسلسل 11 ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنے میں کامیاب رہی بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے جاری کی گئی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں سرِفہرست بھی ہے۔

اس ٹورنامنٹ سے پاکستان کو اب تک شاداب خان، حسن علی، فخر زمان، شاہین شاہ آفریدی کی شکل میں متعدد کھلاڑی مل چکے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ پی ایس ایل کے چوتھے سیزن میں مزید باصلاحیت کھلاڑی ابھر کر سامنے آئیں گے۔

اس سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے مقابلے پوری قوم کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ ویسے تو پی ایس ایل کے تمام ہی مقابلے دلچسپی اور غیر متوقع نتیجہ دینے میں اپنی مثال آپ ہیں لیکن کچھ خاص میچ ایسے ہیں جن کے نتائج شائقین کرکٹ کے دلوں پر آج بھی بہت گہرے ہیں اور آج ہم ایسے ہی چند میچوں کی یادوں کو تازہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

کراچی کنگز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ (7فروری، 2016ء)

یہ پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن کا چھٹا میچ تھا۔ یہ وہ مقابلہ تھا جہاں سے پی ایس ایل کی تاریخ کے دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلوں کا آغاز ہوا۔ اس میچ میں کراچی کنگز کے کپتان شعیب ملک نے ٹاس جیت کر اسلام آباد یونائیٹڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ باؤلز کی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے اسلام آباد کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے تقصان پر صرف 132 رنز ہی بناسکی۔

کراچی کنگز کی بیٹنگ لائن دیکھتے ہوئے تو یہ ہدف بظاہر انتہائی آسان معلوم ہورہا تھا، لیکن اسلام آباد یونائیٹڈ کے باؤلرز نے اپنی نپی تلی باؤلنگ سے اس ہدف کو مشکل بنادیا۔ اسلام آباد کی جانب سے اہم ترین کردار سعید اجمل نے ادا کیا جنہوں نے پہلے اوور میں 14 رنز دینے کے بعد اپنے باقی 2 اوورز میں صرف 13 رنز دیے اور 3 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کی وکٹیں مسلسل گر رہی تھیں اور جب 17ویں اوور میں محض 90 رنز کے مجموعی اسکور پر ان کی آٹھویں وکٹ بھی گرگئی تو ان کی شکست یقینی ہوگئی تھی۔ لیکن اس موقع پر انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار روی بوپارا نے اس دُور ہوتے ہوئے ہدف کو حاصل کرنے کا بیڑہ اُٹھایا۔

کراچی کنگز کو آخری 2 اوورز میں 29 رنز درکار تھے۔ روی بوپارا اور ان کے ساتھی اسامہ میر نے 19ویں اوور میں 13 رنز بنا کر اپنی ٹیم کی امیدیں برقرار رکھیں۔ میچ کا آخری اوور کرنے کی ذمہ داری شین واٹسن نے خود اٹھائی جو اس موقع پر کپتان مصباح الحق کی غیر موجودگی کے باعث کپتانی کی ذمہ داری بھی سنبھال رہے تھے۔ شین واٹسن کے اس اوور کی پہلی گیند جو وائیڈ قرار دی گئی تھی اس پر اسامہ میر رن آؤٹ ہوگئے۔

اگلی گیند جو دراصل اوور کی پہلی لیگل گیند تھی، اس کو نئے آنے والے بیٹسمین محمد عامر نے 4 رنز کے لیے باؤنڈری کی راہ دکھا کر کراچی کے لیے کام مزید آسان کردیا۔ لیکن مسئلہ تب شروع ہوا جب اگلی 2 گیندوں پر عامر کچھ نہیں کرسکے اور چوتھی گیند پر انہوں نے ایک رن لے کر روی بوپارا کو اسٹرائیک واپس کردی۔

یہ وہ موقع تھا جب یہ کہا جاسکتا تھا کہ اب بہت دیر ہوگئی کیونکہ اوور کی صرف 2 بالز باقی تھیں اور کراچی کو میچ جیتنے کے لیے 10 رنز درکار تھے۔ مگر تمام تر مشکل حالات کے باوجود روی بوپارا ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھے اور انہوں نے اوور کی پانچویں بال پر زبردست چھکا لگا دیا۔ یوں ’اب کچھ بھی ہوسکتا ہے‘ کہ مصداق ایک بال پر 4 رنز درکار تھے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کیمپ میں اچانک خاموشی اور پریشانی چھا گئی تھی کیونکہ وہ اس میچ سے پہلے اپنے دونوں میچ ہار چکے تھے اور تیسری مسلسل شکست ان کے لئے نقصان کا باعث بنتی۔ لہٰذا اس موقع پر شین واٹسن نے اپنے تجربے کو یکجا کرتے ہوئے ایک شاندار یارکر کی جس پر روی صرف ایک رن ہی بنا سکے اور یوں یہ دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلہ اسلام آباد نے 2 رنز سے جیت لیا۔ اس جیت کا کراچی پر ایسا منفی اثر ہوا کہ اس ٹورنامنٹ میں وہ اسلام آباد کی ٹیم سے اگلے 2 میچ بھی ہار گئی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ پشاور زلمی (19 فروری، 2016ء)

کوئٹہ گلیڈیئٹر اور پشاور زلمی کے مابین پی ایس ایل 2016ء میں کُل 3 میچ کھیلے گئے اور تینوں ہی کم اسکور والے میچ ثابت ہوئے۔ گروپ اسٹیج پر دونوں ٹیموں کے مابین 2 مقابلے ہوئے جن میں سے ایک کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے جبکہ دوسرا پشاور زلمی نے جیتا۔ گروپ اسٹیج کے بعد دونوں ٹیموں کے پوائنٹس برابر تھے لیکن پشاور نے بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر پوائنس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

دوسرے راونڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں پشاور کے کپتان شاہد آفریدی نے ٹاس جیت کر کوئٹہ کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ پشاور زلمی کے باؤلرز نے اپنے کپتان کے اس فیصلے کو درست ثابت کیا اور مخالف ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو 19.3 اوورز میں صرف 133 کے اسکور پر آوٹ کردیا۔

عام خیال یہ تھا کہ پشاور زلمی یہ ہدف آسانی سے حاصل کرلے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ کرکٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ Cricket is a game of glorious uncertainities اور اس مقابلے میں کرکٹ کے تمام ہی نشیب و فراز نظر آئے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسکور کے تعاقب میں پشاور زلمی نے پُراعتماد آغاز کیا اور پہلے 4 اوورز میں ہی 29 رنز بنالئے۔

اس موقع پر اننگز کے پانچویں اوور کی تیسری گیند پر انور علی نے کامران اکمل کو کلین بولڈ کرکے جہاں اپنی ٹیم کے لیے کچھ امید پیدا کی وہیں اگلے ہی اوور میں محمد نواز نے محمد حفیظ اور بریڈ ہوگ کو آؤٹ کرکے کھیل کا پانسہ ہی پلٹ دیا۔

پانچویں اوور سے 15ویں اوور کے اختتام تک پشاور زلمی نے 10 اوورز کے کھیل میں 6 وکٹوں کے نقصان پر صرف 55 رنز بنائے۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں پشاور زلمی کے کپتان شاہد آفریدی بھی شامل تھے۔ اس مرحلے پر کوئٹہ کی گرفت میچ پر مضبوط لگ رہی تھی لیکن ابھی کہانی میں ایک نیا موڑ آنا تھا۔

ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی ڈیرن سیمی نے وہاب ریاض کے ساتھ مل کر صرف 3 اوورز میں 29 رنز کا اضافہ کرکے ایک مرتبہ پھر اپنی ٹیم کی جیتنے کی امید روشن کردی۔ 18وں اوور میں سیمی اور وہاب ریاض نے 14 مزید رنز کا اضافہ کردیا لیکن اسی اوور کی آخری گیند پر ڈیرن سیمی ایک زوردار شاٹ کھیلتے ہوئے باؤنڈری لائن کے پاس کیچ آؤٹ ہوگئے۔

اب پشاور زلمی کو 2 اوورز میں 21 رنز کی ضرورت تھی اور 19واں اوور کرنے کے لیے کپتان سرفراز احمد نے انور علی کو طلب کیا۔ ان کے سامنے نوجوان حسن علی تھے جو پاکستان سپر لیگ کی تاریخ میں اپنی پہلی بال کا سامنا کر رہے تھے اور حسن نے پہلی ہی بال پر 4 رنز حاصل کرلیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دونوں نے مل کر اس اوور 13 رنز کا اضافہ کیا جس کے نتیجے میں پشاور کو آخری اوور میں جیت کے لئے صرف 8 رنز درکار تھے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اگر آخری اوور میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو 10 یا اس سے کم رنز درکار ہوں تو وہ زیادہ تر مقابلے جیت جاتے ہیں اور اس میچ میں بھی ایسا ہی لگ رہا تھا کہ پشاور کی ٹیم یہ میچ جیت کر ٹورنامنٹ کے فائنل میں جگہ بنا لے گی لیکن اعزاز چیمہ نے اس مشکل مرحلے پر ایک شاندار اوور کیا۔ انہوں نے اننگز کے اس آخری اوور کی چوتھی اور پانچویں گیند پر حسن علی اور وہاب ریاض کی وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا دیا۔ آخری گیند پر 3 رنز درکار تھے لیکن پشاور کی ٹیم صرف ایک رن ہی بنا سکی اور یوں ایک اعصاب شکن مقابلے کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم ایک رن سے مقابلہ جیت کر پاکستان سپر لیگ کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔

جب محمد سمیع نے آخری اوور میں 5 رنز کا دفاع کیا (24 فروری، 2017ء)

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن کے دوران اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان کھیلے گئے ٹورنامنٹ کے 17ویں میچ میں اسلام آباد کی ٹیم نے ایک یقینی شکست کو فتح میں تبدیل کردیا۔ اس میچ میں گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 165 رنز بنائے۔

جواب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اعتماد کے ساتھ ہدف کا تعاقب شروع کیا۔ احمد شہزاد اور کیون پیٹرسن کی 133 رنز کی شراکت نے اپنی ٹیم کو جیت کے بہت قریب پہنچادیا لیکن کھیل کا رخ اس وقت یکسر تبدیل ہوگیا جب 17ویں اوور کی آخری گیند پر پیٹرسن اور 18ویں اوور کی پہلی گیند پر احمد شہزاد آؤٹ ہوگئے۔

لگاتار 2 نقصان کے باوجود میچ اب بھی کوئٹہ کی گرفت میں ہی تھا کیونکہ ان کو 17 گیندوں پر صرف 17 رنز ہی درکار تھے اور ان کی 7 وکٹیں باقی تھیں۔ 18ویں اوور میں 10 رنز بن گئے جس کے بعد کوئٹہ کو 2 اوورز میں صرف 7 رنز چاہیے تھے۔ اننگز کا 19واں اوور نوجوان باؤلر رومان رئیس نے کیا جس میں انہوں نے حیران کن طور پر صرف، جی ہاں صرف 2 رنز دیے۔

لیکن اس زبردست گیند بازی کے باوجود میچ کوئٹہ کے ہاتھ میں تھا کیونکہ آخری 6 گیندوں میں میچ جیتنے کے لیے 5 رنز درکار تھے مگر محمد سمیع ہار ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے پورے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک شاندار اوور کیا اور کوئٹہ کی ٹیم کو وکٹیں ہاتھ میں ہونے کے باوجود آخری اوؤر میں صرف 3 رنز بنانے دیے اور اپنی ٹیم کے لئے ایک رنز سے فتح حاصل کرنا ممکن بنایا۔ اس آخری اوور کے باعث کرکٹ کے بارے میں اس کہاوت کو مزید تقویت ملی کہ کرکٹ کے کھیل میں آخری وقت تک نتیجے کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

کیرون پولارڈ کی دہواں دار بیٹنگ (25 فروری 2017ء)

کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے درمیان دوسرے سیزن کے 18ویں میچ میں شائقین کو جو کھیل دیکھنے کا موقع ملا وہ ان کو مدتوں یاد رہے گا۔ کراچی کنگز کی ٹیم ٹورنامنٹ میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی اور اس کو اگلے راؤنڈ تک رسائی کے لئے ہر حال میں یہ میچ جیتنا تھا۔ کراچی کنگز کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے لاہور قلندر کو بیٹنگ کی دعوت دی جنہوں نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 155 رنز بنائے۔ ایک موقع پر لاہور کی 6 وکٹیں محض 100رنز کے اسکور پر گر گئیں لیکن محمد رضوان اور سہیل تنویر نے ساتویں وکٹ کے لئے 55 رنز جوڑ کر ٹیم کو ایک باعزت مجموعے تک پہنچا دیا۔

ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز نے پُراعتماد آغاز تو کیا لیکن اہم مواقعوں پر بابر اعظم اور کمار سنگا کارا کی وکٹیں گرنے اور اسپنرز سنیل نارائن اور یاسر شاہ کی عمدہ باؤلنگ کی وجہ سے ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر کیرون پولارڈ اور عماد وسیم نے کراچی کی ڈوبتی کشتی کو پار لگانے کا بیڑہ اٹھایا۔

کراچی کنگز کو آخری دو اوورز میں 29 رنز کی ضرورت تھی۔ تجربہ کار سہیل تنویر کو ان کے کپتان نے 19واں اوور کرنے کی ذمہ داری سونپی لیکن وہ یہ اوور اچھا نہیں کر سکے اور انہوں نے 15رنز دے دیے، جس کے بعد آخری اوور میں کراچی کو 14رنز کی ضرورت تھی۔ نوجوان عامر یامین نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور ابتدائی 4 گیندوں پر صرف 4 رنز دیے۔ یوں اگلی 2 گیندوں پر کراچی کو جیت کے لیے 10 رنز درکار تھے۔ اس مشکل صورتحال میں پولارڈ عامر یامین کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ دلوں کی ڈھڑکنیں تیز ہورہی تھیں اور پولارڈ نے پانچویں گیند کو 6 رنز کے لیے باؤنڈری کے باہر پھینک دیا۔ صورتحال اچانک کراچی کے لیے سازگار دکھائی لگنے لگی کیونکہ آخری گیند پر کراچی کو فتح کے لیے 4 رنز درکار تھے اور چھکے کے بعد ملنے والے اعتماد کو پولارڈ نے بھرپور طریقے سے استعمال کیا اور آخری گیند پر بھی چھکا لگاکر اپنی ٹیم کی یقینی نظر آنے والی شکست کو فتح میں تبدیل کردیا۔

جب عثمان شنواری کی نو بال ٹیم کی شکست کا باعث بنی (11 مارچ 2018ء)

ہر کھیل کی طرح کرکٹ میں بھی ایک علطی فتح یا شکست کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی کچھ لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان سال 2018ء میں کھیلے گئے لیگ کے 24ویں میچ میں ہوا۔

اس میچ میں لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر کراچی کنگز کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ کراچی نے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 163 رنز بنائے۔ لاہور قلندرز نے ہدف کے تعاقب میں 17ویں اوور تک 131 رنز بنالئے تھے جبکہ ان کے صرف 3 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ 18ویں اوور میں لاہور نے 9 رنز بنائے لیکن اس اوور میں ان کے 2 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔ 19ویں اوور میں محمد عامر نے صرف 8 رنز دیئے اور ایک وکٹ بھی حاصل کی۔ یوں لاہور کو آخری اوور میں جیت کے لیے 16رنز درکار تھے۔

سہیل اختر نے پہلی 3 گیندوں پر 12رنز بنالئے اور چوتھی گیند پر میکلیناگھن دوسرا رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہوگئے۔ آخری گیند پر 3 رنز درکار تھے جنہیں حاصل کرنے کے لیے سہیل اختر نے ایک زوردار شاٹ لگایا اور گیند باؤنڈری پر کھڑے فیلڈر نے کیچ کرلی۔ اس وکٹ کے بعد ابھی کراچی کے کھلاڑی اور تماشائی خوشی منانا شروع ہی ہوئے تھے کہ اچانک سب کی نظریں امپائر پر مرکوز ہوئیں جنہوں نے نو بال کا اشارہ کیا ہوا تھا۔ میدان میں صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی۔ اب تو بس یہ طے ہوگیا تھا کہ لاہور کی ٹیم میچ جیت گئی کیونکہ نو بال کے بعد فری ہٹ بھی مل گئی، لیکن میچ میں مزید ٹوئسٹ تب آیا جب 2 رنز کے تعاقب میں صرف ایک رن بنا اور رولر کوسٹر کی شکل اختیار کرتا میچ سوپر اوور میں داخل ہوگیا جہاں سنیل نارائن کی بہترین باؤلنگ کی بدولت لاہور قلندر میچ جیت گیا۔

گوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کی ایک رن سے فتح اور شکست حاصل کرنے کی روایت برقرار (20 مارچ 2018ء)

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں پاکستان سپر لیگ کے دوران سب سے زیادہ دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلوں میں شامل رہی ہیں۔ ان دونوں ٹیموں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ لیگ میں اب تک ہونے والے ہر ایڈیشن میں ان ٹیموں نے ایک میچ ایسا صرور کھیلا ہے جس میں صرف ایک رن کے فرق سے فتح اور شکست کا فیصلہ ہوا۔

پی ایس ایل کے پہلے 2 ایڈیشنز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کو 2 مختلف میچوں میں ایک رن کے فرق سے شکست دی تھی۔ اس مرتبہ گروپ اسٹیج میں آپس میں 2 میچ کھیلنے کے بعد ان دونوں ٹیموں کا ٹورنامنٹ کے پہلے Eliminator میں آمنا سامنا ہوا۔

قذافی اسٹدیم لاہور میں کھیلے جانے والے اس میچ میں پشاور زلمی نے پہلے کھیلتے ہوئے لیام ڈاؤسن کے شاندار 62 رنز کی بدولت 20 اوورز میں 157 رنز بنائے۔ اس ہدف کے تعاقب میں کوئٹہ کی ابتدائی 2 وکٹیں جلد گرگئیں لیکن پھر کپتان سرفراز احمد اور محمد نواز نے ٹیم کو سنبھالا اور 63رنز کی شراکت قائم کی۔ لیکن اچانک ہی یکے بعد دیگرے دونوں سیٹ کھلاڑی آؤٹ ہوگئے اور کوئٹہ مشکل صورتحال سے دوچار ہوگئی۔

کوئٹہ کو آخری 2 اوور میں 28 رنز درکار تھے لیکن اننگ کے 19ویں اوور میں صرف 3 رنز ہی بن سکے یوں کوئٹہ کو آخری اوور میں میچ جیتنے کے لیے 25 رنز درکار تھے۔ ہر طرف یہ تاثر چھا گیا تھا کہ پشاور تو بس جیتا ہی جیتا، اور آخری اوور محض رسمی کارروائی ہے، لیکن آخری اوور میں جو کچھ ہوا وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

آخری اوور کی ذمہ داری کپتان ڈیرن سیمی نے ڈاؤسن کے سپرد کی جس کا انور علی نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اس آخری اوور کی پہلی پانچ گیندوں پر 3 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 22 رنز حاصل کر لیے، جس کے بعد آخری گیند پر کوئٹہ کو صرف 3 رنز درکار تھے۔ انور علی نے اس آخری گیند کو لانگ آن کی طرف ہوا میں کھیلا جہاں فیلڈر عمید وسیم نے ہاتھوں میں آیا آسان کیچ چھوڑ دیا۔ اب جس وقت بال ہوا میں تھی تو انور علی اور ان کے ساتھی نے یہ سمجھتے ہوئے کہ فیلڈر کیچ پکڑ لے گا رنز بنانے کے لیے بھاگنا چھوڑ دیا۔ یہاں عمید وسیم کا کمال یہ تھا کہ کیچ چھوٹنے کے باوجود انہوں نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور فوری طور پر گیند وکٹ کی جانب پھینک دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دوسرا رن لیتے ہوئے میر حمزہ نان اسٹرائیکنگ اینڈ پر رن آؤٹ ہوگئے اور یوں پشاور زلمی نے یہ تاریخی میچ ایک رن سے جیت لیا۔

اگر آخری گیند پر انور علی اور میر حمزہ اگر ہوشیار رہتے اور جس وقت گیند ہوا میں تھی اس وقت رن لینے کا عمل جاری رکھتے تو کوئٹہ کی ٹیم میچ کو ٹائی کرکے سپر اوور تک لے جاسکتی تھی، مگر ایسا نہیں ہوسکا۔

اگرچہ یہ تحریر تو یہاں ختم ہوگئی، لیکن ان سنسنی خیز مقابلوں کا آغاز دوبارہ ہونے جارہا ہے، جس کا ذکر ہم لیگ ختم ہونے کے بعد کریں گے۔