اب فائنل میں ہوگا اصل مقابلہ

اب فائنل میں ہوگا اصل مقابلہ

پرفارمنس کے اعتبار سے تو اس بار کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں ہی حقیقی طور پر فائنل تک پہنچنے کی حقدار تھیں۔
اپ ڈیٹ 16 مارچ 2019
کراچی کو ہارنا ہی چاہیے تھا؟

کراچی کو ہارنا ہی چاہیے تھا؟

اسلام آباد نے ثابت کیا کہ وہ اعصابی طور پر زیادہ مضبوط تھے، خاص طورپر ابتدائی دھچکوں کے بعد وہ بخوبی مقابلے میں واپس آئے
15 مارچ 2019
ڈیرن سیمی کی مزار قائد پر حاضری

ڈیرن سیمی کی مزار قائد پر حاضری

محمد علی جناح پاکستان کے عظیم رہنما تھے، ایمان، اتحاد اور تنظیم پر عمل کرکے کامیابی ممکن ہے، کپتان پشاور زلمی
اپ ڈیٹ 10 مارچ 2019

  • پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب 8بجے شب (7بجے یو اے ای) ہوگی۔

  • پہلا میچ رات 10 بجے (9بجے یو اے ای) شروع ہوگا۔

  • دن میں کھیلے جانے والے میچ کا وقت 4:30 بجے سہہ پہر (3:30 یو اے ای) مقرر

  • رات میں کھیلے جانے والے میچ کا وقت 9:00 بجے شب (8:00 یو اے ای) مقرر

اب فائنل میں ہوگا اصل مقابلہ

اب فائنل میں ہوگا اصل مقابلہ

پرفارمنس کے اعتبار سے تو اس بار کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں ہی حقیقی طور پر فائنل تک پہنچنے کی حقدار تھیں۔
اپ ڈیٹ مارچ 16, 2019 11:22am
کراچی کو ہارنا ہی چاہیے تھا؟

کراچی کو ہارنا ہی چاہیے تھا؟

اسلام آباد نے ثابت کیا کہ وہ اعصابی طور پر زیادہ مضبوط تھے، خاص طورپر ابتدائی دھچکوں کے بعد وہ بخوبی مقابلے میں واپس آئے
شائع مارچ 15, 2019 10:04am
مقابلہ جو کراچی کے شایانِ شان تھا

مقابلہ جو کراچی کے شایانِ شان تھا

جیت عیب چھپا دیتی ہے اور یوں کراچی کی خامیاں بھی چھپ گئیں حالانکہ اس میچ میں کوئٹہ سے بھی زیادہ غلطیاں کراچی کنگز نے کیں
شائع مارچ 11, 2019 11:09am
نمبر وَن کی دوڑ میں زلمی سب سے آگے

نمبر وَن کی دوڑ میں زلمی سب سے آگے

پشاور کو ٹکر دینے والا اگر کوئی ہے تو صرف کوئٹہ ہے۔درحقیقت اِن دونوں کا اگلا ٹکراؤ ہی بتائے گا کہ اصل نمبر وَن کون ہے؟
شائع مارچ 02, 2019 10:22am
انگرام کا وَن مین شو

انگرام کا وَن مین شو

لیکن اب اگر کراچی پی ایس ایل میں آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اسے انفرادی کارکردگی پر نہیں بلکہ ٹیم پلے پر یقین رکھنا ہوگا۔
شائع فروری 25, 2019 12:00pm
پاکستان کرکٹ بورڈ کا درست فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ کا درست فیصلہ

سرفراز احمد، کوچ مکی آرتھر اور ٹیم منجمنٹ بشمول سلیکشن کمیٹی آج سے ہی اپنے ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست تیار کرنا شروع کردیں۔
اپ ڈیٹ فروری 07, 2019 05:14pm

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی دھوم اور شائقین کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس فارمیٹ کو جہاں فوقیت بخشی وہیں، دیگر ممالک بھی اس فارمیٹ کے ٹورنامنٹس مقامی سطح پر منعقد کروانے پر مجبور ہوئے، جس کی مدد سے نہ صرف ان ممالک کے کرکٹ بورڈز کو مالی فوائد حاصل ہوئے، وہیں نیا ٹیلنٹ بھی سامنے آیا۔

دنیائے کرکٹ میں بلاشبہ کئی ممالک کی مشہور لیگز ہیں، جن میں بھارت کی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل)، آسٹریلیا کی بیگ بیش، بنگلہ دیش کی بی پی ایل اور کریبین پریمیئر لیگ شامل ہیں، تاہم اگر مقبولیت کی بات کی جائے تو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی پاکستان کی پہلی بین الاقوامی کھلاڑیوں پر مشتمل لیگ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی، تو یہ بھی دیگز لیگز کی ہم پلہ ہے۔

پی ایس ایل کا افتتاحی ٹورنامنٹ سال 2016 میں کھیلا گیا تھا، جسے امید کے برعکس ایک کم تجربہ کار ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ نے حریفوں کو شکست دیتے ہوئے اپنے نام کیا تھا۔

پی ایس ایل کی تجویز سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے پیش کی تھی، جس کی بنیاد رکھنے کی کوششیں شروع کردی گئیں، تاہم اس کے انعقاد کی پہلے دو کوششیں ناکام رہیں، بالآخر 9 ستمبر 2015 کو ان کوششوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی اور اسی ماہ ہونے والی ایک تقریب کے دوران پی ایس ایل کے لوگو کی رونمائی ہوئی۔

پی سی بی نے پہلے ایونٹ کے لیے ابتدا میں 5 فرنچائزز کو آئندہ 10 برس کے لیے مجموعی طور پر 9 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے عوض مالکانہ حقوق دیے، جن میں اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، لاہور قلندرز اور پشاور زلمی شامل تھیں۔

پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سپر لیگ آئندہ برس یعنی 2016 میں کھیلی جائے گی، سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس کے لیے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے میدانوں کا انتخاب کیا گیا۔

لیجنڈ کرکٹرز اور سابقہ کپتان وسیم اکرم اور رمیز حسن راجہ کو پی سی بی نے پی ایس ایل کے فروغ کے لیے سفیر (برانڈ امبیسڈر) مقرر کیا جنہوں نے اپنا کام بخوبی انجام دیا اور لیگ کے کامیاب انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

پی سی بی کی کوششوں سے پی ایس ایل کے پہلے ٹورنامنٹ کا انعقاد فروری 2016 میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے شہر دبئی اور شارجہ میں ہوا۔

افتتاحی ٹورنامنٹ میں 5 ٹیمیں دبئی اسپورٹس سٹی اور شارجہ کرکٹ گراؤنڈ میں 4 تا 24 فروری تک آمنے سامنے تھیں۔

یہ ٹورنامنٹ ڈبل راؤنڈ رابن کی بنیاد پر کھیلا گیا اور تمام ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا، جنہوں نے ایک دوسرے سے 2، 2 میچز کھیلے ، ہوں ہر ٹیم نے اس راؤنڈ میں 8 میچز کھیلے۔

افتتاحی تقریب کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان پہلا میچ کھیلا گیا جسے کوئٹہ کی ٹیم نے باآسانی 8 وکٹوں سے جیت لیا۔

ٹورنامنٹ کا دلچسپ مقابلہ بلاشبہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلا گیا تھا جو ایونٹ کا پہلا کولیفائر مقابلہ تھا، جو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ایک رن سے اپنے نام کیا تھا۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ گروپ اسٹیج میں ابتدائی 6 میچوں میں سے صرف 2 میں کامیابی حاصل کرنے والی اسلام آباد یونائیٹڈ اپنے لگاتار تمام میچز جیت کر چیمپیئن بنی جبکہ اپنے گروپ اسٹیج میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز شکست کھاگئی۔

پی ایس ایل 2016 میں مایوس کن کارکردگی لاہور قلندرز کی رہی جو اپنے 8 میچز میں سے صرف 2 میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تاہم اپنے دیگر میچز میں بھی اس ٹیم نے حریفوں کو پریشان کیا۔

اس ٹورنامنٹ کے فائنل سے بہت پہلے ہی دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کے تمام ٹکٹس فروخت ہوگئے تھے، جو پی سی بی کے لیے اپنے ملک کے میدانوں سے دور ایونٹ کے کامیاب انعقاد کی نشانی تھی، کہ پاکستانی دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں، کرکٹ اور اپنے ملک کے کھلاڑیوں سے بھرپور محبت کرتے ہیں۔

پی ایس ایل 2016 میں دنیا کرکٹ کے بڑے بڑے ناموں نے شرکت کی، جن میں کرس گیل، تمیم اقبال، ڈوین براوو، شان ٹیٹ، لیوک رائٹ، روی بوپارا، کمار سنگاکارا، شین واٹسن، ڈیرن سمی و دیگر شامل تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے یہ ایونٹ بہت ہی حوصلہ افزا رہا، جس میں سمندر پار پاکستانیوں نے یو اے ای کے میدانوں کا رخ کرکے امید کے مطابق اپنا حصہ ملایا، بعدازاں پی سی بی نے اسے پھر پور انداز میں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

فاتح: اسلام آباد یونائیٹڈ

رنرز اپ: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز


سبز کیپ: عمر اکمل (لاہور قلندرز) 335 رنز

انابی کیپ: آندرے رسل (اسلام آباد یونائیٹڈ) 16 وکٹیں

پلیئر آف دی سیریز: روی بوپارا (کراچی کنگز) 329 رنز ، 11 وکٹیں

پاکستان کرکٹ کے دوسرے سپر ایونٹ کا انعقاد 2017 میں ہوا، جس کا فائنل میچ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا، جسے پاکستانی شائقین نے بھر پور سراہا۔

ایونٹ کا انعقاد 9 فروری سے 5 مارچ تک ہوا، جس کے لیے یو اے ای کے دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم اور شارجہ کرکٹ گراؤنڈ کا انتخاب کیا گیا، تاہم اس ایونٹ کا فائنل پاکستان میں کھیلا گیا۔

پچھلے ایونٹ کی طرح یہ سیزن بھی ڈبل راؤنڈ رابن کی بنیاد پر کھیلا گیا تھا، جس میں شریک 5 ٹیموں نے گروپ اسٹیچ میں ایک دوسرے سے 2، 2 میچز کھیلے، جس کے مطابق ایک ٹیم نے پہلے راؤنڈ میں کل 8 میچز کھیلے۔

راؤنڈ میچز کے بعد پلے آف مرحلہ تھا، جس میں سرِ فہرست 4 ٹیموں نے کولیفائی کیا تھا اور اس مرحلے کی کامیاب 2 ٹیموں کے درمیان فائنل میچ لاہور میں کھیلا گیا۔

پہلے پی ایس ایل میں دلچسپ مقابلوں کے بعد پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز روایتی حریف بن کر سامنے آئے، جو اسی سیزن میں فائنل سمیت 4 مرتبہ ایک دوسرے کے سامنے آئے، جن میں 2 میں پشاور زلمی اور ایک میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کامیاب رہی جبکہ ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا۔

فائنل سے قبل پلے آف مرحلے کے ایک میچ میں کراچی کنگز کے کیرون پولارڈ کے زوردار شاٹ پر کیچ پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے پشاور زلمی کے اسٹار آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی زخمی ہوگئے تھے۔

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ پہلے پی ایس ایل میں ناکامی کے بعد دوسرے پی ایس ایل میں پشاور زلمی نے فائنل میچ تو کھیلا، لیکن شاہد آفریدی فائنل کھیلنے والی ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔

ڈیرن سیمی کی قیادت میں قذافی اسٹیڈیم میں رونکیں بھکیرنے والی پشاور زلمی کی ٹیم نے باآسانی سرفراز احمد کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کیا۔

بلاشبہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد زمبابوے کی ٹیم پاکستان کا دورہ کر چکی تھی تاہم پی ایس ایل 2017 کے فائنل کی وجہ سے تجزیہ نگاروں کا یہ ماننا تھا کہ یہ میچ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے لیے اہم کرداد ادا کرے گا۔

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل

پی ایس ایل 2017 کا آغاز ایک بھیانک خبر کے ساتھ ہوا جس میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے شرجیل خان اور محمد عرفان جبکہ کراچی کنگز کے خالد لطیف مبینہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہیں، جس کی ایک جھلک شرجیل خان کی جانب سے پشاور زلمی کے خلاف افتتاحی میچ میں نظر آئی۔

میچ فکسنگ کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پی سی بی کی جانب سے اس کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا، تو معلوم ہوا کہ میچ فکسنگ کے اسکینڈل میں تین نہیں بلکہ 5 کھلاڑی ملوث ہیں جن میں ایک اس وقت پی ایس ایل کا حصہ رہنے والے کراچی کنگز کے شاہ زیب حسن اور ملک سے باہر موجود قومی ٹیم کے کھلاڑی ناصر جمشید تھے۔

پی سی بی نے مذکورہ معاملہ اینٹی کرپشن یونٹ کے تین رکنی ٹریبیونل کے سپرد کردیا، جس نے جامع تحقیقات کرتے ہوئے ملوث کھلاڑیوں کو قانون کے مطابق سزائیں دی گئیں، جن کے تحت ان پر معینہ مدت تک کرکٹ کی پابندی سمیت جرمانہ عائد کردیا گیا۔

فاتح: پشاور زلمی

رنرز اپ: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز


سبز کیپ: کامران اکمل (پشاور زلمی) 353 رنز

انابی کیپ: سہیل خان (کراچی کنگز) 16 وکٹیں

پلیئر آف دی سیریز: کامران اکمل (کراچی کنگز) 353 رنز

اب پی ایس ایل کی دھوم مچ رہی تھی، یہ ایک برانڈ بن کر دنیا کے افق پر ابھر چکا تھا اور اس کی مقبولیت کی صدائیں سمندر پار سے سنائی دے رہی تھی، حاسدوں کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر اس کے خلاف منفی پروپگینڈا بھی دیکھنے میں آیا، تاہم پی ایس ایل کے شائقین نے اس پروپگینڈے کا بھرپور جواب سوشل میڈیا ویب سائٹس پر ہی دیا۔

یہ منفی پروپیگنڈا اس وقت دم توڑ گیا جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل میں ٹیموں کی تعداد کو 5 سے بڑھا کر 6 کرنے جبکہ ایونٹ کے 2 میچز لاہور اور فائنل کراچی میں منعقد کروانے کا فیصلہ کیا۔

اب ٹیموں کی تعداد 6 تھی، دیگر پانچ ٹیموں کے ساتھ ملتان سلطانز پہلی مرتبہ پی ایس ایل کا حصہ بننے جارہی تھی جس کی کپتانی شعیب ملک کر رہے تھے جبکہ محمد عرفان، جنید خان، سہیل تنویر اور عمران طاہر سمیت نمایاں کھلاڑی اس میں شامل تھے۔

تیسرا ایڈیشن یو اے ای میں دبئی اسپورٹس سٹی اور شارجہ کرکٹ گراؤنڈ جبکہ پاکستان میں قذافی اسٹیڈیم لاہور اور نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں 22 فروری سے 27 مارچ تک کھیلے گئے تھے۔

پچھلے دونوں ایونٹس کی طرح اس ایونٹ میں بھی ڈبل راؤنڈ رابن کی بنیاد پر میچز کھیلے گئے تھے جس میں شریک 6 ٹیموں نے گروپ اسٹیچ میں ایک دوسرے سے 2، 2 میچز کھیلے جس کے مطابق ایک ٹیم نے پہلے راؤنڈ میں کل 10 میچز کھیلے۔

راؤنڈ میچز کے بعد پلے آف مرحلہ تھا، تاہم پی ایس ایل 2018 میں ٹیموں کی تعداد میں اضافے نے سرفہرست 4 ٹیموں میں شامل ہونے کے لیے میچز کو مزید دلچسپ بنادیا کیونکہ اب ایک نہیں بلکہ 2 ٹیموں کو پہلے ہی راؤنڈ کے بعد ایونٹ سے باہر ہوجانا تھا۔

ٹورنامنٹ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ دلچسپی بڑھتی رہی کیونکہ دوسرے مرحلے میں پہنچنے والی ٹیموں کا حتمی فیصلہ پہلے گروپ کے اختتامی میچز کے نتائج پر ہوا تھا۔

تیسرے ایڈیشن میں 2 ٹائی میچز کھیلے گئے جس سے اس لیگ کے سنسنی خیز مقابلوں کا عکس واضح طور پر نظر آیا۔

دونوں ٹائی میچز میں گزشتہ ایونٹس کی ناکام ٹیم لاہور قلندرز اپنے جوہر دکھاتی نظر آئی اور سپر اوور میں ایک میں اسے شکست جبکہ ایک میں کامیابی ملی۔

لاہور قلندرز کا پہلا ٹائی میچ اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ہوا جس میں اسلام آباد نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ دوسرا میچ کراچی کنگز کے ساتھ ہوا جس میں لاہور کو کامیابی ملی۔

کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے درمیان کھیلے جانے والے اس ٹائی میچ کو کرکٹ کا ایک تاریخی میچ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

اس میچ کی آخری گیند پر لاہور قلندرز کو جیت کے لیے 3 رنز درکار تھے اور کراچی کنگز کے عثمان شنواری کی اس گیند پر لاہور قلندرز کے سہیل اختر چھکا مارتے ہوئے باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہوگئے جس کے بعد کراچی کنگز کی ٹیم انتظامیہ اور مالکان نے جیت کی خوشی بھی منانا شروع کردی۔ تاہم بیٹسمین کی درخواست پر امپائر نے جب دوبارہ باؤلنگ کو چیک کیا تو عثمان خان کی وہ گیند نوبال قرار پائی اور لاہور قلندرز کو اب ایک گیند پر 2 رنز درکار تھے۔

سہیل اختر نوبال کی وجہ سے فری ہٹ کا فائدہ نہیں اٹھا سکے اور صرف ایک ہی رنز بناسکے جس کی وجہ سے یہ میچ ٹائی ہوگیا، تاہم سپر اوور میں لاہور قلندرز نے یہ میچ اپنے نام کرتے ہوئے کراچی کنگز کی یقینی فتح کو شکست میں بدل دیا۔

اسی سیزن کا ایک اور یادگار میچ روایتی حریف پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان ہوا جو ایونٹ کا ایلیمنیٹر تھا، یعنی شکست کی صورت میں ہارنے والی ٹیم کو ایونٹ سے باہر ہونا تھا۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس میچ پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز مکمل طور حاوی تھی اور کسی بھی زاویے سے اس کی شکست نظر نہیں آرہی تھی، لیکن پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کی تجربہ کار کپتانی نے نہ صرف میچ پر اپنی گرفت مضبوط کی بلکہ اسے آخری اوور تک پہنچادیا جہاں کوئٹہ کی ٹیم کو فتح کے لیے 25 رنز درکار تھے۔

ایسے میں کوئٹہ کے انور علی نے ابتدائی 5 گیندوں پر 22 رنز بنا کر پشاور زلمی کے اعصاب کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ لیام ڈاسن کی آخری گیند پر درکار 3 رنز بھی انور علی باؤنڈری لگا کر حاصل کر لیں گے، تاہم امیدوں کے عین مطابق انہوں نے ایک مرتبہ پھر زور دار شاٹ تو لگایا لیکن گیند سیدھی فیلڈرز کی جانب چلی گئی لیکن قسمت سے کیچ ڈراپ ہوگیا۔

یہاں انور علی اور ان کے ساتھ موجود دوسرے کھلاڑی میر حمزہ تذبذب کا شکار ہوئے اور 3 میں سے آسانی کے ساتھ بننے والے 2 رنز بھی مکمل نہیں کر سکے اور ایک رن سے شکست کھا بیٹھے۔

ایونٹ کا فائنل اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوا جس میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے لوک رونکی اور آصف علی کی شاندار بیٹنگ کی بدولت کامیابی حاصل کرکے دوسری مرتبہ ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

فائل میچ کے آغاز پر جذبہ حب الوطنی سے سرشار ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب قومی ترانہ پڑھنے کے دوران اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں نے قومی ترانہ بلند آواز میں یک زباں ہو کر پڑھا اور اسے کھلاڑیوں کے ساتھ پورا کیا۔

فاتح: اسلام آباد یونائیٹڈ

رنرز اپ: پشاور زلمی


سبز کیپ: لوک رونکی (اسلام آباد یونائیٹڈ) ۴۳۵ رنز

انابی کیپ: فہیم اشرف (اسلام آباد یونائیٹڈ) ۱۸ وکٹیں

پلیئر آف دی سیریز: لوک رونکی (اسلام آباد یونائیٹڈ) ۴۳۵ رنز

پی ایس ایل میں عوام کی دلچسپی

ملک سے دور ہونے کے باوجود فلمی ستاروں، ٹی وی آرٹسٹس، دیگر کھیلوں کے نامور کھلاڑیوں اور سیاست دانوں سمیت مشہور شخصیات نے متحدہ عرب امارات کا رخ کیا اور وہاں پی ایس ایل کے میچز دیکھے بلکہ کرکٹ کے شائقین کو بھی صحرائے عرب کے اسٹیڈیمز جاکر میچز دیکھنے کا مشورہ دیا۔

پی ایس ایل کی ایک خاص بات لاہور قلندرز کے مالک رانا فواد ہیں جن کی شخصیت اور کرکٹ سے ان کی محبت کی جھلک ان کے جذبات کی صورت میں اسٹیڈیم میں نظر آنے پر شائقین انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر رانا فواد کو پی ایس ایل کا ہیرو قرار دیا جاتا ہے، اور بعض صارفین تو انہیں پی ایس ایل کا سب سے بڑا ستارہ کہتے ہیں جن کے خوشی اور غم کے تاثرات ہمیشہ کیمرے کی توجہ اپنی جانب مبذول رکھتے ہیں۔

پی ایس ایل کے کامیاب 3 سیزنز کے بعد پی سی بی نے ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چوتھے سیزن کے 5 میچز کراچی اور 3 لاہور میں منعقد کروانے کا فیصلہ کیا۔

پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن میں ڈیوڈ وارنر، اسٹیو اسمتھ، اے بی ڈی ویلیئرز جیسے بڑے بڑے نام نہ صرف شامل ہیں بلکہ ان میں سے کچھ کھلاڑیوں نے پاکستان میں پی ایس ایل میچز کھیلنے پر رضامندی کا بھی اظہار کردیا۔

سنسنی خیز مقابلوں سے بھرپور یہ میگا ایونٹ 13 فروری سے 17 مارچ تک کھیلا جائے گا، جس سے امیدیں وابستہ کی جارہی ہیں کہ یہ شائقین کے لیے پہلے سے زیادہ دلچسپ، کھلاڑیوں کے لیے یاد گار اور پی سی بی کے لیے پہلے سے بھی زیادہ منافع بخش ہوگا۔

کاپی رائٹ © 2019