ایک صدی بعد کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہونے والا جانور
گزشتہ سال ہولی وڈ فلم بلیک پینتھر نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا مگر ایک صدی سے بھی زائد عرصے بعد پہلی بار ایک فوٹوگرافر ایک افریقی سیاہ تیندوے کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
برطانوی فوٹو گرافر ول براڈ لوکاس نے افریقی وائلڈ بلیک لیپارڈ کی تصاویر لیں۔
آخری بار افریقہ میں اس طرح کے سیاہ تیندوے کی تصویر ایتھوپیا میں 1909 میں لی گئی تھیں۔
اپنے ایک بلاگ میں فوٹوگرافر نے لکھا 'بچپن سے ہی میں بلیک پینتھر کی کہانیوں کو سن کر مسحور ہوجاتا ہوں، میرے لیے کوئی اور جانور اتنا پراسرار نہیں، کوئی جانور اتنا پیچیدہ اور خوبصورت نہیں'۔
اور برطانوی فوٹوگرافر سے عدم اتفاق کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ ایک صدی بعد پہلے شخص ثابت ہوئے ہیں جو بلیک پینتھر یا افریقن وائلڈ بلیک لیپارڈ کی تصاویر لینے میں کامیاب ہوئے۔
اور تصاویر بھی مسحور کردینے والی ہیں۔

فوٹوگرافر کینیا کے لاکیپیا وائلڈرنیس کیمپ اس وقت پہنچے جب انہوں نے ایک سیاہ تیندوے کے نظر آنے کی کہانیاں سنیں۔
انہوں نے ایک کیمرا ٹریپ بنایا جو کہ موشن لیس سنسرز اور مررر لیس کیمرے پر مشتمل تھا اور اسے ایسی جگہ لگایا جو اکثر تیندوے استعمال کرتے تھے۔
کئی دن تک فوٹوگرافر کو کوئی کامیابی نہیں ملی مگر جب وہ مایوس ہونے لگے تو وہ اس نایاب سیاہ تیندوے کی تصاویر پانے میں کامیاب ہوگئے۔
انہوں نے بتایا ' میں آخری ٹریپ کو دیکھ رہا تھا اور مجھے توقع نہیں تھی کہ کچھ ملے گا، جب میں کیمرے میں تصاویر کو دیکھ رہا تھا تو اچانک میری انگلیاں تھم گیں کیونکہ گہری تاریکی میں 2 آنکھیں مجھے گھور رہی تھیں، وہ ایک بلیک لیپارڈ تھا'۔
ان کا کہنا تھا 'مجھے یقین نہیں آیا اور مجھے اپنے خواب کی تعبیر پانے کے لیے کئی دن انتظار کرنا پڑا'۔

سیاہ تیندوے کی تصاویر لینا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ یہ نہ صرف انتہائی خفیہ رہتے ہیں بلکہ ان کی تعداد بھی بہت زیادہ کم ہے۔
تیندوں میں یہ گہرا رنگ جلدی رنگت کا باعث بننے والے جز میلانین کی مقدار بڑھنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ایسے تیندوں کی زیادہ بڑی آبادی اس وقت جنوب مشرقی ایشیا میں پائی جاتی ہے مگر افریقہ میں یہ نایاب ہیں۔
فوٹوگرافر نے ان تصاویر کو لینے کی کہانی کو یوٹیوب ویڈیو میں بھی محفوظ کیا ہے جو آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔













لائیو ٹی وی