ایران کیلئے ’جاسوسی‘ کے الزام میں سابق امریکی انٹیلیجنس افسر گرفتار

اپ ڈیٹ 13 فروری 2019

ای میل

امریکی فضائیہ میں 10 سال بطور کاؤنٹرانٹیلیجنس کام کیا—فوٹو: رائٹرز
امریکی فضائیہ میں 10 سال بطور کاؤنٹرانٹیلیجنس کام کیا—فوٹو: رائٹرز

امریکا نے اپنی ہی فضائیہ کی سابق انٹیلی جنس افسر کو ایران کے لیے ’جاسوسی‘ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے الزام لگایا کہ 39 سالہ مونیکا ویٹ نے امریکی ملٹری پر سائبر حملوں کے لیے پاسداران انقلاب کی مدد کی۔

یہ بھی پڑھیں: بلیک لسٹ امریکی شہری اسلام آباد سے گرفتار

واشنگٹن حکام کے مطابق مونیکا ویٹ نے امریکی فضائیہ میں 10 سال بطور کاؤنٹر انٹیلی جنس کام کیا اور 2008 میں دیگر نجی شعبوں کے لیے کام کرنے کے علاوہ ڈیفنس کانٹریکٹر بوزو ایلن ہملٹن کے لیے انٹیلیجنس ماہر کے طور پر فرائض انجام دیئے۔

امریکی حکام نے الزام لگایا کہ مونیکا ویٹ نے اپنے ملک کے خلاف ’نظریات‘ کی بنیاد پر رخ بدلا اور امریکی حساس آپریشن اور امریکی جاسوسوں کی تفصیلات تہران کو فراہم کی۔

برطانوی اخبار 'دی گارجین' کی رپورٹ کے مطابق ’امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے لگائے گئے الزام میں کہا گیا کہ مونیکا ویٹ کا اگست 2013 میں ایران کے ساتھ رابطہ قائم ہوا، جہاں انہوں نے اپنے ساتھی انٹیلی جنس افسران کی تفصیلات ایران کو فراہم کیں۔‘

مزید کہا گیا کہ ’بعد ازاں ایرانی ہیکرز نے کاؤنٹر انٹیلی جنس افسران پر حملہ کیا‘۔

مزید پڑھیں: سابق اسرائیلی وزیر کا ایران کیلئے جاسوسی کا اعتراف

دوسری جانب سلامتی کونسل کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرز نے کہا کہ ’یہ بہت افسوس ناک دن ہے جب اپنی ہی ایک شہری نے ملک سے غداری کی‘۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ’ایران نے سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنے والے سابق امریکی انٹیلی جنس افسران کو نشانہ بنانے کے لیے مونیکا ویٹ کو خصوصی آپریشن کے لیے بھرتی کیا‘۔

واضح رہے کہ ستمبر 2018 کو امریکا میں زیر تعلیم چینی طالبعلم کو ’جاسوسی‘ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ گرفتار چینی طالبعلم جی چاؤ کم کے پاس امریکی سائنسدان اور انجینئرز کو بیجنگ کی مدد کے لیے بھرتی کرنے کا ہدف تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہواوے ایگزیکٹو گرفتار، چین اور امریکا کے تعلقات میں پھر کشیدگی

حکام نے بتایا تھا کہ 27 سالہ جی چاؤ کم اسٹوڈنٹ ویزا پر 2013 میں شکاگو پہنچے اور انہیں چینی انٹیلی جنس نے مبینہ طور پر 8 امریکی شہریوں کی معلومات اکٹھا کرنے کے لیے بھیجا تھا۔