یورپی یونین کی منی لانڈرنگ فہرست میں 'سعودیہ' کو شامل کرنے کی تجویز

13 فروری 2019

ای میل

ان ممالک کی حکومتیں دہشت گردی کی مالی معاونت اور منظم جرائم کو روکنے میں ناکام رہیں، یورپی کمیشن — فائل فوٹو
ان ممالک کی حکومتیں دہشت گردی کی مالی معاونت اور منظم جرائم کو روکنے میں ناکام رہیں، یورپی کمیشن — فائل فوٹو

برسلز: یورپی کمیشن نے سعودی عرب سمیت 7 ممالک کو یورپی یونین کی منی لانڈرنگ کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی تجویز دے دی۔

یورپی کمیشن کے مطابق ان ممالک کی حکومتیں دہشت گردی کی مالی معاونت اور منظم جرائم کو روکنے میں ناکام رہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق یورپی کمیشن کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ سال استنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ریاض اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس تجویز کو قابل عمل بنانے کے لیے یورپی پارلیمنٹ اور اس کے 28 رکن ممالک کی جانب سے منظوری لازمی ہے، تاہم فرانس اور برطانیہ اس فہرست کے خلاف ہیں۔

یورپی کمیشن کی جانب سے ہدف بنائے گئے نئے ممالک میں سعودی عرب اور پاناما بھی شامل ہیں، جبکہ اس فہرست میں پہلے سے 16 ممالک شامل ہیں جن میں ایران، عراق، پاکستان، ایتھوپیا اور شمالی کوریا کا نام بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کو پاکستانی اقدامات سے آگاہ کرنے کیلئے وفد روانہ

یورپی کمیشن کی اس بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے پابندیاں عائد نہیں ہوتیں تاہم یورپی ممالک پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ فہرست میں شامل ممالک کے صارفین اور اداروں سے مالی لین دین پر کڑی نظر رکھیں۔

یورپی کمشنر برائے انصاف ویرا جورووا نے کہا کہ 'ہم نے منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ میں دنیا میں اعلیٰ معیار قائم کیا ہے۔'

فرانس کے شہر اسٹراس بورگ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ 'ہم اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ دوسرے ممالک کی ناجائز طور پر حاصل کی گئی رقم ہمارے مالی نظام میں شامل نہ ہو۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ناجائز رقم منظم جرائم اور دہشت گردی کے پیچھے اہم کردار ادا کرتی ہے۔'

ویرا جورووا نے فہرست میں شامل ممالک پر جلد اپنے نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ 'فہرست میں کسی ملک کا نام شامل کرنے پر کوئی مخالفت نہیں ہوئی، تاہم 'طریقہ کار' پر خدشات سامنے آئے۔'