پلوامہ حملہ: سینیٹر رحمٰن ملک کے بھارت سے 21 اہم سوالات

اپ ڈیٹ 17 فروری 2019

ای میل

پلوامہ حملے سے کس کو فائدہ پہنچا ہے، پاکستان یا بھارت کو؟—فوٹو: ڈان نیوز
پلوامہ حملے سے کس کو فائدہ پہنچا ہے، پاکستان یا بھارت کو؟—فوٹو: ڈان نیوز

سابق وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمٰن ملک نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے نئی دہلی سے 21 اہم سوالات کے جواب دینے کا مطالبہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ’پلوامہ حملہ قابل مذمت ہے لیکن دہشت گردی جہاں کی بھی ہو قابل مذمت ہے‘۔

سینیٹر رحمٰن ملک نے بھارتی حکومت، عوام اور وکلا برداری سے 21 سوالات پوچھے ہیں۔

سوال نمبر1: ہلاک ہونے والے 44 سپاہیوں میں سے زیادہ تر غریب سکھ تھے، کس نے ان سب کو ایک گاڑی میں سوار کیا؟

سوال نمبر2: سب سکھ سپاہیوں کو ایک ہی وین میں سوار کرنا کہیں سازش تو نہیں؟

سوال نمبر3: کیسے حملے کے فوراً بعد ہی بغیر تفتیش کے بھارتی حکومت نے پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا؟

سوال نمبر4: جیش محمد کی جانب سے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کے باوجود بھارت کیسے اس پر الزام لگا رہا ہے؟

سوال نمبر :5 کیا بھارتی حکومت جائے وقوع کا حملے سے 24 گھنٹے پہلے اور بعد کی گوگل تصاویر شئیر کرے گی؟

سوال نمبر6: کیا بھارتی حکومت ہلاک شدہ ہر سپاہی کے نسلی پس منظر کو شئیر کرے گی؟

سوال نمبر7: قافلے کا کمانڈرکون تھا، حملے کے وقت کہاں موجود تھا، اس کا کیا بیان ہے؟

سوال نمبر8: جس نوجوان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی کیا اس کو کبھی حراست میں لیا گیا ؟

سوال نمبر9: کیا ذمہ داری قبول کرنے والے جوان کی وین میں موجودگی کی گواہی کسی غیر جانبدار نے دی؟

سوال نمبر10: اگر آئی ای ڈی گاڑی قافلے میں داخل ہوئی ہو تو کیسے سخت سیکیورٹی میں داخل ہوئی؟

سوال نمبر11: بھارتی حکومت نے سیکیورٹی غفلت و ناکامی پر کیا ذمہ داروں کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے؟

سوال نمبر12: کیسے 342 کلوگرام بارود سے بھری گاڑی قافلے میں داخل ہوئی جبکہ ہر 7 کلومیٹر پر فوجی چوکی ہے؟

سوال نمبر13: کشمیرکے چپے چپے پر بھارتی فوج ہونے کے باوجود کیسے اتنی بڑی مقدار میں بارود بھری گاڑی پہنچ سکی؟

سوال نمبر14: کیا حملے میں استعمال شدہ گاڑی، گاڑی کے ماڈل و مالک کا پتہ چلایا گیا؟

سوال نمبر15: جائے وقوع 150 کلومیٹر اندر ہے، کیسے کوئی اجنبی بارود سے بھری گاڑی لے کر بغیر اندرونی سہولت کے داخل ہوسکا؟

سوال نمبر16: کس نے 25 سو اہلکار پرمشتمل قافلے کو بغیر سیکورٹی کلیئرنس روانہ کیا تھا؟

سوال نمبر17: کہیں کرتارپور بارڈر کے کھلنے سے بھارتی حکومت پریشان تو نہیں ہے جس سے سکھ پاکستان سے خوش ہیں؟

سوال نمبر18: کیا بھارتی اسٹیٹ ایکٹرز نے کرتارپور بارڈر کو سبوتاژ کرنے کیلئے پلوامہ حملہ تو نہیں کیا؟

سوال نمبر19: کیوں کسی کشمیری رہنما نے سانحہ پلوامہ کے لیے پاکستان کو موردالزام نہ ٹھہرایا بلکہ بھارتی اعلانیہ کو رد کیا؟

سوال نمبر20: کہیں امریکا اور طالبان کو ایک میز پر لانے کی پاکستانی کوشش بھارت کو بری تو نہیں لگی، جس کی بنا پر پاکستان پر یہ الزام لگایا؟

سوال نمبر21: پلوامہ حملے سے کس کو فائدہ پہنچا ہے، پاکستان یا بھارت کو؟

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے میں 44 پیراملٹری اہلکاروں کی ہلاکت پر بھارت نے پاکستان پر حملے کا الزام عائد کردیا تھا۔

اس سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی فورسز پر حملے سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو ’پاکستان پر الزام تراشی کا وتیرہ‘ قرار دے دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ایک طرف نئی دہلی غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی ویڈیو کو اہم ثبوت قرار دیتا ہے لیکن (زیرحراست) بھارتی جاسوس کلبھوشن کے رضاکارانہ طور پر دینے والے بیان کو تسلیم نہیں کرتا‘۔