اقوام متحدہ کی پاک-بھارت کشیدگی کم کرنے کیلئے ثالثی کی پیشکش

20 فروری 2019

ای میل

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر گہرے تحفظات ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر گہرے تحفظات ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوتیرس نے ’پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی‘ پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ’ثالثی‘ کی بھی پیش کش کی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا بھارتی دھمکیوں کے بعد اقوام متحدہ سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفین ڈیوجارک نے میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’سیکریٹری جنرل نے دونوں ممالک کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرے کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ انتونیو گیوتیرس نے مزید کہا کہ اگر دونوں ممالک کو قبول ہو تو وہ ثالت کا کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی اس طرح کی پیش کش کو قبول کیا تھا لیکن بھارت اس میں شامل ہونے سے گریز کررہا تھا اور وہ اس مسئلے کو دوطرفہ تنازع قرار دیتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں حملے کے بعد بھارت کی جانب سے الزام تراشیوں اور دھمکیوں کے بعد اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ’میں فوری طور پر آپ کی توجہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں کے نتیجے میں خطے کی خراب ہوتی سیکیورٹی صورتحال کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں‘۔

انہوں نے لکھا تھا کہ پلوامہ میں بھارت کے مطابق بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس پر حملہ کشمیر کے رہائشی نے کیا جبکہ اسے بغیر کسی تصدیق اور تفتیش کے پاکستان سے منسوب کیا جارہا ہے، اپنے داخلی سیاسی مقاصد کے لیے بھارت جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف دشمنی کا پیغام دے رہا اور ماحول کشیدہ کررہا۔

پلوامہ حملہ

خیال رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد نئی دہلی نے کسی بھی طرح کی تحقیقات کیے بغیر اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا جسے اسلام آباد نے مسترد کیا۔

بھارت نے الزام لگایا تھا کہ یہ حملہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی جانب سے کروایا گیا، ساتھ ہی انہوں نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر الزام تراشی بھارتی وتیرہ ہے، دفتر خارجہ

تاہم بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے اس معاملے کو پاکستان سے جوڑ دیا تھا اور پاکستان سے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لے لیا تھا جبکہ پاکستان سپرلیگ کی نشریات پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

اس کے علاوہ بھارتی درآمدکنندگان نے پاکستانی سیمنٹ کی درآمد روک دی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان کی سیمنٹ فیکٹریوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

بھارت میں اور مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمان شہریوں کے گھروں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں مسلمان خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جواب دیا تھا کہ پاکستان پر الزام لگانا ایک منٹ کی بات ہے، بھارت اپنا ملبہ پاکستان پر پھینک رہا ہے اور اب دنیا اس سے قائل نہیں ہوگی۔