کوئٹہ، اِس مرتبہ غلطی کی گنجائش نہیں

21 فروری 2019

ای میل

کاغذ پر دیکھا جائے تو پاکستان سپر لیگ کی کون سی ایسی ٹیم ہے جو دوسری ٹیموں سے پیچھے دکھائی دیتی ہے؟ شاید کوئی بھی نہیں۔ یہاں تک کہ پوائنٹس ٹیبل پر (ہمیشہ کی طرح) سب سے نیچے موجود لاہور قلندرز کے اسکواڈ پر بھی نظر ڈالیں گے تو ہمیں اے بی ڈی ولیئرز، کارلوس بریتھویٹ، کوری اینڈرسن، فخر زمان، شاہین آفریدی اور یاسر شاہ جیسے زبردست کھلاڑی نظر آ جائیں گے۔

پھر کراچی کنگز کے پاس کولن منرو اور محمد عامر ہیں، اسلام آباد یونائیٹڈ میں لیوک رونکی اور شاداب خان، ملتان سلطانز میں شاہد آفریدی اور آندرے رسل اور پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی ہیں تو مصباح الحق، حسن علی، کیرون پولارڈ اور وہاب ریاض اسکواڈ کا حصہ۔ لیکن جہاں میدانِ عمل ہو تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی تو بات ہی اور ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام آباد یونائیٹڈ 2 مرتبہ پی ایس ایل چیمپئن بنا ہے اور اِس وقت بھی اپنے اعزاز کا دفاع کر رہا ہے لیکن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز وہ ٹیم تھی جسے ابتدائی 2 سیزنز میں تو کسی نے گھاس ہی نہ ڈالی، یہاں تک کہ پہلے پی ایس ایل کی عمدہ کارکردگی کے بعد بھی۔ لیکن اِس مرتبہ حالات مختلف ہیں۔

سرفراز احمد کی زیرِ قیادت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو گرو کی حیثیت سے ویوین رچرڈز کی خدمات حاصل ہیں۔ پھر شین واٹسن، عمر اکمل اور رائلی روسو جیسے کھلاڑی بھی ٹیم کا حصہ ہیں اور انہی کی بدولت پی ایس ایل 4 میں کوئٹہ اب تک کوئی مقابلہ ہارا نہیں ہے۔ اِتنا عمدہ آغاز تو کوئٹہ نے صرف پہلے سیزن میں ہی لیا تھا۔

شین واٹسن اور ریلی روسو
شین واٹسن اور ریلی روسو

پوائنٹس ٹیبل پر نگاہ ڈالیں تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ٹیم تینوں مقابلے جیت کر نمبر ایک پر نظر آ رہی ہے اور اس کی وجہ ہے اُن کی میدان میں زبردست کارکردگی۔ ایک طرف نپی تلی باؤلنگ ہے تو دوسری جانب دَم دار بیٹنگ اور شاندار فیلڈنگ۔ کھیل کے ہر شعبے میں کوئٹہ نمایاں ہے خاص طور پر بلے بازی میں کہ جہاں اُس کے تینوں اہم بیٹسمین شین واٹسن، رائلی روسو اور عمر اکمل خوب چل رہے ہیں۔

شین واٹسن اِس وقت تمام بلے بازوں میں سب سے آگے ہیں۔ 3 میچز میں 2 نصف سنچریوں کی مدد سے 161 رنز بنانے والے واٹسن کا اوسط 80 سے زیادہ ہے اور بہترین اننگز 81 رنز ناٹ آؤٹ۔ عمراکمل 3 میچز میں 136 رنز بنا چکے ہیں جس میں ایک نصف سنچری بھی شامل ہے۔ رائلی روسو نے ملتان کے خلاف 67 رنز کی فاتحانہ اننگز کھیلی ہے۔ پھر کوئٹہ کی کامیابی کے مارجنز سے بھی اندازہ لگا لیں کہ پشاور کے خلاف اس نے اپنا پہلا مقابلہ 6 وکٹوں سے جیتا، پھر دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7 وکٹوں کی کراری شکست دی اور اب اسلام آباد کو ہرانے والے ملتان سلطانز کو 8 وکٹوں کی بھرپور شکست دے چکے ہیں یعنی تینوں مقابلے ہدف کے تعاقب میں اور مکمل طور پر یکطرفہ انداز میں جیتے۔

لیکن یاد رکھیں کہ ابھی تو سیزن کا آغاز ہے، ابھی تو سیزن کا انجام ہوگا۔ دراصل کوئی بھی کرکٹ لیگ ایک میراتھون کی طرح ایک طویل فاصلے کی دوڑ ہوتی ہے جس میں جیتتا وہی ہے جو منزل کی طرف یکساں رفتار سے اور مسلسل قدم بڑھاتا رہے۔ اگر ابتدا بہت پُرجوش ہو، تیز رفتار ہو تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ منزل کے قریب پہنچتے پہنچتے سانس لینا دوبھر ہوجائے اور یوں شکست مقدر ٹھہرے اور ایسا کوئٹہ کے ساتھ بارہا ہو چکا ہے۔

اس لحاظ سے اگر ہم کوئٹہ کو پی ایس ایل تاریخ کی بدقسمت ترین ٹیم کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ پہلے سیزن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد تو گلیڈی ایٹرز فائنل تک پہنچے تو اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈیوین اسمتھ اور بریڈ ہیڈن اُس کی راہ میں آڑے آ گئے اور شکست مقدر ٹھہری۔

شین واٹسن مین آف دی میچ قرار پائے
شین واٹسن مین آف دی میچ قرار پائے

پھر مسلسل دوسرے سال فائنل تک رسائی حاصل کی تو لاہور آڑے آ گیا، ارے نہیں نہیں لاہور قلندرز نہیں، وہ بیچارے فائنل تک پہنچیں گے؟ ہم پی ایس ایل 2 کے فائنل کے لاہور میں انعقاد کی بات کر رہے ہیں۔ تو پی ایس ایل انتظامیہ نے جیسے ہی فائنل قذافی اسٹیڈیم میں منعقد کرنے کا اعلان کیا، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے تمام اہم غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آنے سے انکاری ہوگئے اور نتیجہ ایک مرتبہ پھر فائنل کی شکست کی صورت میں نکلا۔ یہی نہیں بلکہ تیسرے سیزن میں ناک آؤٹ مقابلے میں کوئٹہ پشاور کے ہاتھوں صرف ایک رن سے شکست کھا گیا۔ انور علی پی ایس ایل کی تاریخ کے سب سے بڑے ہیرو بن جاتے، لیکن آخری اوور میں 23 رنز بنانے بھی کوئٹہ کو کامیابی نہ دلا سکے۔

تو تاریخ یہی کہتی ہے کہ کوئٹہ آخر میں ہمت ہار دیتا ہے لیکن اِس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے، کوئٹہ کو اپنا ایندھن بچا کر رکھنا ہوگا تاکہ اسے آخری مرحلے میں کام آئے ورنہ اسے وہی کہا جائے گا جو انٹرنیشنل کرکٹ میں جنوبی افریقہ کو کہا جاتا ہے جو شاندار کارکردگی دکھانے کے بعد نازک ترین مرحلے پر شکست کھا جاتا ہے۔