ملک بھر میں سیلاب، طوفانی بارشوں سے 19 افراد جاں بحق

اپ ڈیٹ 22 فروری 2019

ای میل

زیادہ تر ہلاکتیں بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے گھروں کی چھت گرنے سے ہوئیں۔
— فائل فوٹو/پی پی آئی
زیادہ تر ہلاکتیں بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے گھروں کی چھت گرنے سے ہوئیں۔ — فائل فوٹو/پی پی آئی

پشاور: ملک کے مختلف شہروں میں طوفانی بارشوں کے باعث 19 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہوگئے، جن میں سے زیادہ تر اموات بارش کے باعث گھروں کی چھت اور تودے گرنے سے ہوئیں۔

طوفانی بارش سے ہونے والی اموات صوبہ خیبرپختونخوا، بلوچستان، پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر کے علاقوں میں رپورٹ کی گئیں۔

خیبر قبائلی ضلع میں 2 واقعات سامنے آئے، جہاں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 2 اہلکار اور 2 کم عمر لڑکیاں جاں بحق ہوئیں جبکہ واقعے میں 2 خواتین زخمی بھی ہوئیں۔

اسی طرح باڑہ میں سیکیورٹی حکام نے محسود اسکاؤٹس سے تعلق رکھنے والے ایف سی اہلکاروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ وادی تیراہ کے علاقے غائبی نیکا میں محمد کامران اور شیر زمان کے گھر کی چھت گرنے سے وہ جاں بحق ہوئے۔

یہ بھی دیکھیں: بلوچستان میں موسلادھار بارش کے بعد سیلابی صورتحال

ادھر طورخم کے علاقے میں بارش کے باعث گھر کی چھت گرنے سے 2 کم عمر لڑکیاں افصہ اور کلثوم جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں جبکہ واقعے میں زخمی ہونے والی 2 خواتین کو مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

طوفانی بارشوں کے باعث ضلع دیر کے علاقے بالا میں تودے گھروں پر گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے، جس میں 2 بھائی بھی شامل تھے۔

پہلا واقعہ واڑی تحصیل کے علاقے کارو دارا میں پیش آیا، جہاں ایک چٹان گھر پر آگری، جس سے دونوں بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے والدین کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب گندی گڑ میں بھی گھر پر پتھر گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، جس کی شناخت ابراہیم کے نام سے ہوئی، اسی طرح اپر دیر کے اشیری درہ میں تودہ گرنے سے ایک خاتون بھی جاں بحق ہوئی۔

خار: مقامی افراد اور علاقائی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ باجوڑ کی تحصیل بارنگ میں مکان کی چھت گرنے سے 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ محمد علی نامی شخص کے اہل خانہ ایک کمرے میں ناشتے کے لیے جمع تھے کہ طوفانی بارش کی وجہ سے مکان کی چھت گر گئی، جس سے 3 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 5 سالہ بچہ اور خاتون بھی شامل تھی۔

چترال: 9 افراد کو لے جانے والی جیپ دریا میں گرنے سے 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔

چترال پولیس کا کہنا تھا کہ بھاری برف باری کے باعث گاڑی پھسلی اور حادثے کا شکار ہوئی، جاں بحق افراد میں وشیچ گاؤں کے اسکول استاد عزیز رحیم اور جمیل الرحمٰن شامل ہیں۔

واقعے میں 3 خواتین اور جیپ ڈرائیور بھی زخمی ہوا، جنہیں صحت سینٹر شاگرام منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی۔

شانگلہ: بالائی علاقوں میں طوفانی بارشوں اور تودے گرنے کی وجہ سے 10 گھر اور ایک دکان تباہ ہوگئی جبکہ ایک شخص جاں بحق ہوا۔

مزید پڑھیں: کیرالا میں تباہ کن سیلاب،پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی!

ڈپٹی کمشنر شانگلہ فیاض شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ 8 گھر اور ایک دکان مکمل طور پر تباہ ہوئی جبکہ 3 گھروں کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آنے سے میاں کلے پیر آباد کے رہائشی شمشاد جاں بحق ہوا۔

ادھر گجرانوالہ کے گاؤں اروپ میں اسکول کے دفتر کی چھت گرنے سے اسکول ٹیچر شکیلہ جاں بحق اور ہیڈ ٹیچر گلزار زخمی ہوئے۔

گجرانوالہ: بارش سے ہونے والے سانحات میں ایک شخص جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے۔

علاوہ ازیں قصور میں پتوکی میونسپل کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے دفتر کی چھت گرنے سے میونسپل کمیٹی کے 3 اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

لسبیلہ: ضلعی حکام کا کہنا تھا کہ سیلاب میں بہہ جانے سے 3 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ اس رپورٹ کے شائع ہونے تک مزید 4 افراد لاپتہ تھے۔

موجودہ صورتحال کے بعد پاک فوج اور مقامی انتظامیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں لسبیلہ، آواران اور مکران کے حصوں میں ریسکیو آپریشن کا آغاز کردیا جبکہ ذرائع نے بتایا کہ سیلاب کے باعث تقریباً 500 خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

مظفر آباد: مقامی حکام کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے بالائی گاؤں میں 3 بہن بھائی برفانی تودے کی زد میں آگئے جس کے نتیجے میں ایک جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقامی شخص گلزار احمد لون کے بچے ریشیان میں قائم اپنے اسکول جارہے تھے کہ برفانی تودا ان پر آگرا۔

اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں اور فوجی اہلکار فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے اور تمام بچوں کو ریسکیو کیا، تاہم تیسری جماعت کی 9 سالہ حلیمہ کچھ دیر بعد ہی جاں بحق ہوگئی۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 22 فروری 2019 کو شائع ہوئی