اسرائیل نے زیر حراست سینئر مسلمان عہدیدار کو رہا کردیا

24 فروری 2019

ای میل

فلسطینی مظاہرین نے مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ کے حصے میں احتجاج کیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز
فلسطینی مظاہرین نے مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ کے حصے میں احتجاج کیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز

اسرائیلی پولیس نے حالیہ مظاہروں کے بعد یروشلم میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کو دیکھنے والی اسلامی اتھارٹی کے سربراہ کو چند گھنٹے زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کردیا۔

خبررساں اداے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کو اسلامک وقف کے ایک سینئر رکن مہدی عبدالہادی کی گرفتاری پر اُردن کی جانب سے شدید مذمت کا سامنا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں مہدی عبدالہادی کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی کہ پڑوسی ملک اردن کی جانب سے تقرر کیے گئے عالم شیخ عبدالعظیم سلحب کو اتوار کی صبح گرفتار کیا گیا۔

جمعہ کو فلسطینی مظاہرین نے مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ کے حصے میں احتجاج کیا تھا جسے 2003 میں اسرائیل نے بند کردیا تھا کیونکہ یہ ایک گھر 'ورثہ سے متعلق تنظیم' کا تھا جس کے مبینہ طور پر داعش سے روابط تھے۔

مزید پڑھیں: فلسطینی بچوں پر اسرائیل کے مہلک ہتھیاروں کے تجربات کا انکشاف

اسرائیلی پولیس کی جانب سے عہدیدار پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے بند حصے میں آنے کی دعوت دے کر حساس جگہ کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

یاد رہے کہ مسجد اقصیٰ کا کمپاؤنڈ مسلمانوں کے لیے تیسری مقدس جگہ ہے جبکہ یہودی اسے اپنی مقدس جگہ کہتے ہیں اور ٹیمپل ماؤنٹ کے طور پر اس کا حوالہ دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کی نہ صرف گرفتاریوں کا عمل جاری ہے بلکہ صہیونی فوج فلسطینیوں پر ظلم و ستم بھی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا فلسطین کی ٹیکس کی مدمیں واجب الادا رقم روکنے کا فیصلہ

اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور شیلنگ سے ہزاروں فلسطینی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ امریکا کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد فلسطینیوں کے احتجاج میں مزید اضافہ ہوا۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مظالم کے خلاف بھی انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور وکلا کی جانب سے آوازیں اٹھائی جاتی رہی ہیں۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ حال ہی میں جامعہ عبرانی یروشلم القدس کی ایک عرب پروفیسر نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل اکثر ہتھیاروں کی طاقت سے متعلق جاننے کے لیے معصوم فلسطینیوں، یہاں تک کہ بچوں پر بھی ان کے تجربات کررہا ہے۔